ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کا پورا نام ابو جہم بن حذیفہ بن غانم بن عامر بن عبد اللہ بن عتبہ بن غانم بن عبد اللہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب العدوی القرشی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو عدی قبیلے سے تھا، جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بھی قبیلہ تھا۔ اسی وجہ سے آپ کو ‘عدوی’ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ‘ابوجہم’ تھی۔ آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی نورِ ایمان سے اپنے دلوں کو منور کر لیا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ حق کو قبول کیا اور اسلام کے ابتدائی پیروکاروں میں شامل ہوئے۔ قریش کی جانب سے مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم اور تشدد سے بچنے کے لیے آپ نے اپنے دین کی خاطر مکہ چھوڑا اور ان صحابہ کرام کے قافلے میں شامل ہوئے جنہوں نے حبشہ (ایتھوپیا) کی طرف دوسری ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت نبوت کے پانچویں سال ہوئی تھی اور اس سے آپ کی اسلام سے غیر متزلزل وابستگی اور قربانی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ حبشہ میں قیام کے بعد، آپ دیگر مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کر کے واپس تشریف لائے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ہی رہے، آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کئی غزوات اور اسلامی فتوحات میں شرکت کی اور اپنی خدمات انجام دیں۔ آپ کے چند نمایاں کارنامے اور خدمات درج ذیل ہیں:
- **لباس کا واقعہ (خمیصہ):** صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ واقعہ تفصیل سے موجود ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہم رضی اللہ عنہ نے شام سے لایا گیا ایک نقش و نگار والا چادر (خمیصہ) ہدیہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز میں استعمال کیا، مگر نماز کے بعد فرمایا: "یہ چادر میرے دل کو نماز میں مشغول کر رہی تھی، یہ ابو جہم کو واپس کر دو اور میرے لیے ابو جہم سے ان کی بغیر نقش و نگار والی انبیجانیہ (ایک قسم کی موٹی چادر) لے آؤ۔” اس سے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خشوع و خضوع کی انتہا کا پتا چلتا ہے، وہیں ابوجہم رضی اللہ عنہ کی سنت سے محبت اور فرمانبرداری بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ نے بغیر کسی تردد کے فوری طور پر عمل کیا۔
- **فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی شادی کا واقعہ:** صحیح مسلم میں آتا ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اپنی عدت کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ طلب کیا کہ وہ کس سے نکاح کریں؟ جب انہوں نے ابو جہم رضی اللہ عنہ کا نام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابوجہم ایسے شخص ہیں جو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نیچے نہیں رکھتے” (لا يضع عصاه عن عاتقه)۔ اس سے مراد یہ تھی کہ وہ بہت سفر کرنے والے یا تیز مزاج شخص ہیں، جو شاید فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طبیعت کے موافق نہ ہوں۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشورہ تھا جو ایک خاص مناسبت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس سے ابوجہم رضی اللہ عنہ کے اخلاقی مقام پر کوئی حرف نہیں آتا، بلکہ یہ آپ کی مصروفیت اور فعال طرز زندگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
- **احادیث کی روایت:** ابوجہم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند احادیث بھی روایت کی ہیں، جن میں مذکورہ بالا لباس کا واقعہ نمایاں ہے۔ آپ کے علم اور تقویٰ کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ایک معتبر راوی تھے۔
- **مشاورت اور رہنمائی:** آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی صحابہ میں سے تھے اور کئی اہم مواقع پر آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہ کر مشاورت اور رہنمائی حاصل کی، جو آپ کے مقام و مرتبہ کی دلیل ہے۔
میراث اور وصال
ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور آپ کی وفات کے سن کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض مؤرخین کے نزدیک آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت تک زندگی گزاری، جبکہ واقدی رحمہ اللہ کے مطابق آپ نے 59 ہجری میں وفات پائی۔ آپ کے وصال کے مقام کے بارے میں بھی حتمی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اپنے پیچھے علم، ایمان اور سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہونے کی ایک عمدہ میراث چھوڑی۔ آپ کو ان صحابہ کرام میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے دین کی خدمت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں اپنی زندگی وقف کر دی۔ آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا بہترین نمونہ تھی۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، باب إذا صلی في ثوب له أعلام، حدیث نمبر 373۔
- صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب المطلقۃ ثلاثا لا نفقۃ لھا، حدیث نمبر 1480۔
- ابن الأثیر، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 6، صفحہ 48-49۔
- ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، جلد 7، صفحہ 200-201۔
- الذہبی، سیر أعلام النبلاء، جلد 2، صفحہ 385-386۔
- ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، جلد 8، صفحہ 138۔
