ابوجعد ضمیری رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت ابوجعد ضمیری رضی اللہ عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے۔ آپ کا اصل نام مختلف روایات میں عمرو بن عبداللہ یا عبداللہ بن عمرو بیان کیا گیا ہے، لیکن آپ اپنی کنیت "ابوجعد” اور اپنے قبیلے کی نسبت سے "الضمری” کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو ضمرہ سے تھا، جو عرب کے مشہور قبیلے کنانہ کی ایک شاخ تھی۔ یہ قبیلہ زمانۂ جاہلیت میں بھی اپنی بہادری اور سادگی کے لیے معروف تھا۔ آپ کی ولادت کے بارے میں کوئی مخصوص تاریخ یا مقام تو دستیاب نہیں، تاہم آپ کا تعلق حجاز کے علاقے سے تھا اور آپ نے مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ابوجعد ضمیری رضی اللہ عنہ نے اپنی جوانی اور ابتدائی زندگی زمانۂ جاہلیت میں گزاری، لیکن جب اسلام کا نور پھیلا تو آپ نے جلد ہی اسے قبول کر لیا۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ حق کو ابتدا میں ہی لبیک کہا۔ آپ کے اسلام قبول کرنے کا کوئی خاص واقعہ تاریخ کی کتابوں میں نمایاں طور پر مذکور نہیں، تاہم آپ کی صحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد یا اس سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ ایمان لانے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر سختی سے کاربند رہے اور ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت ابوجعد ضمیری رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی خدمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت ہے۔ آپ ان صحابہ میں سے تھے جن سے احادیث نبویہ کا ایک ذخیرہ ہم تک پہنچا۔ آپ سے ایک مشہور حدیث مروی ہے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "جو شخص بلا عذر نماز ترک کرتا ہے، اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، تو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوں گے۔” یہ حدیث نماز اور زکوٰۃ کی اہمیت اور ان کے ترک کرنے کے سنگین نتائج کو واضح کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوجعد ضمیری رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہم تعلیمات سننے اور انہیں امت تک پہنچانے کا شرف حاصل تھا۔ اگرچہ آپ کی غزوات میں شرکت یا دیگر سیاسی و عسکری کارناموں کی تفصیلات دیگر صحابہ کرام کی طرح بکثرت نہیں ملتیں، تاہم آپ کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو محفوظ کیا اور انہیں امت کی رہنمائی کے لیے آئندہ نسلوں تک پہنچایا۔ آپ اپنی سادگی، تقویٰ اور دینی استقامت کے لیے جانے جاتے تھے۔
میراث اور وصال
حضرت ابوجعد ضمیری رضی اللہ عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی خلافت راشدہ کا زمانہ دیکھا۔ آپ سے آپ کے صاحبزادے عبداللہ بن ابی جعد نے احادیث روایت کی ہیں۔ آپ کا وصال کب ہوا، اس بارے میں تاریخ میں کوئی حتمی تاریخ درج نہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ آپ نے اسلام کی خدمت کرتے ہوئے زندگی گزاری اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ کی میراث ان احادیث کی صورت میں زندہ ہے جو آپ نے روایت کیں، اور جو آج بھی امت مسلمہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ آپ نے اسلام کے بنیادی ارکان کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی احادیث روایت کر کے امت پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب إثم مانع الزکوٰۃ
- مسند احمد بن حنبل
- الاستیعاب فی معرفة الاصحاب، از ابن عبدالبر
- اسد الغابة فی معرفة الصحابة، از ابن اثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ، از ابن حجر عسقلانی
- طبقات الکبریٰ، از ابن سعد
