ابن ہرمز

خاندانی پس منظر اور لقب

ابو بكر عبد اللہ بن يزيد بن هرمز المدني، جو تاریخِ اسلام میں عموماً ابن ہرمز کے لقب سے جانے جاتے ہیں، مدینہ منورہ کے جلیل القدر فقہاء اور محدثین میں سے تھے۔ ان کا پورا نام عبد اللہ، والد کا نام یزید اور دادا کا نام ہرمز تھا۔ لقب ‘ابن ہرمز’ ان کے دادا کے نام کی نسبت سے مشہور ہوا، جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے۔ یہ لقب اتنا معروف ہوا کہ ان کا اصلی نام اس کے پس پردہ چلا گیا۔ ان کی کنیت ابو بکر تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابن ہرمز مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی، جہاں انہوں نے ایک علمی اور اسلامی ماحول میں آنکھ کھولی۔ چونکہ وہ اسلامی دور میں پیدا ہوئے تھے، ان کا قبولِ اسلام کا معاملہ اس معنی میں نہیں تھا جیسے کسی غیر مسلم کا ہوتا ہے، بلکہ ان کی ابتدائی زندگی ہی مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے سائے میں گزری۔ انہوں نے مدینہ کے اکابر تابعین سے علم حاصل کیا اور کم عمری ہی سے حصول علم کے لیے کمربستہ ہو گئے۔ ان کے اساتذہ میں سعید بن مسیب، سلیمان بن یسار، اعرج اور نافع مولیٰ ابن عمر جیسے جلیل القدر محدثین و فقہاء شامل ہیں۔ ربیعہ الرائے سے بھی ان کے علمی روابط تھے اور بعض روایات کے مطابق ربیعہ نے بھی ان سے استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنی جوانی کا بڑا حصہ علم حدیث، فقہ اور دیگر علوم اسلامیہ کے حصول میں صرف کیا، جس کی بدولت وہ مدینہ کے سرکردہ علماء میں شمار ہونے لگے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ابن ہرمز کا سب سے نمایاں کارنامہ ان کی تدریس اور علمی رہنمائی ہے، جس کے ذریعے انہوں نے علم کی ایک ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی سے بعد کی نسلیں منور ہوئیں۔ ان کے سب سے مشہور شاگرد امام مالک بن انس تھے، جنہوں نے تقریباً تیرہ سے سترہ سال تک ان کی خدمت میں رہ کر علم حاصل کیا۔ امام مالک نے اپنے شیخ ابن ہرمز کے فکری استقلال، فقہی گہرائی اور علم حدیث میں مہارت کو اپنی فقہ کی بنیاد بنایا۔ ابن ہرمز کا طریقہ یہ تھا کہ وہ فتوٰی دینے میں انتہائی محتاط تھے اور کثرت سے فتوے نہیں دیتے تھے، بلکہ اپنے شاگردوں کو پرائیویٹ مجالس میں علم سکھاتے اور ان کی فکری تربیت کرتے تھے۔

وہ اپنی زہد و تقویٰ، ورع اور عبادت گزاری کے لیے بھی معروف تھے۔ انہیں دنیوی مناصب اور جاہ و حشمت سے کوئی رغبت نہ تھی اور وہ اپنا زیادہ وقت علم کے حصول، تدریس اور عبادت میں صرف کرتے تھے۔ ان کے دیگر شاگردوں میں سفیان ثوری، لیث بن سعد اور ابن جریج جیسے ائمہ بھی شامل ہیں۔ مدینہ کی فقہی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے اگلی نسل تک منتقل کرنے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ وہ فقہائے سبعہ کے بعد مدینہ کے فقہ کی اہم کڑی سمجھے جاتے ہیں۔

میراث اور وصال

ابن ہرمز کی سب سے بڑی میراث ان کے شاگرد خصوصاً امام مالک بن انس ہیں، جنہوں نے ان کے علمی افکار اور فقہی منہج کو دنیا بھر میں پھیلایا۔ ان کے علم و فضل اور ان کے شاگردوں کے ذریعے اسلامی فقہ اور حدیث کو جو تقویت ملی، وہ آج بھی موجود ہے۔ وہ مدینہ کے ان چند علماء میں سے تھے جنہوں نے اپنی فکری گہرائی اور اجتہادی بصیرت سے فقہی مسائل کو حل کیا اور اسلامی قانون سازی کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

ابن ہرمز کا وصال تقریباً 148 ہجری (765 عیسوی) کے لگ بھگ مدینہ منورہ میں ہوا۔ بعض روایات میں ان کی وفات 152 ہجری بھی بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے ایک ایسی علمی وراثت چھوڑی جو آج بھی اہل علم کے لیے مشعل راہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایة والنهایة
  • الذہبی، سیر أعلام النبلاء
  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب
  • القاضی عیاض، ترتیب المدارک وتقریب المسالک لمعرفة أعلام مذهب مالک
  • نووی، تہذیب الاسماء واللغات