ابن جریج

خاندانی پس منظر اور لقب

عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج الاموی، جو عموماً "ابن جریج” کے لقب سے مشہور ہیں، مکہ مکرمہ کے عظیم تابعین میں سے تھے۔ ان کی کنیت ابو الولید تھی۔ ان کے دادا جریج اصلاً رومی یا فارسی نسل سے تھے اور بنو امیہ کے ایک فرد عبدالعزیز بن حارث کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے۔ اسی نسبت سے انہیں الاموی کہا گیا۔ ابن جریج 80 یا 81 ہجری (تقریباً 699 یا 700 عیسوی) میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا مکمل نام، کنیت اور لقب آپ کی علمی دنیا میں شناخت بنا۔ آپ ایک ایسے گھرانے میں پروان چڑھے جہاں علم و دین کی گہری قدر کی جاتی تھی۔

ابتدائی زندگی اور طلبِ علم

ابن جریج کی پیدائش ایسے وقت ہوئی جب مکہ مکرمہ اسلامی علوم کا ایک اہم مرکز تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی زندگی اسی علمی ماحول میں بسر کی اور بہت کم عمری میں ہی طلبِ علم کا شوق آپ پر غالب آ گیا۔ آپ نے اپنے زمانے کے جید علماء اور فقہاء سے علم حاصل کیا جن میں سب سے نمایاں نام مشہور تابعی امام عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جن کی صحبت میں آپ نے 18 سال تک کسبِ فیض کیا۔ عطاء بن ابی رباح کے علاوہ آپ نے امام زہری، عمرو بن دینار، نافع (حضرت عبداللہ بن عمر کے مولیٰ)، عکرمہ (حضرت عبداللہ بن عباس کے مولیٰ)، یحییٰ بن سعید الانصاری، اور ہشام بن عروہ جیسے کبار محدثین اور فقہاء سے حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا۔ آپ نے علم حدیث کی تحصیل کے لیے دور دراز کے سفر بھی کیے (رحلة في طلب العلم) اور شام، یمن اور دیگر علاقوں سے احادیث جمع کیں۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ابن جریج کی سب سے بڑی اور نمایاں خدمت یہ ہے کہ انہیں مکہ مکرمہ میں حدیث اور فقہ کی باقاعدہ تدوین (تصنیف) کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے ہی سب سے پہلے حدیث کی باقاعدہ کتاب "المصنف” مرتب کی، جس میں احادیث کو فقہی ابواب کے تحت جمع کیا گیا۔ اس وقت تک احادیث کو سینوں میں محفوظ رکھنے یا متفرق اوراق پر لکھنے کا رواج تھا، لیکن انہیں ایک منظم کتابی شکل دینا ابن جریج کا عظیم کارنامہ تھا۔ آپ کی یہ تدوین بعد کے محدثین کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوئی اور امام مالک، امام سفیان ثوری اور دیگر ائمہ حدیث نے اسی اسلوب کو اپنایا۔
آپ کا علم حدیث، فقہ اور تفسیر میں بہت وسیع تھا اور آپ کو اس وقت مکہ مکرمہ کا فقیہ اور محدث تسلیم کیا جاتا تھا۔ آپ سے امام مالک، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، شعبہ بن الحجاج، عبداللہ بن مبارک، یحییٰ بن سعید القطان اور وکیع بن الجراح جیسے کبار ائمہ نے روایت کی ہے۔
علم حدیث میں آپ کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل نے آپ کو "ثقہ” (قابل اعتماد) اور "صدوق” (سچے) قرار دیا ہے، اگرچہ بعض نے آپ کی تدلیس کے بعض واقعات کی نشاندہی کی ہے، لیکن اس سے آپ کی مجموعی ثقاہت اور امانت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ آپ احادیث کی تدوین میں اتنے مگن رہتے تھے کہ کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی بعض روایات کو اپنی زوجہ سے بھی سن کر قلم بند کیا تھا۔

میراث اور وصال

ابن جریج نے اپنی تمام زندگی علم حدیث اور فقہ کی تدریس اور تدوین میں گزاری۔ آپ نے علم کا ایک عظیم ورثہ چھوڑا جس سے بعد کی کئی نسلوں نے استفادہ کیا۔ آپ کی مرتب کردہ کتاب "المصنف” اگرچہ اپنی اصل شکل میں دستیاب نہیں، لیکن اس کے اجزاء اور روایات بعد کی کتب حدیث جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی اور سنن نسائی وغیرہ میں کثرت سے موجود ہیں۔
آپ کا وصال مکہ مکرمہ میں سن 150 ہجری (767 عیسوی) یا 151 ہجری (768 عیسوی) میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 70 سال کے قریب تھی۔ آپ کی وفات سے عالمِ اسلام ایک عظیم محدث، فقیہ اور مدونِ حدیث سے محروم ہو گیا۔ آپ کو مکہ کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ آپ کی خدمات نے اسلامی علوم کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے اور آپ کو ہمیشہ کے لیے ائمہ حدیث میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، جلد 6، صفحہ 402۔
  • شمس الدین الذہبی، سیر اعلام النبلاء، جلد 6، صفحہ 324-338۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 5، صفحہ 468۔
  • المزی، تہذیب الکمال، جلد 18، صفحہ 338۔
  • ابن کثیر، البدایة والنہایة، جلد 10، صفحہ 108۔