کیا آپ جانتے ہیں؟ ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ روئے زمین کی حیات کی ناگزیر ضمانت

کیا آپ جانتے ہیں؟ — اگر زمین پر اوزون اور کرۂ ہوائی نہ ہوتی تو صرف 10 سیکنڈ میں کیا قیامت برپا ہو جاتی؟

سائنسی نام: Planetary Atmospheric Envelope & Ozone Layer

آسمان یک دم گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتا، سمندر کا پانی چند سیکنڈ میں ابلنے لگتا، انسانی جسم کے کان کے پردے پھٹ جاتے اور سورج کی قاتل شعاعیں زندگی کا نام و نشان مٹا دیتیں

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں اس کا کل وزن 5.5 کواڈریلین ٹن (5,500,000,000,000,000 ٹن) ہے جو ہمارے جسموں پر ہر وقت 1 کلوگرام فی مربع سینٹی میٹر کا حفاظتی دباؤ برقرار رکھتی ہے۔
  • ✦ اگر زمین کا ماحول صرف 10 سیکنڈ کے لیے غائب ہو جائے تو ہوا کے دباؤ کے خاتمے سے دنیا بھر کے تمام انسانوں کے کانوں کے پردے فوری پھٹ جائیں گے اور خون کے اندر بلبلے ابل پڑیں گے۔
  • ✦ دن کی روشنی میں آسمان کا نیلا رنگ ہوا کے مالیکیولز سے روشنی کے بکھراؤ (Rayleigh Scattering) کی وجہ سے ہے؛ اگر ہوا نہ ہو تو دن کے 12 بجے بھی آسمان تاریک کوئلے کی طرح کالا ہو گا جس میں سورج چمک رہا ہو گا۔

ہم جب روزانہ صبح اٹھتے ہیں تو ہوا کا ایک گہرا سانس لیتے ہیں اور نیلے آسمان پر سفید بادلوں کو تیرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہم اس ہوا کو ایک معمولی سی نعمت سمجھتے ہیں جو ہمیشہ سے موجود ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی تصور کیا ہے کہ وہ نادیدہ ہوا جس میں 78 فیصد نائٹروجن اور 21 فیصد آکسیجن کا مرکب ہے، درحقیقت ایک ایسی دیو ہیکل خلائی ڈھال ہے جس نے زمین کو خلا کی خوفناک، قاتل اور منجمد موت سے بچا رکھا ہے؟ اگر یہ کرۂ ہوائی (Atmosphere) صرف 10 سیکنڈ کے لیے غائب ہو جائے تو زمین پر کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی؟

پہلا لمحہ: آسمان کا بلیک آؤٹ اور مکمل خاموشی

ہوا غائب ہوتے ہی سب سے پہلے آسمان کا نیلا رنگ چشم زدن میں کوئلے جیسا گھپ کالا ہو جائے گا۔ سورج اسی طرح چمک رہا ہو گا لیکن پورا آسمان خلا کی طرح تاریک ہو جائے گا اور ستارے دن میں نظر آنے لگیں گے، کیونکہ نیلی روشنی کو بکھیرنے والے گیسوں کے مالیکیولز غائب ہو چکے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا میں مکمل اور ہیبت ناک خاموشی چھا جائے گی، کیونکہ آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لیے ہوا کے میڈیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کے برابر میں دھماکہ بھی ہو تو آپ کو رتی برابر آواز سنائی نہیں دے گی۔

خون کا ابلنا اور انسانی جسم کا انجام

ہمارا جسم سمندر کی سطح پر 14.7 پاؤنڈ فی مربع انچ (1 بار) کے فضائی دباؤ کا عادی ہے۔ جیسے ہی یہ بیرونی دباؤ غائب ہو گا، تمام انسانوں اور جانوروں کے کان کے اندرونی پردے فوری پھٹ جائیں گے۔ پانی کے ابلنے کا نقطہ دباؤ کے خاتمے سے گر کر جسم کے عام درجہ حرارت (37 ڈگری) پر آ جائے گا۔ یعنی انسانوں کے منہ میں تھوک، آنکھوں کے آنسو اور خون کی باریک نالیوں میں مائعات سیکنڈوں میں ابلنے لگیں گے (Ebullism) جس سے جسم سوج کر غبارے جیسا ہو جائے گا۔

«قرآنِ پاک میں سورۃ الانبیاء (آیت 32) میں فرمایا گیا: «اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا، مگر وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔»»

سمندروں کا جوش کھانا اور خلائی تابکاری کا حملہ

زمین کے تمام سمندر، جھیلیں اور دریا ایک ہی وقت میں جوش کھانا شروع کر دیں گے اور بھاپ کے خوفناک طوفان اٹھیں گے۔ فضا میں موجود اوزون (Ozone) کی حفاظتی چادر غائب ہوتے ہی سورج کی انتہائی مہلک بالائے بنفشی (UV-C) اور کائناتی تابکاری بغیر کسی رکاوٹ کے زمین سے ٹکرائے گی جس سے چند سیکنڈ میں ہر زندہ خلیہ جھلس کر راکھ ہونے لگے گا۔ اس کے علاوہ خلا سے روزانہ زمین پر گرنے والے لاکھوں جلتے ہوئے شہابیے (Meteors) جو فضا کی رگڑ سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، وہ سیدھا گولہ بارود کی طرح زمین کی عمارتوں پر برسنا شروع ہو جائیں گے۔ یہ دس سیکنڈ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہوا کا ہر سانس خدا کا کتنا بڑا اور لازوال معجزہ ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: