کیا آپ جانتے ہیں؟ ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ 2022 کے نوبل انعام سے ثابت شدہ اٹل حقیقت

کیا آپ جانتے ہیں؟ — کوانٹم اینٹینگلمنٹ: وہ عمل جسے آئن سٹائن نے «فاصلے پر بھوتیا اثر» قرار دیا تھا!

سائنسی نام: Quantum Entanglement & Non-Locality

دو جڑے ہوئے ذرات کو ایک دوسرے سے کہکشاؤں کے فاصلے پر بھی رکھ دیا جائے، ایک کا رخ بدلنے پر دوسرا اسی لمحے ردِ عمل دکھاتا ہے — چاہے درمیان میں اربوں نوری سال کا فاصلہ ہو

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ البرٹ آئن سٹائن اس سائنسی مظہر پر اتنا پریشان تھے کہ انہوں نے اسے جھٹلانے کے لیے «فاصلے پر پراسرار یا بھوتیا عمل» (Spooky Action at a Distance) کا نام دیا تھا۔
  • ✦ 2022ء کا فزکس کا نوبل انعام ایلین اسپیکٹ، جان کلاؤزر اور اینٹون زیلنگر کو اسی بات کو لیبارٹری میں ناقابلِ تردید طور پر ثابت کرنے پر دیا گیا۔
  • ✦ کوانٹم اینٹینگلمنٹ پر ہی مستقبل کے وہ کوانٹم کمپیوٹرز بن رہے ہیں جو کینسر کی دوائیں سیکنڈوں میں تلاش کر لیں گے اور ایسا انٹرنیٹ جو ہیک ہونا ناممکن ہو گا۔

اگر آپ کے پاس دو جادوئی سکے ہوں اور آپ ایک سکے کو اپنے کمرے میں رکھیں اور دوسرے سکے کو 25 لاکھ نوری سال دور اینڈرومیڈا کہکشاں میں بھیج دیں۔ اب جب آپ اپنے کمرے کے سکے کو اچھالیں اور وہ «ہیڈ» (Head) آئے، تو عین اسی سیکنڈ میں اربوں کلومیٹر دور کہکشاں کا دوسرا سکہ خود بخود گھوم کر «ٹیل» (Tail) ہو جائے — تو کیا آپ اس پر یقین کریں گے؟ روزمرہ کی دنیا میں یہ جادو لگتا ہے، لیکن ایٹموں کی کوانٹم دنیا میں یہ ایک مستند حقیقت ہے جسے «کوانٹم اینٹینگلمنٹ» (Quantum Entanglement) کہا جاتا ہے۔

آئن سٹائن کی الجھن اور ای پی آر پیراڈاکس

جب 1930 کی دہائی میں نیلز بوہر اور کوانٹم فزکس کے ماہرین نے یہ نظریہ پیش کیا تو البرٹ آئن سٹائن نے اس کی شدید مخالفت کی۔ آئن سٹائن کا ماننا تھا کہ کائنات میں کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار (3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ) سے تیز نہیں جا سکتی۔ اگر ایک ذرے کی تبدیلی دوسرے دور دراز ذرے کو روشنی سے پہلے معلوم ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ زمان و مکان (Spacetime) کے بنیادی قوانین ٹوٹ جاتے ہیں۔ آئن سٹائن نے طنزاً کہا: «کیا خدا کائنات کے ساتھ پانسے کھیل رہا ہے؟ یہ تو فاصلے پر بھوتوں جیسا کوئی عمل ہے!»

2022 کا نوبل انعام: آئن سٹائن غلط ثابت ہوئے

دہائیوں تک یہ ایک فلسفیانہ بحث رہی۔ لیکن پھر طبیعیات دانوں نے لیبارٹری میں لیزر بیم کے ذریعے فوٹونز کے جوڑے پیدا کیے۔ انہوں نے ان اینٹینگلڈ ذرات کو آپٹک فائبر اور سیٹلائٹ کے ذریعے سینکڑوں کلومیٹر دور بھیجا۔ جب ایک ذرے کے اسپن (گھماؤ) کی پیمائش کی گئی، تو زمین کے دوسرے کونے پر موجود دوسرا ذرہ ایک نینو سیکنڈ کے وقفے کے بغیر فوراً الٹ حالت میں چلا گیا! 2022ء میں تین عظیم سائنسدانوں کو اس تاریخی تجربے پر فزکس کا نوبل انعام دیا گیا، جس سے ثابت ہو گیا کہ حقیقت کے تار ہماری سوچ سے کہیں زیادہ گہرائی سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

«کوانٹم فزکس یہ بتاتی ہے کہ کائنات میں فاصلہ محض ایک فریبِ نظر (Illusion) ہے؛ گہرائی میں جا کر پوری کائنات کا تانا بانا ایک ہی غیر منقسم اکائی ہے۔»

کوانٹم انٹرنیٹ اور ٹیلی پورٹیشن کا آغاز

یہ صرف کتابی سائنس نہیں ہے بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کا انقلاب ہے۔ سائنسدان اب «کوانٹم ٹیلی پورٹیشن» کے ذریعے معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر کسی تار یا لہر کے آن واحد میں منتقل کر رہے ہیں۔ اس کی بنیاد پر دنیا کا پہلا غیر ہیک ایبل (Unhackable) کوانٹم انٹرنیٹ بنایا جا رہا ہے۔ جہاں کوئی بھی جاسوس ڈیٹا چرا نہیں سکے گا کیونکہ کوانٹم قانون کے مطابق کسی بھی جاسوسی کی کوشش سے دونوں ذرات کا ربط فوری ٹوٹ جاتا ہے اور سسٹم الارم بجا دیتا ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: