کیا آپ جانتے ہیں؟ ⏱️ مطالعہ کا وقت: 4 منٹ قدرتی ہندسیاتی معجزہ

کیا آپ جانتے ہیں؟ — دنیا کا کوئی بھی برف کا گالہ (Snowflake) دوسرے سے مشابہ کیوں نہیں ہوتا؟

سائنسی نام: Hexagonal Ice Crystals (Water Molecular Lattice)

10 کی طاقت 19 مالیکیولز کا انوکھا تال میل — درجہ حرارت اور نمی کی معمولی سی تبدیلی کروڑوں سالوں میں دو ایک جیسے برف کے پھول بننے نہیں دیتی

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ برف کے ہر گالے میں پانی کے تقریباً 10 کی طاقت 19 (یعنی 10 کھرب ضرب 10 ارب) انفرادی مالیکیولز ہوتے ہیں، جن کے آپس میں جڑنے کے اربوں مختلف طریقے ممکن ہیں۔
  • ✦ پانی کے مالیکیول کے اندر ہائیڈروجن اور آکسیجن کا ایٹمی زاویہ 104.5 ڈگری ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر برف کا گالہ ہمیشہ 6 کونوں (مسدس / Hexagonal) پر مشتمل ہوتا ہے، کبھی 5 یا 7 کونوں والا برف کا پھول نہیں بنتا۔
  • ✦ 1885ء میں ولسن بینٹلی نامی ایک امریکی کسان نے مائیکروسکوپ کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار 5,000 برف کے گالوں کی تصاویر لیں اور ثابت کیا کہ کوئی بھی دو گالے ایک جیسے نہیں تھے۔

سردیوں کے موسم میں جب آسمان سے روئی کے گالوں کی طرح برف باری ہوتی ہے تو زمین پر سفید چاندی بچھ جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ ایک سیاہ اونی دستانے پر برف کے ایک ننھے ذرے کو گرنے دیں اور میگنی فائنگ گلاس سے اس کا معائنہ کریں، تو آپ کی زبان سے بے ساختہ سبحان اللہ نکل جائے گا۔ ہیرے کی طرح چمکتا ہوا، مسدس (چھ کونوں والا) انتہائی باریک اور پیچیدہ تراشیدہ پھول نما پیٹرن — جسے سائنسدان «اسنو فلیک» (Snowflake) کہتے ہیں — قدرت کی انفرادی کاریگری کا وہ کمال ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔

چھ کونوں کا الہی ہندسیاتی راز

برف کے تمام گالوں میں چھ کونے کیوں ہوتے ہیں؟ اس کا جواب پانی کے مالیکیول (H2O) کے ایٹمی ڈھانچے میں چھپا ہے۔ جب پانی ٹھنڈا ہو کر مائع سے ٹھوس کرسٹل بنتا ہے تو آکسیجن کا ایک ایٹم ہائیڈروجن کے دو ایٹموں کے ساتھ 104.5 ڈگری کا زاویہ بناتا ہے۔ جب کھربوں مالیکیولز آپس میں جڑتے ہیں تو سب سے مستحکم اور کم توانائی والی شکل مسدس (چھ اضلاع والی) ہی ممکن ہوتی ہے۔ اسی لیے قدرت کبھی چار، پانچ یا آٹھ کونوں والا اسنو فلیک نہیں بناتی بلکہ ہمیشہ چھ شاخوں والا متوازن ستارہ تراشتی ہے۔

دو گالے کبھی ایک جیسے کیوں نہیں ہوتے؟

ہر برف کا گالہ بادل کی بلندی پر دھول یا پولن کے ایک خوردبینی ذرے کے گرد بننا شروع ہوتا ہے۔ جیسے جیسے یہ بادل کے اندر سے نیچے زمین کی طرف گرتا ہے، یہ مختلف ہوائی تہوں، درجہ حرارت، نمی اور ہوا کے جھکڑوں سے گزرتا ہے:

  • اگر درجہ حرارت منفی 2 ڈگری ہو تو پتے جیسی پلیٹس بنتی ہیں۔
  • اگر منفی 5 ڈگری ہو تو لمبی سوئیاں اور کالمی کرسٹلز بنتے ہیں۔
  • منفی 15 ڈگری پر انتہائی خوبصورت اور شاخ در شاخ پرندوں کے پر جیسے پیٹرنز (Dendrites) پھوٹتے ہیں۔

چونکہ ہر ایک گالہ بادل میں گرتے ہوئے بالکل الگ راستے، الگ ہوا کے جھونکے اور الگ نمی کی تاریخ سے گزرتا ہے، اس لیے اس کے مالیکیولز کا باہمی ربط اتنا منفرد ہو جاتا ہے کہ زمین کی پوری تاریخ میں گرنے والے کھربوں ٹن برف میں دو ذرے کبھی بالکل ہو بہو ایک جیسے نہیں بنے!

«برف کا ہر ذرہ بادل کے سفر کا ایک منجمد ارضیاتی روزنامچہ ہے جو اپنے سفر کی مکمل موسمیاتی تاریخ اپنے ڈیزائن میں محفوظ رکھتا ہے۔»

ولسن بینٹلی: برف کے مسافر کی جنونی تحقیق

برف کے گالوں کے اس سحر کو دنیا کے سامنے لانے والا ایک عام امریکی کسان ولسن بینٹلی (Wilson Bentley) تھا جسے لوگ «Snowflake Bentley» کہتے تھے۔ اس نے 1885ء میں سخت سردی میں کیمرے کو مائیکروسکوپ کے ساتھ جوڑ کر اپنی زندگی کے 46 سال منفی درجہ حرارت میں گزارے اور 5,381 برف کے ذروں کی تصاویر کھینچیں۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا: «خالق نے خوبصورتی کا ایک ایسا سمندر بکھیر رکھا ہے جو چند لمحوں بعد پگھل کر فنا ہو جاتا ہے، لیکن اس کا ہر ذرہ ہندسیات کا بے خطا معجزہ ہے۔»

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: