سردیوں کے موسم میں جب آسمان سے روئی کے گالوں کی طرح برف باری ہوتی ہے تو زمین پر سفید چاندی بچھ جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ ایک سیاہ اونی دستانے پر برف کے ایک ننھے ذرے کو گرنے دیں اور میگنی فائنگ گلاس سے اس کا معائنہ کریں، تو آپ کی زبان سے بے ساختہ سبحان اللہ نکل جائے گا۔ ہیرے کی طرح چمکتا ہوا، مسدس (چھ کونوں والا) انتہائی باریک اور پیچیدہ تراشیدہ پھول نما پیٹرن — جسے سائنسدان «اسنو فلیک» (Snowflake) کہتے ہیں — قدرت کی انفرادی کاریگری کا وہ کمال ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔
چھ کونوں کا الہی ہندسیاتی راز
برف کے تمام گالوں میں چھ کونے کیوں ہوتے ہیں؟ اس کا جواب پانی کے مالیکیول (H2O) کے ایٹمی ڈھانچے میں چھپا ہے۔ جب پانی ٹھنڈا ہو کر مائع سے ٹھوس کرسٹل بنتا ہے تو آکسیجن کا ایک ایٹم ہائیڈروجن کے دو ایٹموں کے ساتھ 104.5 ڈگری کا زاویہ بناتا ہے۔ جب کھربوں مالیکیولز آپس میں جڑتے ہیں تو سب سے مستحکم اور کم توانائی والی شکل مسدس (چھ اضلاع والی) ہی ممکن ہوتی ہے۔ اسی لیے قدرت کبھی چار، پانچ یا آٹھ کونوں والا اسنو فلیک نہیں بناتی بلکہ ہمیشہ چھ شاخوں والا متوازن ستارہ تراشتی ہے۔
دو گالے کبھی ایک جیسے کیوں نہیں ہوتے؟
ہر برف کا گالہ بادل کی بلندی پر دھول یا پولن کے ایک خوردبینی ذرے کے گرد بننا شروع ہوتا ہے۔ جیسے جیسے یہ بادل کے اندر سے نیچے زمین کی طرف گرتا ہے، یہ مختلف ہوائی تہوں، درجہ حرارت، نمی اور ہوا کے جھکڑوں سے گزرتا ہے:
- اگر درجہ حرارت منفی 2 ڈگری ہو تو پتے جیسی پلیٹس بنتی ہیں۔
- اگر منفی 5 ڈگری ہو تو لمبی سوئیاں اور کالمی کرسٹلز بنتے ہیں۔
- منفی 15 ڈگری پر انتہائی خوبصورت اور شاخ در شاخ پرندوں کے پر جیسے پیٹرنز (Dendrites) پھوٹتے ہیں۔
چونکہ ہر ایک گالہ بادل میں گرتے ہوئے بالکل الگ راستے، الگ ہوا کے جھونکے اور الگ نمی کی تاریخ سے گزرتا ہے، اس لیے اس کے مالیکیولز کا باہمی ربط اتنا منفرد ہو جاتا ہے کہ زمین کی پوری تاریخ میں گرنے والے کھربوں ٹن برف میں دو ذرے کبھی بالکل ہو بہو ایک جیسے نہیں بنے!
«برف کا ہر ذرہ بادل کے سفر کا ایک منجمد ارضیاتی روزنامچہ ہے جو اپنے سفر کی مکمل موسمیاتی تاریخ اپنے ڈیزائن میں محفوظ رکھتا ہے۔»
ولسن بینٹلی: برف کے مسافر کی جنونی تحقیق
برف کے گالوں کے اس سحر کو دنیا کے سامنے لانے والا ایک عام امریکی کسان ولسن بینٹلی (Wilson Bentley) تھا جسے لوگ «Snowflake Bentley» کہتے تھے۔ اس نے 1885ء میں سخت سردی میں کیمرے کو مائیکروسکوپ کے ساتھ جوڑ کر اپنی زندگی کے 46 سال منفی درجہ حرارت میں گزارے اور 5,381 برف کے ذروں کی تصاویر کھینچیں۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا: «خالق نے خوبصورتی کا ایک ایسا سمندر بکھیر رکھا ہے جو چند لمحوں بعد پگھل کر فنا ہو جاتا ہے، لیکن اس کا ہر ذرہ ہندسیات کا بے خطا معجزہ ہے۔»