کیا آپ جانتے ہیں؟ ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ کائنات کی سب سے پیچیدہ حیاتیاتی مشین

کیا آپ جانتے ہیں؟ — انسانی دماغ میں معلوم کائنات کے تمام ستاروں سے زیادہ اعصابی رابطے ہیں!

سائنسی نام: Human Brain Neuroplasticity & Synapses

اگر آپ کے دماغ کی یادداشت کو کمپیوٹر ہارڈ ڈسک میں بدلا جائے تو یہ 25 لاکھ گیگا بائٹس (2.5 Petabytes) ڈیٹا محفوظ کر سکتی ہے

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ انسانی دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورونز ہوتے ہیں، اور ہر نیورون دوسرے نیورونز کے ساتھ 10,000 تک رابطے بناتا ہے، جس سے دماغ میں 100 کھرب (100 Trillion) سائنیپسس بنتے ہیں جو ملکی وے کہکشاں کے تمام ستاروں سے زیادہ ہیں!
  • ✦ دماغ اگرچہ جسم کے کل وزن کا صرف 2 فیصد ہوتا ہے، لیکن یہ جسم کی کل آکسیجن اور بلڈ شوگر کا 20 فیصد حصہ اکیلے خرچ کر جاتا ہے۔
  • ✦ دماغ کے اندر درد محسوس کرنے والے سینسرز (Pain Receptors) سرے سے ہوتے ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر مریض کو مکمل بیدار رکھ کر اس کی اوپن برین سرجری کر سکتے ہیں اور اسے کوئی درد نہیں ہوتا!

ہم جب کائنات کی وسعتوں کو دیکھتے ہیں تو اربوں کہکشاؤں اور ستاروں کے جال کو دیکھ کر دم بخود رہ جاتے ہیں۔ لیکن علمِ اعصاب (Neuroscience) کا سب سے مسحور کن سچ یہ ہے کہ اس وسیع کائنات کا سب سے پیچیدہ اور ناقابلِ تسخیر اسٹرکچر آسمانوں میں نہیں بلکہ آپ کی کھوپڑی کے اندر محفوظ ہے۔ ڈیڑھ کلو وزنی نرم گودے جیسے انسانی دماغ (Human Brain) کے اندر جو برقی و کیمیائی تانا بانا بنا ہوا ہے، وہ دنیا کے تمام سپر کمپیوٹرز مل کر بھی نقل نہیں کر سکتے۔

100 کھرب سائنیپسس کا جادوئی جال

آپ کے دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورونز (اعصابی خلیات) ہیں۔ ہر ایک نیورون تنہا نہیں رہتا بلکہ وہ تاروں کی طرح اپنے ہاتھ دوسرے خلیات کی طرف پھیلاتا ہے۔ ان باہمی جوڑوں کو «سائنیپسس» (Synapses) کہا جاتا ہے۔ ایک بالغ انسان کے دماغ میں ان رابطوں کی تعداد 100 کھرب سے 500 کھرب کے درمیان ہوتی ہے۔ اس کا موازنہ اس بات سے کریں کہ ہماری پوری ملکی وے کہکشاں میں ستاروں کی کل تعداد صرف 100 سے 400 ارب کے درمیان ہے۔ یعنی آپ کے سر کے اندر پوری کہکشاں کے ستاروں سے سینکڑوں گنا زیادہ چمکتے ہوئے برقی رابطے ہر سیکنڈ میں معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں!

25 لاکھ گیگا بائٹس کی یادداشت

اگر آپ انسانی دماغ کی میموری کو ایک ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائس میں تبدیل کریں تو سائنسی اندازوں کے مطابق یہ تقریباً 2.5 پیٹا بائٹس (یعنی 25 لاکھ گیگا بائٹس) ڈیٹا کے برابر بنتی ہے۔ اتنی میموری میں ہائی ڈیفینیشن (HD) ویڈیو کو مسلسل 300 سال تک چلایا جا سکتا ہے! آپ کے بچپن کی پہلی سالگرہ، پھولوں کی خوشبو، خوف، محبت اور ریاضی کے فارمولے — یہ سب کچھ انہی باریک خلیات کے برقی پیٹرنز میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہتا ہے۔

«دماغ جاگتے ہوئے 20 واٹ بجلی پیدا کرتا ہے، جو ایک مدہم ایل ای ڈی بلب کو روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔»

نیوروپلاسٹی سٹی: دماغ خود کو روزانہ نیا بناتا ہے

پہلے سمجھا جاتا تھا کہ بالغ ہونے کے بعد دماغ کے خلیات فکس ہو جاتے ہیں اور ان میں تبدیلی نہیں آتی۔ لیکن جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ دماغ کے اندر «نیوروپلاسٹی سٹی» (Neuroplasticity) کی حیران کن صلاحیت ہے۔ جب بھی آپ کوئی نیا ہنر سیکھتے ہیں (مثلاً پیانو بجانا، کوئی نئی زبان یا گاڑی چلانا)، آپ کے دماغ کے اندر فزیکل طور پر نئے اعصابی راستے تعمیر ہوتے ہیں اور پرانے کمزور رابطے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ یعنی آپ کا دماغ پتھر کی طرح جامد نہیں بلکہ موم کی طرح لچکدار اور زندہ ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: