ہم جب کائنات کی وسعتوں کو دیکھتے ہیں تو اربوں کہکشاؤں اور ستاروں کے جال کو دیکھ کر دم بخود رہ جاتے ہیں۔ لیکن علمِ اعصاب (Neuroscience) کا سب سے مسحور کن سچ یہ ہے کہ اس وسیع کائنات کا سب سے پیچیدہ اور ناقابلِ تسخیر اسٹرکچر آسمانوں میں نہیں بلکہ آپ کی کھوپڑی کے اندر محفوظ ہے۔ ڈیڑھ کلو وزنی نرم گودے جیسے انسانی دماغ (Human Brain) کے اندر جو برقی و کیمیائی تانا بانا بنا ہوا ہے، وہ دنیا کے تمام سپر کمپیوٹرز مل کر بھی نقل نہیں کر سکتے۔
100 کھرب سائنیپسس کا جادوئی جال
آپ کے دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورونز (اعصابی خلیات) ہیں۔ ہر ایک نیورون تنہا نہیں رہتا بلکہ وہ تاروں کی طرح اپنے ہاتھ دوسرے خلیات کی طرف پھیلاتا ہے۔ ان باہمی جوڑوں کو «سائنیپسس» (Synapses) کہا جاتا ہے۔ ایک بالغ انسان کے دماغ میں ان رابطوں کی تعداد 100 کھرب سے 500 کھرب کے درمیان ہوتی ہے۔ اس کا موازنہ اس بات سے کریں کہ ہماری پوری ملکی وے کہکشاں میں ستاروں کی کل تعداد صرف 100 سے 400 ارب کے درمیان ہے۔ یعنی آپ کے سر کے اندر پوری کہکشاں کے ستاروں سے سینکڑوں گنا زیادہ چمکتے ہوئے برقی رابطے ہر سیکنڈ میں معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں!
25 لاکھ گیگا بائٹس کی یادداشت
اگر آپ انسانی دماغ کی میموری کو ایک ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائس میں تبدیل کریں تو سائنسی اندازوں کے مطابق یہ تقریباً 2.5 پیٹا بائٹس (یعنی 25 لاکھ گیگا بائٹس) ڈیٹا کے برابر بنتی ہے۔ اتنی میموری میں ہائی ڈیفینیشن (HD) ویڈیو کو مسلسل 300 سال تک چلایا جا سکتا ہے! آپ کے بچپن کی پہلی سالگرہ، پھولوں کی خوشبو، خوف، محبت اور ریاضی کے فارمولے — یہ سب کچھ انہی باریک خلیات کے برقی پیٹرنز میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہتا ہے۔
«دماغ جاگتے ہوئے 20 واٹ بجلی پیدا کرتا ہے، جو ایک مدہم ایل ای ڈی بلب کو روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔»
نیوروپلاسٹی سٹی: دماغ خود کو روزانہ نیا بناتا ہے
پہلے سمجھا جاتا تھا کہ بالغ ہونے کے بعد دماغ کے خلیات فکس ہو جاتے ہیں اور ان میں تبدیلی نہیں آتی۔ لیکن جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ دماغ کے اندر «نیوروپلاسٹی سٹی» (Neuroplasticity) کی حیران کن صلاحیت ہے۔ جب بھی آپ کوئی نیا ہنر سیکھتے ہیں (مثلاً پیانو بجانا، کوئی نئی زبان یا گاڑی چلانا)، آپ کے دماغ کے اندر فزیکل طور پر نئے اعصابی راستے تعمیر ہوتے ہیں اور پرانے کمزور رابطے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ یعنی آپ کا دماغ پتھر کی طرح جامد نہیں بلکہ موم کی طرح لچکدار اور زندہ ہے۔