جب کالی گھٹائیں آسمان کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں اور اندھیرے میں آسمانی بجلی کی سفید دراڑ فضا کو چیرتی ہوئی زمین پر لپکتی ہے تو اس کا خوفناک حسن دل دہلا دیتا ہے۔ قدیم انسان اسے آسمانی غضب سمجھتا تھا، لیکن جدید ایٹموسفیرک فزکس نے جب اس برقی کڑاکے کی طاقت کا معائنہ کیا تو پتا چلا کہ آسمانی بجلی کا ایک عام کڑاکا سورج کے دہکتے ہوئے گولے سے بھی زیادہ گرم اور طاقتور ہوتا ہے۔
سورج کی سطح سے 5 گنا زیادہ حرارت
ہمارے سورج کی بیرونی نظر آنے والی سطح (Photosphere) کا درجہ حرارت تقریباً 5,500 ڈگری سینٹی گریڈ (9,932 ڈگری فارن ہائیٹ) ہوتا ہے۔ لیکن جب آسمانی بجلی بادلوں سے زمین کی طرف فائر ہوتی ہے تو سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے دوران جس ہوا کے راستے سے وہ گزرتی ہے اس کا درجہ حرارت اچانک 30,000 ڈگری سینٹی گریڈ (53,540 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ جاتا ہے! یہ سورج کی سطح سے 5 گنا زیادہ تپش ہے جو ہوا کے ایٹمز کو پلازما میں بدل دیتی ہے۔
کڑک (Thunder) کی اصل حقیقت کیا ہے؟
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کڑک بادلوں کے آپس میں ٹکرانے کی آواز ہے۔ سائنسی حقیقت یہ ہے کہ جب 30,000 ڈگری کی بجلی ہوا سے گزرتی ہے تو اس راستے کی ہوا روشنی کی رفتار سے پھیلتی ہے اور پھر اتنی ہی تیزی سے سکڑتی ہے۔ ہوا کا یہ اچانک اور شدید ترین تھرمل ایکسپینشن ایک زبردست سپرسونک شاک ویو (Shockwave) پیدا کرتا ہے جو ہمارے کانوں تک گھن گرج کی صورت میں پہنچتی ہے۔
"زمین پر اس وقت بھی مختلف خطوں میں بیک وقت تقریباً 2000 گرج چمک کے طوفان چل رہے ہیں اور ہر سیکنڈ میں 100 مرتبہ آسمانی بجلی زمین پر گرتی ہے۔"
1 ارب وولٹ کی بے پناہ برقی طاقت
آسمانی بجلی کی ایک عام لکیر میں تقریباً 30 کروڑ سے 1 ارب وولٹ کرنٹ ہوتا ہے اور اس کی ایمپیرج 30,000 ایمپیئر تک پہنچتی ہے (گھریلو بجلی صرف 220 وولٹ اور 15 ایمپیئر ہوتی ہے)۔ یہ اتنی توانائی ہے کہ ایک بجلی کے کڑاکے سے 100 واٹ کا ایک بلب مسلسل 3 ماہ تک روشن رکھا جا سکتا ہے۔ بجلی اگر ریتلے ساحل پر گرے تو ریت اس کی 30,000 ڈگری کی حرارت سے پگھل کر شیشے کی ایک کھوکھلی نالی بن جاتی ہے جسے ارضیات میں "فلگورائٹ" (Fulgurite یا پیٹریفائیڈ لائٹننگ) کہا جاتا ہے۔