بکیر بن اشج

خاندانی پس منظر اور لقب

ابو عبد اللہ بکیر بن اشج قرشی مخزومی، مدنی ثم مصری رحمۃ اللہ علیہ، تابعین کے ایک جلیل القدر اور عظیم محدث، فقیہ اور مفسر تھے۔ آپ کا تعلق بنو مخزوم قریش کے آزاد کردہ غلاموں (موالی) سے تھا، اسی نسبت سے آپ کو مخزومی مولاھم کہا جاتا ہے۔ آپ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، جہاں آپ نے علمی پرورش پائی، اور بعد ازاں مصر منتقل ہو گئے جہاں آپ نے حدیث اور فقہ کے علوم کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کو ثقہ (قابلِ اعتماد)، امام، فقیہ اور عابد کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور علمی پرورش

بکیر بن اشج کی ولادت تقریباً 60 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ نے اس مبارک دور میں آنکھ کھولی جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد زندہ تھی اور تابعین کی صفیں علم کے حصول میں مشغول تھیں۔ آپ نے مدینہ کے علمی ماحول میں پرورش پائی اور اپنی ابتدائی عمر سے ہی علمِ دین کی طرف مائل ہوئے۔ آپ نے بے شمار جلیل القدر صحابہ کرام اور کبار تابعین سے علمِ حدیث اور فقہ حاصل کیا۔ آپ کے اساتذہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، نافع مولیٰ ابن عمر، قاسم بن محمد بن ابی بکر، ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سلیمان بن یسار، اور دیگر کثیر اساتذہ شامل ہیں۔ آپ نے ان اساتذہ سے قرآن، حدیث اور فقہ کا گہرا علم حاصل کیا اور ان کے علوم کو اپنی یادداشت میں محفوظ کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

بکیر بن اشج رحمۃ اللہ علیہ کا شمار مدینہ منورہ کے ان جلیل القدر علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے حدیث، فقہ اور تفسیر کے علوم کی ترویج میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ آپ نہ صرف ایک ثقہ محدث تھے بلکہ ایک گہرے فقیہ اور مفسر بھی تھے۔ آپ کی حدیثی روایات کو تمام ائمہ حدیث نے تسلیم کیا اور ان پر اعتماد کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے آپ کے بارے میں فرمایا: "بکیر بن اشج مدینہ کے علماء اور فقہاء میں سے تھے” (كان بكير بن الأشج من علماء المدينة وفقهائها)۔ آپ کے شاگردوں میں لیث بن سعد، امام مالک، سفیان ثوری، عبد اللہ بن وہب، یحییٰ بن سعید انصاری جیسے بڑے ائمہ شامل ہیں۔ آپ کا ایک اہم کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ مدینہ سے مصر منتقل ہوئے اور وہاں علمِ حدیث و فقہ کا ایک مضبوط مرکز قائم کیا۔ مصر میں آپ نے کثیر تعداد میں طلباء کو تعلیم دی اور آپ کے ذریعے حدیث و سنت کا علم مصر اور شمالی افریقہ کے دیگر علاقوں تک پھیلا۔ آپ نے سنتِ نبوی کو محفوظ رکھنے اور اسے آئندہ نسلوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

میراث اور وصال

بکیر بن اشج رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تمام زندگی علمِ دین کی خدمت میں گزاری۔ آپ نے سینکڑوں احادیث روایت کیں، اور آپ کی روایات صحاح ستہ سمیت دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔ آپ نے ایک عظیم علمی میراث چھوڑی جو آج بھی اسلامی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کے شاگردوں نے آپ کے علوم کو دنیا بھر میں پھیلایا اور یوں آپ کا علمی فیض جاری رہا۔ آپ کا وصال اکثر مؤرخین کے نزدیک 122 ہجری میں مصر میں ہوا۔ بعض روایات میں 127 یا 128 ہجری بھی مذکور ہے، لیکن 122 ہجری کی روایت زیادہ مستند مانی جاتی ہے۔ آپ کی وفات سے عالمِ اسلام ایک عظیم محدث، فقیہ اور امام سے محروم ہو گیا، لیکن آپ کا علمی ورثہ قیامت تک باقی رہے گا۔

مستند حوالہ جات

  • الذهبي، شمس الدين. سير أعلام النبلاء. مؤسسة الرسالة.
  • المزي، يوسف بن الزكي. تهذيب الكمال في أسماء الرجال. مؤسسة الرسالة.
  • ابن حجر العسقلاني، أحمد بن علي. تقريب التهذيب. دار الرشيد.
  • ابن كثير، إسماعيل بن عمر. البداية والنهاية. دار هجر.
  • الذهبي، شمس الدين. تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام. دار الغرب الإسلامي.