بسر بن ابی ارطاہ
خاندانی پس منظر اور لقب
بسر بن ابی ارطاہ کا پورا نام بسر بن ابی ارطاہ عمیر بن عویمر بن عمران بن حوذر بن نصر بن بلال بن حرب بن قریش تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو عامر بن لؤی قبیلے سے تھا۔ آپ کا لقب ‘ابو عبداللہ’ یا ‘ابو عبدالرحمن’ بیان کیا جاتا ہے۔ آپ کو اپنی بہادری، شجاعت اور عسکری مہارت کی بنا پر ایک جری اور بہادر جنگجو کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
بسر بن ابی ارطاہ نے فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ ان صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی اور آپ ﷺ کے ساتھ کئی غزوات اور مہمات میں شرکت کی۔ آپ نے غزوہ خندق، صلح حدیبیہ، اور فتح مکہ جیسے اہم واقعات میں حصہ لیا۔ آپ نے ابتدائی اسلامی فتوحات میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ خاص طور پر شام کی فتوحات اور مصر کی فتح میں، جہاں آپ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ماتحت جنگ لڑی، آپ کی بہادری اور عسکری مہارت مسلم تھی۔ آپ کو ایک نڈر سپاہی اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل شخص کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
بسر بن ابی ارطاہ نے خلافت راشدہ کے دوران بھی اسلامی افواج کے ساتھ کئی اہم معرکوں میں حصہ لیا۔ آپ کی عسکری صلاحیتیں بے مثال تھیں اور آپ کو ایک نڈر اور تجربہ کار سپہ سالار سمجھا جاتا تھا۔
تاہم، آپ کی زندگی کا سب سے زیادہ متنازع اور اہم حصہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی جنگ (پہلی فتنہ) کے دوران سامنے آیا۔ آپ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا اور ان کے ایک اہم کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ سن 40 ہجری میں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ابی ارطاہ کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ حجاز، یمن اور دیگر علاقوں میں روانہ کیا تاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں کو زیر کیا جا سکے۔
اس مہم کے دوران، بسر بن ابی ارطاہ نے مدینہ منورہ میں داخل ہو کر وہاں کے لوگوں سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت لی۔ بعض روایات کے مطابق، اس دوران انہوں نے سختی سے کام لیا اور کچھ لوگوں کو، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامی تھے، قتل بھی کیا۔ اس کے بعد وہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں بھی یہی عمل دہرایا۔ پھر آپ یمن کی جانب بڑھے۔ یمن میں ان کا سامنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والی، عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوا، جو آپ کے یمن پہنچنے سے پہلے ہی کوفہ واپس چلے گئے تھے۔ یمن میں بسر بن ابی ارطاہ نے عبید اللہ بن عباس کے دو کمسن بیٹوں، عبدالرحمن اور قثم، کو پکڑ کر شہید کر دیا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کے بہت دکھ بھرے اور متنازع واقعات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے نجران، حضرموت اور دیگر علاقوں میں بھی کارروائیاں کیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بیعتیں حاصل کیں۔ ان مہمات میں بسر بن ابی ارطاہ نے حالات کی نزاکت اور فتنہ کے تقاضوں کے پیش نظر انتہائی سختی اور بعض اوقات بے رحمی کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے انہیں تاریخ میں ایک خاص متنازع شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ طبری اور ابن کثیر جیسے مؤرخین نے ان واقعات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
میراث اور وصال
بسر بن ابی ارطاہ کی وفات کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ بعض کے مطابق آپ کی وفات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوئی، جبکہ کچھ کے مطابق ان کی وفات 60 ہجری کے بعد ہوئی۔ آپ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ دمشق یا مدینہ میں گزارا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری حصے میں آپ کو بڑھاپے کی وجہ سے ذہنی عارضہ لاحق ہو گیا تھا، اور آپ دعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی عقل کو سلب کر لے۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس حالت میں وہ اپنے ماضی کے اعمال پر پریشان رہتے تھے۔ آپ کی تاریخ وفات کے بارے میں مختلف آراء ہیں لیکن زیادہ تر مؤرخین 50 سے 60 ہجری کے درمیان کا ذکر کرتے ہیں۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ
- طبری، تاریخ الامم والملوک (تاریخ طبری)
- ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ
- امام ذہبی، سیر اعلام النبلاء
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
