برید بن عبد اللہ بن ابی بردہ

خاندانی پس منظر اور لقب

برید بن عبد اللہ بن ابی بردہ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار تابعین کے جلیل القدر علماء، محدثین اور فقہاء میں ہوتا ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب معروف صحابیِ رسول ﷺ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کا مکمل نام برید بن عبد اللہ بن ابی بردہ بن ابو موسیٰ اشعری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صحابیِ رسول حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔ یہ خاندانی شرافت اور علمی و عملی میراث آپ کو ورثے میں ملی۔ آپ کا تعلق یمن کے معزز قبیلے بنو اشعر سے تھا، اور اس بنا پر آپ کو اشعری کہا جاتا ہے۔ آپ کوفہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔

ابتدائی زندگی اور تربیت

برید بن عبد اللہ رحمہ اللہ کی ولادت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جو علم، تقویٰ اور حدیثِ رسول ﷺ کی خدمت سے معمور تھا۔ آپ نے اپنی آنکھیں علم کے گہوارے میں کھولیں جہاں آپ کے دادا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی، آپ کے والد عبد اللہ بن ابی بردہ اور آپ کے چچا ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری جیسے نامور تابعین موجود تھے۔ آپ کی ابتدائی تربیت اسی ماحول میں ہوئی جہاں قرآن، سنت اور فقہ کا درس عام تھا۔ آپ نے بچپن سے ہی علم کی طرف توجہ کی اور اپنے بزرگوں سے استفادہ کیا۔ کوفہ، جو کہ اس وقت علم کا ایک بڑا مرکز تھا، آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ وہیں گزرا اور آپ نے اسی علمی مرکز میں حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے اپنے دادا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے براہِ راست روایت سنی، اگرچہ آپ کی عمر اس وقت کم تھی، اور اپنے والد و چچا سے بھی کثیر علم حاصل کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

برید بن عبد اللہ رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی علمِ حدیث اور فقہ کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کا شمار کوفہ کے ثقہ (قابل اعتماد) محدثین اور فقہاء میں ہوتا ہے۔

  • **علمِ حدیث میں مقام:** آپ حدیثِ رسول ﷺ کے ثقہ راویوں میں سے تھے، اور محدثین نے آپ کی روایات کو اعلیٰ درجے میں قبول کیا ہے۔ آپ نے اپنے دادا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (جو مشہور صحابی ہیں)، سعید بن مسیب، ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری (آپ کے چچا)، اور دوسرے کئی کبار تابعین سے حدیث روایت کی ہے۔ آپ کی مرویات کتبِ ستہ (صحاحِ ستہ) میں بکثرت موجود ہیں۔ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابو داؤد اور امام ابن ماجہ رحمہم اللہ نے اپنی کتب میں آپ سے روایات نقل کی ہیں۔ محدثین نے آپ کی توثیق کی ہے اور آپ کو ثقہ و ثبت قرار دیا ہے۔
  • **فقہی بصیرت:** حدیث کے ساتھ ساتھ آپ فقہی بصیرت بھی رکھتے تھے۔ آپ کوفہ کے ان فقہاء میں سے تھے جن کی آراء کو اہمیت دی جاتی تھی۔ آپ نے مختلف مسائل میں شرعی رہنمائی فراہم کی اور اجتہادی صلاحیت کے حامل تھے۔
  • **اساتذہ اور تلامذہ:** آپ کے اساتذہ میں کبار صحابہ کرام اور تابعین عظام شامل تھے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ آپ کے شاگردوں کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن میں امام سفیان ثوری، امام شعبہ بن حجاج، امام مالک بن انس (اگرچہ بالواسطہ)، حماد بن سلمہ، فضیل بن عیاض اور کئی دیگر معروف ائمہ شامل ہیں، جنہوں نے آپ سے علمِ حدیث حاصل کیا اور اسے آگے منتقل کیا۔ یہ آپ کی علمی عظمت اور وسیع تاثیر کی دلیل ہے۔
  • **علمی مجلسیں:** آپ کی علمی مجلسیں قائم رہتی تھیں جہاں لوگ دور دور سے آپ سے حدیث سننے اور مسائل پوچھنے آتے تھے۔ آپ نے سنت کی حفاظت اور اس کی نشر و اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جس سے امت مسلمہ ہمیشہ فیض یاب ہوتی رہے گی۔

میراث اور وصال

برید بن عبد اللہ رحمہ اللہ کی علمی میراث بہت وسیع اور پائیدار ہے۔ آپ نے اپنی روایات اور فقہی آراء کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے علم کا ایک گہرا ذخیرہ چھوڑا۔ آپ کی نقل کردہ احادیث آج بھی اسلامی شریعت کے بنیادی ماخذ میں شامل ہیں اور ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ آپ نے دین کی خدمت میں اپنی پوری زندگی صرف کر دی اور ایک عظیم محدث اور فقیہ کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ آپ کا علم اور آپ کی ثقاہت آج بھی اہل علم کے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔

آپ کا وصال تقریباً 115 ہجری سے 120 ہجری کے درمیان ہوا، اگرچہ بعض مؤرخین نے اس سے کچھ بعد کا سال بھی ذکر کیا ہے۔ آپ نے ایک عمر تک علمِ دین کی خدمت کی اور بالآخر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کے انتقال سے اسلامی دنیا ایک عظیم علمی ستارے سے محروم ہو گئی، لیکن آپ کا چھوڑا ہوا علمی ورثہ آج بھی تابندہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیر أعلام النبلاء از امام ذہبی
  • تہذیب الکمال از امام مزی
  • تاریخ الإسلام از امام ذہبی
  • جامع الترمذی (کتاب العلل)
  • صحیح مسلم (مقدمہ)
  • طبقات ابن سعد
  • تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی