برید بن ابی مریم سلولی

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت برید بن ابی مریم سلولی، جن کی مکمل کنیت ابو شراحیل تھی، کا شمار ممتاز تابعین میں ہوتا ہے۔ ان کا پورا نام برید بن ابی مریم ابو شراحیل السلولي تھا۔ ‘السلولي’ کا تعلق بنو سلول قبیلے سے تھا، جو عرب کے مشہور قبیلے ہوازن کی ایک شاخ تھی۔ یہ قبیلہ اپنی فصاحت و بلاغت اور علمی رجحانات کے لیے جانا جاتا تھا۔ برید کوفہ سے تعلق رکھتے تھے، جو اُس وقت علمِ حدیث کا ایک عظیم مرکز تھا۔ ان کا زمانہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے جب صحابہ کرام کی تعلیمات کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کا فریضہ تابعین انجام دے رہے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

برید بن ابی مریم ایسے دور میں پیدا ہوئے جب اسلامی ریاست کی بنیادیں مضبوط ہو چکی تھیں اور علم کا فروغ عروج پر تھا۔ چونکہ وہ تابعین میں سے تھے، اس لیے ان کی پیدائش اسلامی گھرانے میں ہوئی تھی اور انہیں قبولِ اسلام کے عمل سے گزرنا نہیں پڑا۔ ان کی ابتدائی زندگی کوفہ کے علمی ماحول میں گزری، جہاں انہوں نے کئی صحابہ کرام اور کبار تابعین کی صحبت اختیار کی۔ اس شہر کی مساجد اور علمی مجالس میں وقت گزار کر انہوں نے دین کا گہرا علم حاصل کیا۔ حدیث کی تحصیل ان کی زندگی کا بنیادی مقصد بنی، اور انہوں نے اپنے زمانے کے جید علماء سے احادیث کو سنا اور محفوظ کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت برید بن ابی مریم کا سب سے نمایاں کارنامہ حدیثِ نبوی کی ترویج اور حفاظت تھا۔ وہ ایک ثقہ (قابلِ اعتماد) اور فاضل راوی تھے، جن کی روایات کو محدثین نے بڑے احترام کے ساتھ قبول کیا۔ انہوں نے کئی جلیل القدر صحابہ کرام سے احادیث روایت کیں یا ان کے شاگردوں سے علم حاصل کیا۔ ان کے اساتذہ میں حضرت انس بن مالک، حضرت ابو موسیٰ اشعری کے بیٹے ابو بردہ بن ابی موسیٰ اشعری، اور قاضی شریح بن حارث جیسے اکابر شامل ہیں۔
ان کی علمی خدمات کا اعتراف اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابوداؤد، امام نسائی اور امام ابن ماجہ جیسی کتبِ صحاح ستہ میں ان کی روایات موجود ہیں۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ محدثین نے ان کی روایات پر کتنا اعتماد کیا۔
برید بن ابی مریم سے علم حاصل کرنے والے مشہور شاگردوں میں شعبہ بن حجاج، سفیان ثوری، مسعر بن کدام اور ابو عوانہ جیسے بڑے ائمہ شامل تھے۔ یہ تمام حضرات اپنے زمانے کے معروف محدثین تھے جنہوں نے برید بن ابی مریم کے علمی ورثے کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی احادیث کے درس و تدریس اور نقلِ روایت میں گزاری، جس کی وجہ سے وہ امت مسلمہ کے لیے ایک گراں قدر علمی میراث چھوڑ گئے۔

میراث اور وصال

حضرت برید بن ابی مریم سلولی نے ایک بھرپور علمی زندگی گزاری اور دینِ اسلام کی بے مثال خدمات انجام دیں۔ ان کا وصال سن 130 ہجری کے لگ بھگ یا اس کے بعد کے کچھ سالوں میں ہوا، بعض روایات میں سن 133 یا 136 ہجری کا بھی ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کوفہ میں گزارا جہاں وہ حدیث کے ایک مستند مرکز کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی وفات سے عالمِ اسلام ایک عظیم محدث اور عالم سے محروم ہو گیا، لیکن ان کی علمی میراث زندہ رہی۔
ان کی سب سے بڑی میراث وہ ہزاروں احادیث ہیں جو انہوں نے اپنے اساتذہ سے سن کر اپنے شاگردوں تک پہنچائیں، اور آج بھی یہ روایات حدیث کی مستند کتابوں میں موجود ہیں اور امت مسلمہ کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ انہوں نے حدیث کے علم کو بعد کی نسلوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور ان کی دیانت، ثقاہت اور علمیت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

مستند حوالہ جات

  • الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد. (1985). سير أعلام النبلاء. (طبعة 3). بيروت: مؤسسة الرسالة.
  • المزي، يوسف بن الزكي عبد الرحمن. (1980). تهذيب الكمال في أسماء الرجال. (طبعة 1). بيروت: مؤسسة الرسالة.
  • ابن حجر العسقلاني، أحمد بن علي. (1995). تقريب التهذيب. (طبعة 1). دمشق: دار الرشيد.
  • ابن سعد، محمد بن سعد. (1990). الطبقات الكبرى. (طبعة 1). بيروت: دار الكتب العلمية.
  • ابن كثير، إسماعيل بن عمر. (1988). البداية والنهاية. (طبعة 1). بيروت: دار إحياء التراث العربي.
  • ابن الأثير، عز الدين أبو الحسن علي بن محمد. (1994). جامع الأصول في أحاديث الرسول. (طبعة 1). بيروت: دار الفكر.
  • الصاحبين: البخاري، محمد بن إسماعيل. (1997). صحيح البخاري. (طبعة 1). دمشق: دار ابن كثير.
  • مسلم، مسلم بن الحجاج. (2000). صحيح مسلم. (طبعة 1). بيروت: دار إحياء التراث العربي.