اویس قرنی
خاندانی پس منظر اور لقب
اویس قرنی کا پورا نام اویس بن عامر بن جزء بن مالک المُرادی القَرَنِی الیمنیٰ ہے۔ آپ یمن کے قبیلہ قَرَن سے تعلق رکھتے تھے، جو قبیلہ مُراد کی ایک شاخ تھی۔ آپ کے نام کے ساتھ "قرنی” اسی قبیلے کی نسبت سے منسلک ہوا۔ آپ کی کنیت ابو عمرو اور بقول بعض ابو المغیث تھی۔ اسلامی تاریخ میں آپ کو "سید التابعین” (تابعين کے سردار) اور "خیر التابعین” (تابعين میں سب سے بہترین) کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ القابات اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کا شمار تابعین کے عظیم ترین بزرگوں میں ہوتا ہے، باوجود اس کے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں اسلام قبول کیا لیکن شرفِ صحابیت حاصل نہ کر سکے۔ آپ کے والد عامر بن جزء کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں، البتہ آپ کی والدہ ماجدہ کا ذکر آپ کی حیاتِ مبارکہ میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جن کی خدمت گزاری آپ کی عظمت کا ایک بنیادی سبب بنی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ یمن میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ آپ کا زمانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ تھا، اور آپ نے آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ تاہم، اپنی ضعیف اور بیمار والدہ کی خدمت گزاری اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی شدید مشغولیت کی وجہ سے آپ کو مدینہ منورہ کا سفر کرنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ یہ آپ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ہے جو انہیں صحابی کے بجائے تابعی کے درجے پر فائز کرتا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے انتہائی زاہدانہ اور پرہیزگارانہ زندگی بسر کی اور دنیاوی آلائشوں سے خود کو مکمل طور پر دور رکھا۔ آپ کی ابتدائی زندگی غربت اور عسرت میں گزری، لیکن آپ نے کبھی دنیا کی طرف رغبت نہیں کی۔ آپ کا ایمان و تقویٰ اور اللہ تعالیٰ سے گہرا تعلق آپ کی زندگی کا جوہر تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو آپ کے وجود اور آپ کی عظمت کے بارے میں پیشگی خبر دی تھی، جس سے آپ کے غیر معمولی مقام و مرتبے کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ پیشین گوئی دراصل آپ کی والدہ کی غیر معمولی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں آپ کی کامل یکسوئی کا ثمر تھی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے نمایاں کارناموں میں سب سے اہم آپ کی والدہ کی بے مثال خدمت ہے۔ اس خدمت گزاری کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود اس کے کہ آپ سے ملاقات نہیں کی تھی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو آپ کے متعلق آگاہ فرمایا اور انہیں ہدایت کی کہ جب ان سے ملاقات ہو تو ان سے اپنے لیے دعا کروائیں۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "تمہارے پاس ایک شخص یمن سے آئے گا، جس کا نام اویس ہو گا، وہ یمن میں صرف اپنی ماں کو چھوڑ کر آیا ہو گا (یعنی اس کی والدہ کے سوا کوئی زندہ نہ ہو گا)۔ اسے برص کی بیماری تھی، پھر وہ ٹھیک ہو گیا سوائے ایک درہم کے برابر جگہ کے۔ اس کے پاس ایک اونٹ ہے جسے وہ رات کو پالا کرتا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی اس سے ملنے پائے تو وہ اس سے اپنے لیے مغفرت طلب کروائے۔”
آپ کی دیگر نمایاں خدمات اور صفات درج ذیل ہیں:
- **زہد و تقویٰ:** آپ دنیاوی آسائشوں سے مکمل کنارہ کش رہے اور اپنی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر اور اطاعت میں گزاری۔ آپ نے شہرت اور لوگوں کی نظروں سے بچنے کی کوشش کی۔
- **انکساری اور سادگی:** آپ کا لباس نہایت سادہ ہوتا تھا اور اکثر لوگ آپ کو دنیاوی اعتبار سے حقیر سمجھتے تھے، مگر آپ نے کبھی اپنی حقیقت ظاہر نہیں کی اور تواضع کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔
- **دعاؤں کی قبولیت:** نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کی روشنی میں آپ کی دعاؤں کی قبولیت کا خاص مقام تھا۔ صحابہ کرام نے آپ سے دعا کی درخواست کی۔
- **جہاد میں شرکت:** بعض روایات کے مطابق، آپ نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں کوفہ کی طرف ہجرت کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگِ صفین (37 ہجری) میں شرکت کی، اور وہیں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ یہ آپ کی حق کی نصرت اور اہل بیت سے محبت کا عملی ثبوت تھا۔
میراث اور وصال
اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی سب سے بڑی میراث آپ کا غیر معمولی روحانی مقام اور والدہ کی اطاعت و خدمت کا عملی نمونہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں حج کے موقع پر آپ کی تلاش میں رہے اور بالاخر آپ کو پایا۔ آپ نے ان سے اپنی مغفرت کے لیے دعا کی درخواست کی اور اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بھی آپ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بھی آپ سے دعا کروائی۔ یہ واقعہ آپ کے بلند روحانی درجے کی تصدیق کرتا ہے۔
آپ کی زندگی صوفیانہ اور روحانی حلقوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہی ہے۔ بہت سے صوفی سلاسل آپ کو اپنے روحانی مشائخ میں شمار کرتے ہیں اور آپ کے زہد، تقویٰ اور اللہ سے تعلق کو اپنی تعلیمات کا حصہ بناتے ہیں۔ آپ نے براہ راست کسی ظاہری شیخ سے علم حاصل نہیں کیا تھا بلکہ آپ کا علم الہامی اور لدنی تھا، جس نے بعد کے صوفیانہ فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
آپ کا وصال 37 ہجری میں جنگ صفین کے دوران شہادت کی صورت میں ہوا۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں شمولیت اختیار کی اور لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اس طرح آپ نے اپنی زندگی کا اختتام ایک غازی اور شہید کی حیثیت سے کیا، اور اللہ کے راستے میں اپنی جان قربان کر کے بلند ترین مقام حاصل کیا۔ آپ کی تدفین کے مقام کے بارے میں مختلف آراء ہیں، تاہم یہ بات متفق علیہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی ہمیشہ گمنامی میں گزاری اور وصال بھی اسی سادگی اور گمنامی میں ہوا۔ آپ کی حیات طیبہ آنے والی نسلوں کے لیے تقویٰ، زہد، اور والدین کی خدمت کا بہترین نمونہ ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل اویس قرنی رضی اللہ عنہ
- البدایہ و النہایہ از ابن کثیر، جلد 7، باب فضائل اویس القرنی
- سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی، جلد 4، ترجمہ اویس القرنی
- حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء از ابو نعیم الاصفہانی، جلد 2، ذکر اویس القرنی
- تاریخ طبری از محمد بن جریر الطبری، جلد 5، ذکر احوال اویس القرنی و شہادتہ فی صفین
- مستدرک علی الصحیحین از امام حاکم، جلد 3، کتاب معرفۃ الصحابہ
