انس بن سیرین

خاندانی پس منظر اور لقب

انس بن سیرین، ایک جلیل القدر تابعی، محدث اور فقیہ تھے۔ ان کا مکمل نام انس بن سیرین اور کنیت ابو حمزہ تھی۔ وہ بصرہ کے ایک علمی، دیندار اور متقی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد کا نام سیرین تھا، جو مشہور صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام (مولٰی) تھے۔ سیرین کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عین التمر (عراق) کی فتح کے دوران قیدی بنایا تھا اور وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئے تھے۔ حضرت انس نے بعد ازاں انہیں آزاد کر دیا تھا۔ سیرین نے اسلام قبول کیا اور اپنی پرہیزگاری، تقویٰ اور نیکی کی وجہ سے پہچانے گئے۔

انس بن سیرین کی والدہ کا نام صفیہ تھا اور وہ بھی ایک نیک خاتون تھیں۔ انس بن سیرین ایک ایسے گھرانے میں پروان چڑھے جہاں علم، عبادت اور زہد کی حکمرانی تھی۔ ان کے بھائیوں میں مشہور محدث، فقیہ اور تعبیر الرؤیا کے امام محمد بن سیرین، اور معبد بن سیرین شامل تھے۔ ان کی بہن حفصہ بنت سیرین بھی اپنے وقت کی عظیم عالمہ اور محدثہ تھیں۔ یہ پورا خاندان علم، تقویٰ اور زہد میں اپنی مثال آپ تھا۔ انس بن سیرین کو ان کے سرپرست حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے نام پر ‘انس’ کا نام دیا گیا تھا، جس سے اس خاندان کی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے گہری عقیدت اور نسبت کا اظہار ہوتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

انس بن سیرین کی ولادت بصرہ میں ہوئی، غالباً خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں۔ چونکہ وہ مسلمان والدین کے گھر پیدا ہوئے، اس لیے انہیں پیدائشی مسلمان ہونے کا شرف حاصل تھا۔ انہوں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں قرآن و حدیث کی تعلیمات عام تھیں اور دینداری کی فضا ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔
بچپن سے ہی ان کو دین کی تعلیمات سے روشناس کرایا گیا، اور اپنے بھائی محمد بن سیرین اور بہن حفصہ کی طرح انہوں نے بھی علم حدیث، فقہ اور تفسیر میں گہری بصیرت حاصل کی۔ بصرہ اس وقت اسلامی علوم کا ایک اہم مرکز تھا، اور انس بن سیرین نے اس علمی ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے براہ راست علم حاصل کیا اور ان کی صحبت میں رہ کر دین کا گہرا فہم حاصل کیا۔ انہوں نے صحابہ کرام کی زندگیوں کو قریب سے دیکھا اور ان کے اقوال و افعال سے رہنمائی حاصل کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

انس بن سیرین کا شمار بصرہ کے کبار تابعین اور ثقہ محدثین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے علم حدیث کے حصول، حفاظت اور اس کی اشاعت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ حدیث کے راویوں میں انتہائی قابل اعتماد (ثقہ) سمجھے جاتے تھے اور ان کی روایات کو محدثین نے بلا جھجک قبول کیا۔

  • **اساتذہ اور شیوخ:** انہوں نے کثیر صحابہ کرام سے حدیث روایت کی، جن میں خاص طور پر ان کے سرپرست حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل القدر صحابہ و تابعین شامل ہیں۔
  • **تلامذہ:** ان سے علم حاصل کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد تھی، جن میں ان کے بھائی محمد بن سیرین، مشہور تابعی قتادہ بن دعامہ السدوسی، ایوب السختیانی، یونس بن عبید، خالد الحذاء، اشعث بن عبدالملک اور دیگر کئی جلیل القدر ائمہ و محدثین شامل ہیں۔
  • **علمی مقام:** ائمہ جرح و تعدیل جیسے یحییٰ بن معین، ابو حاتم رازی اور نسائی نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ وہ حدیث کی روایت میں اپنی مضبوط حافظے اور انتہائی احتیاط کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی روایات صحیحین (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور سنن کی کتب میں کثرت سے موجود ہیں، جو ان کے علمی مقام کی بین دلیل ہیں۔
  • **تقویٰ اور زہد:** اپنے خاندان کی طرح، انس بن سیرین بھی اپنی دینداری، عبادت گزاری اور دنیا سے بے رغبتی (زہد) کے لیے مشہور تھے۔ وہ ایک متقی، پرہیزگار اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے بندے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو علم دین کی خدمت اور اشاعت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کی زندگی دوسروں کے لیے ایک بہترین نمونہ تھی۔

میراث اور وصال

انس بن سیرین نے ایک طویل علمی زندگی گزاری اور اپنی وفات تک علم دین کی خدمت کرتے رہے۔ ان کا وصال بصرہ میں سنہ 118 ہجری میں ہوا، بعض روایات میں 120 ہجری یا 121 ہجری بھی مذکور ہے۔
ان کی سب سے بڑی میراث احادیث نبوی کی حفاظت اور ان کی اگلی نسل تک منتقلی ہے۔ وہ ان جلیل القدر تابعین میں سے تھے جنہوں نے صحابہ کرام سے براہ راست احادیث کو سنا، حفظ کیا اور پھر پوری امانت داری اور احتیاط کے ساتھ اپنے شاگردوں تک پہنچایا۔ ان کی روایت کردہ احادیث آج بھی اسلامی علم کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کی روایات کے ذریعے امت مسلمہ تک رسول اللہ ﷺ کی سنت کا ایک بڑا حصہ پہنچا۔
اگرچہ وہ اپنے بھائی محمد بن سیرین کی شہرت کے مقابلے میں قدرے کم معروف ہیں، لیکن ان کا علمی اور دینی مقام مسلم ہے۔ انہوں نے اسلامی علم اور روحانیت کی شمع کو روشن رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا خاندان مجموعی طور پر اسلامی تاریخ کے ان گنت روشن ستاروں میں سے ایک ہے، جس نے علم، عمل اور تقویٰ کی لازوال مثالیں قائم کیں۔

مستند حوالہ جات

  • سير أعلام النبلاء للذهبي، ج 5، ص 257-258.
  • تہذیب الکمال فی اسماء الرجال للمزی، ج 3، ص 368-372.
  • التاریخ الکبیر للبخاری، ج 1، ص 373.
  • تاریخ الاسلام للذهبی، حوادث سنة 111-120 هـ، ص 347.
  • حلية الأولياء وطبقات الأصفياء لأبی نعیم الأصفہانی، ج 2، ص 267.
  • الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم، ج 2، ص 291-292.
  • تہذیب التہذیب لابن حجر العسقلاني، ج 1، ص 372.