الحکم بن عتیبہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت الحکم بن عتیبہ بن النہاس الکندی، کوفہ کے جلیل القدر تابعین، فقہاء اور محدثین میں سے ایک تھے۔ آپ کا تعلق یمن کے مشہور قبیلہ کندہ سے تھا، جو بعد میں کوفہ میں آباد ہوا۔ آپ کی پیدائش تقریباً 60 ہجری (بمطابق 679-680 عیسوی) میں کوفہ میں ہوئی۔ آپ کا پورا نام الحکم بن عتیبہ تھا اور اسی نام سے آپ علم و فضل کی دنیا میں مشہور ہوئے۔ آپ کوفہ کے ان نمایاں علماء میں سے تھے جنھوں نے حدیث اور فقہ کے علوم کو پختگی بخشی۔
ابتدائی زندگی اور علمی تحصیل
الحکم بن عتیبہ کی پیدائش ایک ایسے دور میں ہوئی جب کوفہ اسلامی علوم کا ایک عظیم مرکز بن چکا تھا۔ آپ نے بچپن سے ہی علم دین کے حصول میں گہری دلچسپی لی۔ چونکہ آپ تابعین میں سے تھے، اس لیے آپ کو براہ راست کبار صحابہ کرام اور جلیل القدر تابعین سے علم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ آپ نے متعدد صحابہ کرام مثلاً حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی۔ آپ نے کبار تابعین جیسے سعید بن جبیر، مجاہد، ابراہیم نخعی، ابوصالح ذکوان السمان، اور دیگر کئی اساتذہ سے علم حدیث، تفسیر اور فقہ کا گہرا مطالعہ کیا۔ آپ کی علمی پیاس اور جستجو غیر معمولی تھی، جس کی بدولت آپ نے کم عمری میں ہی علم کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ آپ کی ذہانت، قوتِ حافظہ اور فقہی بصیرت نے آپ کو اپنے معاصرین میں ممتاز کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
الحکم بن عتیبہ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کا شمار کوفہ کے ان سات عظیم فقہاء میں ہوتا تھا جو اپنے علم، فہم اور تقویٰ کے باعث مرجع خلائق تھے۔ آپ حدیث اور فقہ دونوں میں یکتا تھے۔
- **حدیث کی تدریس و روایت:** آپ نے بے شمار احادیث روایت کیں اور آپ کی روایات صحاح ستہ سمیت متعدد کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ سب نے آپ سے روایت لی ہے۔ آپ ثقہ، ثبت اور کثیر الحدیث راویوں میں سے تھے، اور محدثین آپ کی صداقت اور حفظ پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔
- **فقہی بصیرت:** آپ کوفہ کے بڑے فقہاء میں سے تھے اور فتویٰ دینے میں مہارت رکھتے تھے۔ آپ کی فقہی آراء کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ابتدائی اساتذہ میں سے آپ کا شمار ہوتا تھا۔
- **تلامذہ:** آپ کے علمی حلقوں سے بے شمار جلیل القدر علماء نے استفادہ کیا، جن میں سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج، منصور بن معتمر، مسعر بن کدام اور ابو اسحاق الشیبانی جیسے ائمہ حدیث شامل ہیں۔ آپ کے شاگردوں نے آپ کے علم کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔
- **عبادت و تقویٰ:** علم کے ساتھ ساتھ آپ زہد، تقویٰ اور عبادت گزاری میں بھی نمایاں تھے۔ آپ دنیاوی آلائشوں سے بے نیاز ایک صالح اور پرہیزگار انسان تھے، جس کی تصدیق دیگر ائمہ نے بھی کی ہے۔
- **ائمہ کی رائے:** امام احمد بن حنبل نے آپ کو "ثقہ” (قابل اعتماد) قرار دیا۔ یحییٰ بن معین، ابو زرعہ، اور دیگر ائمہ جرح و تعدیل نے آپ کی توثیق کی۔ ابن سعد نے اپنی طبقات میں آپ کو "ثقہ، کثیر الحدیث” (قابل اعتماد، کثیر روایات والے) لکھا ہے۔
میراث اور وصال
الحکم بن عتیبہ کا وصال تقریباً 113 ہجری (بمطابق 731-732 عیسوی) میں کوفہ ہی میں ہوا۔ آپ نے ایک بھرپور علمی زندگی گزاری اور اپنی وفات تک علم و تدریس میں مصروف رہے۔ آپ کی علمی میراث آج بھی احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہے اور فقہ اسلامی کے اصول و فروع میں آپ کی آراء کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ آپ نے کوفہ کے علمی دبستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور ایسی نسلیں تیار کیں جنہوں نے بعد میں اسلامی علوم کو چار دانگ عالم میں پھیلایا۔ آپ کی خدمات اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔
مستند حوالہ جات
- الطبقات الکبریٰ از ابن سعد
- تاریخ الاسلام از ذہبی
- سیر اعلام النبلاء از ذہبی
- تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- تہذیب الکمال از مزی
