ابو مسلم خولانی
خاندانی پس منظر اور لقب
ابو مسلم خولانی، جن کا اصل نام عبداللہ بن ثوب تھا، عظیم تابعی اور شام کے جلیل القدر اولیاء و زاہدین میں سے تھے۔ آپ کی کنیت "ابو مسلم” تھی، اور اسی کنیت سے آپ زیادہ مشہور ہوئے۔ آپ کا تعلق یمن کے مشہور قبیلہ خولان سے تھا، اسی نسبت سے آپ "خولانی” کہلائے۔ آپ کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تقویٰ، زہد اور اللہ کی راہ میں استقامت کے لیے وقف کر دی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کی زندگی یمن میں گزاری۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا، لیکن چونکہ آپ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست ملاقات نہ ہو سکی، اس لیے آپ کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے۔ آپ کے قبولِ اسلام کا واقعہ نہایت ہی غیر معمولی اور آپ کی ایمانی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جب یمن میں جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کا فتنہ عروج پر تھا، تو ابو مسلم خولانی کو مسیلمہ کذاب کے دربار میں پیش کیا گیا، جہاں مسیلمہ نے آپ سے اپنی جھوٹی نبوت کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔ ابو مسلم خولانی نے سختی سے انکار کر دیا اور بے باکی سے کہا: "میں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں۔” اس جواب پر مسیلمہ کذاب غضبناک ہوا اور اس نے حکم دیا کہ ابو مسلم خولانی کو آگ میں ڈال دیا جائے۔
لوگوں نے ایک بڑی آگ روشن کی اور ابو مسلم کو اس میں پھینک دیا، لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم سے آگ ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی، بالکل اسی طرح جیسے اللہ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔ یہ عظیم معجزہ (کرامت) دیکھ کر مسیلمہ کے ساتھیوں نے اسے وہاں سے نکالنے کا حکم دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اگر یہ شخص تم میں رہا تو تمہارے ماننے والوں کو گمراہ کر دے گا۔ اس واقعے کے بعد آپ یمن سے ہجرت کر کے شام تشریف لے گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہ واقعہ آپ کی ایمانی قوت اور اللہ پر کامل توکل کا ایک لازوال نمونہ ہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابو مسلم خولانی اپنی غیر معمولی تقویٰ، زہد اور کثرتِ عبادت کے لیے مشہور تھے۔ آپ کی پوری زندگی پرہیزگاری اور دنیاوی لذتوں سے بے رغبتی کا عملی نمونہ تھی۔ آپ راتوں کو قیام اللیل کرتے، دن کو اکثر روزے رکھتے اور ہر وقت اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ آپ کو دنیاوی مال و متاع سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور ہمیشہ سادگی کی زندگی بسر کی۔
آپ حق بات کہنے میں کبھی ہچکچاتے نہ تھے، یہاں تک کہ اموی حکمرانوں کے سامنے بھی بلا خوف و خطر نصیحت کرتے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے لے کر عبدالملک بن مروان تک، کئی خلفاء اور حکمرانوں نے آپ کا احترام کیا اور آپ سے روحانی اور دینی معاملات میں مشورے طلب کیے۔ آپ کے اقوال حکمت اور دانائی سے بھرپور ہوتے تھے اور لوگ آپ کی باتوں سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ آپ شام کے لوگوں کے لیے ایک روحانی رہنما اور مرجع کی حیثیت رکھتے تھے اور بہت سے لوگ آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔
آپ صرف ایک زاہد ہی نہیں تھے بلکہ ایک سچے مومن تھے جو اللہ کی راہ میں استقامت پر قائم رہے۔ آپ کی کرامات اور فضائل کا ذکر کتب سیر و تواریخ میں بکثرت ملتا ہے۔
میراث اور وصال
ابو مسلم خولانی نے ایک طویل عمر پائی اور اپنی پوری زندگی اللہ کی اطاعت اور دین کی خدمت میں گزاری۔ آپ کا وصال مختلف روایات کے مطابق 62 ہجری یا 80 ہجری کے درمیان شام میں ہوا۔ آپ کی وفات کا سال عام طور پر 80 ہجری بھی بیان کیا جاتا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے عبدالملک بن مروان کے دورِ حکومت کا بھی کافی حصہ پایا۔
ابو مسلم خولانی کی میراث ان کی سیرتِ طیبہ ہے جو آج بھی مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ کا واقعہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ اور اس میں اللہ کی قدرت کا ظہور، ایمان کی مضبوطی اور اللہ پر توکل کی ایک بے مثال مثال ہے۔ آپ کو ان بزرگوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ‘اولیاء اللہ’ تھے اور جن کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور جن سے کرامات ظاہر ہوتی تھیں۔ آپ کی زندگی اہل ایمان کے لیے ثابت قدمی، زہد اور تقویٰ کی ایک روشن علامت ہے۔
مستند حوالہ جات
- تاریخ طبری (Tarikh al-Tabari)
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر (Al-Bidayah wa al-Nihayah by Ibn Kathir)
- سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی (Siyar A’lam al-Nubala by Imam Dhahabi)
- تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی (Tahdhib al-Tahdhib by Ibn Hajar al-Asqalani)
- حلیۃ الاولیاء از ابو نعیم اصفہانی (Hilyat al-Awliya by Abu Nu’aym al-Isfahani)
