ابو طلحہ اسدی
خاندانی پس منظر اور لقب
ابو طلحہ اسدی کے نام سے آپ جس عظیم صحابی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تاریخ اسلام میں ان کا مشہور نام زید بن سہل انصاری ہے جو ابو طلحہ انصاری کے نام سے زیادہ معروف ہیں۔ ممکن ہے "اسدی” کا لاحقہ کسی غلط فہمی پر مبنی ہو، کیونکہ ان کا تعلق مدینہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، اور وہ انصار میں سے تھے۔ ان کا مکمل نام زید بن سہل بن الاسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار الانصاری الخزرجی تھا۔ ان کی کنیت "ابو طلحہ” ان کے بیٹے طلحہ کے نام پر پڑی، جو ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ان کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ ایک طویل قامت، گندمی رنگت کے اور طاقتور جسم کے مالک تھے۔ ان کا شمار مدینہ کے نامور اور مالدار افراد میں ہوتا تھا۔ ان کی اہلیہ مشہور صحابیہ ام سلیم بنت ملحان تھیں، جو صحابی رسول انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
زمانہ جاہلیت میں ابو طلحہ انصاری اپنی بہادری، شجاعت اور خصوصاً بہترین تیر انداز کے طور پر مشہور تھے۔ مدینہ کے اشراف میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ان کا قبولِ اسلام ہے جو ان کی اہلیہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی دعوت پر ہوا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا تھا اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا۔ جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے دوبارہ نکاح کی خواہش ظاہر کی (اس وقت وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے)، تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: "اے ابو طلحہ! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جن کی تم پوجا کرتے ہو، وہ پتھر ہیں جو نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم لکڑی کے ایسے بت کی پوجا کرتے ہو جسے فلاں نجار نے تراشا ہے؟ اگر تم اسلام قبول کر لو تو میرا مہر یہی ہوگا۔” ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو تعجب کیا اور ان کے دل میں اسلام کی حقانیت بیٹھ گئی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ مہر تاریخ اسلام میں ایک بے مثال واقعہ ہے جو ان کی ایمانی بصیرت اور دعوتِ دین کے جذبے کو نمایاں کرتا ہے۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد دین کے سچے شیدائی بن گئے اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اللہ کی راہ میں وقف کر دیں۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دین اسلام کی خدمت میں گزارا۔ ان کے نمایاں کارنامے اور خدمات درج ذیل ہیں:
- جہاد میں شرکت: انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام اہم غزوات میں شرکت کی، جن میں غزوہ بدر، احد، خندق، حدیبیہ، فتح مکہ، حنین اور تبوک شامل ہیں۔ وہ اپنی شجاعت اور تیر اندازی کے لیے بہت مشہور تھے۔
- غزوہ احد میں استقامت: غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو عارضی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور کفار نے رسول اللہ ﷺ کو گھیر لیا، تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ان چند صحابہ میں سے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے گرد ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے اپنی کمان سے اتنے تیر چلائے کہ ان کی کمان تین بار ٹوٹی۔ رسول اللہ ﷺ ان کی تیر اندازی سے خوش ہو کر فرماتے تھے: "اپنی کمان کھینچو، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں!” وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے جسم سے آپ ﷺ کو تیروں سے بچاتے رہے۔
- سخاوت اور ایثار: ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے امیر ترین لوگوں میں سے تھے اور ان کا ایک بہت خوبصورت باغ تھا جس کا نام "بئر حاء” (بیرؤ حا) تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے سامنے تھا اور انہیں تمام اموال میں سب سے زیادہ پیارا تھا۔ جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی: "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ” (آل عمران: 92) (تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو)، تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فوراً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرا سب سے پسندیدہ مال بئر حاء کا باغ ہے، میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، آپ جہاں مناسب سمجھیں اسے خرچ کریں۔” رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: "یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے، میں اسے تمہارے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کی رائے دیتا ہوں۔” چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔
- خدمتِ نبوی: وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین صحابہ میں سے تھے اور رسول اللہ ﷺ اکثر ان کے گھر تشریف لے جاتے۔ وہ آپ ﷺ کے رضاعی ماموں کے بیٹے بھی تھے کیونکہ آپ ﷺ نے انس بن مالک کی والدہ (ابو طلحہ کی زوجہ) ام سلیم سے دودھ پیا تھا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ، جو کہ ان کے بھانجے تھے، بچپن سے ہی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہے۔
- صوم و صلاۃ: ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نفلی روزے رکھنے کے بھی بہت پابند تھے اور تہجد گزار تھے۔
میراث اور وصال
ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی دین کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی انہوں نے دین کی خدمت جاری رکھی اور خلفائے راشدین کے دور میں بھی جہاد میں حصہ لیتے رہے۔ ان کا انتقال خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا (بعض روایات کے مطابق 31 ہجری، جبکہ بعض دیگر میں 34 ہجری کا ذکر ہے)۔ وہ ایک بحری جہاد پر تھے۔ دورانِ سفر ان کی طبیعت ناساز ہوئی اور بحری سفر میں ہی ان کا وصال ہو گیا۔ چونکہ جہاز سمندر میں تھا اور کوئی خشکی قریب نہ تھی، ان کے رفقاء نے ان کے جسدِ مبارک کو سات دن تک محفوظ رکھا اور اس دوران ان کے جسم سے خوشبو آتی رہی۔ بالآخر جب خشکی ملی، تو انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات کے وقت ان کی عمر 70 سال کے لگ بھگ تھی۔
ان کی زندگی اسلام کے لیے فداکاری، سخاوت، شجاعت اور ثابت قدمی کی روشن مثال ہے۔ ان کا نام تاریخ اسلام میں بہادر مجاہدین اور سخی صحابہ کرام کی فہرست میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ان کا واقعہ بئر حاء امت مسلمہ کے لیے صدقہ و خیرات اور اللہ کی راہ میں محبوب ترین چیز کو قربان کرنے کی بہترین ترغیب فراہم کرتا ہے۔
مستند حوالہ جات
- القرآن الکریم (سورۃ آل عمران: 92)
- صحیح بخاری (کتاب التفسیر، کتاب المغازی، کتاب الزکوٰۃ)
- صحیح مسلم (کتاب فضائل الصحابہ)
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبد البر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر
- الطبقات الکبری لابن سعد
- البدایہ والنہایہ لابن کثیر
- تاریخ الرسل والملوک لطبری
