ابن کثیر مکی
خاندانی پس منظر اور لقب
عبد اللہ بن کثیر الداری المکی، جنہیں عموماً "ابن کثیر مکی” کے نام سے جانا جاتا ہے، اسلامی تاریخ کے ایک عظیم قاری اور تابعین میں سے تھے۔ آپ کا پورا نام عبد اللہ بن کثیر بن عمرو بن عبد اللہ بن زاذان بن فیروز الداری المکی ہے۔ آپ کی کنیت ابو معبد تھی۔ آپ کا تعلق بنو الدار کے موالی سے تھا، بعض روایات کے مطابق آپ کا خاندان فارسی الاصل تھا۔ "الداری” کا لقب آپ کو دراز بن حازم کی نسبت سے ملا جو بنو الدار کے موالی میں سے تھے، یا یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک قبیلے کا نام ہے۔ "مکی” کا لقب اس لیے استعمال ہوتا ہے کہ آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، وہیں پروان چڑھے اور تاحیات وہیں کے قراء کے امام رہے۔ آپ قراء سبعہ (سات بڑے قاریوں) میں سے ایک ہیں اور آپ کی قراءت آج بھی اسلامی دنیا کے ایک وسیع حصے میں رائج ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابن کثیر مکی کی ولادت مکہ مکرمہ میں سن 45 ہجری (تقریباً 665 عیسوی) میں ہوئی، جو دور صحابہ کرام کے اختتام اور تابعین کے عروج کا زمانہ تھا۔ آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کبار تابعین کا زمانہ پایا اور ان سے علم حاصل کیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر مکہ مکرمہ میں حاصل کی۔ آپ نے بہت کم عمری میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور اس کی قراءت و تجوید میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وقت کے جید علماء سے رجوع کیا۔
قراءت کے علم میں آپ کے سب سے نمایاں اساتذہ میں عبد اللہ بن السائب المخزومی رضی اللہ عنہ شامل ہیں، جنہوں نے حضرت ابی بن کعب اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما سے قراءت سیکھی تھی۔ آپ نے مشہور تابعی، مفسر اور نحوی مجاہد بن جبر رحمہ اللہ سے بھی قراءت کا علم حاصل کیا، جنہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پڑھا تھا (جنہوں نے حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے سیکھا تھا)۔ اس کے علاوہ، آپ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام دربارس بن حجاز سے بھی قراءت کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے انس بن مالک، عبد اللہ بن زبیر، ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث بھی روایت کی ہیں۔ آپ کا تعلق اہلِ مکہ سے تھا اور اس اعتبار سے آپ کو مکہ مکرمہ کی قراءت کا امام تسلیم کیا گیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابن کثیر مکی کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ قرآن مجید کی قراءت کا علم ہے، جس میں آپ نے امامت کا درجہ حاصل کیا۔
- امامتِ قراءتِ مکہ: آپ مکہ مکرمہ میں قراءت کے سب سے بڑے اور معتبر امام تسلیم کیے جاتے تھے۔ آپ کی قراءت کو اہل مکہ نے قبول کیا اور اسی کو مستند گردانا۔
- قراء سبعہ میں شمولیت: آپ ان سات عظیم قاریوں (قراء سبعہ) میں سے ایک ہیں جن کی قراءات کو امت نے تواتر کے ساتھ قبول کیا اور جو آج بھی اسلامی دنیا میں متداول ہیں۔ آپ کی قراءت کی سند رسول اللہ ﷺ تک انتہائی صحیح اور معتبر طریقوں سے پہنچتی ہے۔
- تدریس اور نشرِ علم: آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ قرآن مجید کی تعلیم و تدریس میں صرف کیا۔ آپ نے مکہ مکرمہ میں بے شمار طلباء کو قراءت کا علم سکھایا، جن میں سے کئی خود اپنے دور کے بڑے قاری بنے۔
- نامور شاگرد: آپ کے شاگردوں میں اسماعیل بن قسطنطین، شبل بن عباد، سفیان بن عیینہ (مشہور محدث)، ایوب السختیانی، عبد اللہ بن ابی اسحاق اور خاص طور پر وہ دو راوی جن کے ذریعے آپ کی قراءت آج ہم تک پہنچی ہے، البزی اور قنبل شامل ہیں۔
- علم حدیث میں مقام: اگرچہ آپ کی بنیادی شہرت قراءت میں ہے، لیکن آپ علم حدیث میں بھی معتبر راویوں میں سے تھے اور ثقہ مانے جاتے تھے۔ آپ نے کئی جلیل القدر صحابہ کرام سے احادیث روایت کیں۔
- علم و تقویٰ: ابن کثیر مکی اپنی علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ اپنے تقویٰ، پرہیزگاری اور دنیا سے بے رغبتی کے لیے بھی مشہور تھے۔ آپ کی پوری زندگی قرآن کی خدمت اور اشاعت کے لیے وقف تھی۔
میراث اور وصال
ابن کثیر مکی نے 120 ہجری (تقریباً 738 عیسوی) میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ آپ نے اپنی زندگی میں جو علمی خدمات انجام دیں، وہ آج بھی امت کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپ کی سب سے بڑی میراث آپ کی قراءت ہے، جسے "قراءت ابن کثیر” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ قراءت آج بھی کئی اسلامی ممالک، خاص طور پر شمالی افریقہ کے کچھ علاقوں اور دیگر حصوں میں وسیع پیمانے پر پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے۔ آپ کی قراءت کا شمار قرآن مجید کی ان متواتر قراءات میں ہوتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہیں۔
آپ نے قرآن کے حفظ، تجوید اور قراءت کے علم کو منظم کرنے اور اسے اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کا نام ہمیشہ قرآن کے عظیم خادموں اور قاریوں میں روشن رہے گا۔ آپ کا وصال اسلامی علمی حلقوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان تھا، لیکن آپ کی علمی خدمات اور میراث نے آپ کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔
مستند حوالہ جات
- الذہبی، شمس الدین۔ معرفۃ القراء الکبار علی الطبقات والاعصار۔
- ابن الجزری، شمس الدین۔ غایۃ النھایۃ فی طبقات القراء۔
- الذہبی، شمس الدین۔ سیر اعلام النبلاء۔
- الخطیب البغدادی، ابو بکر احمد بن علی۔ تاریخ بغداد۔
- ابن حجر العسقلانی، شہاب الدین۔ تہذیب التہذیب۔
