ابن ابی ملیکہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کا مکمل نام عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ تیمی قرشی مدنی تھا۔ آپ کی کنیت ابو بکر تھی۔ آپ قریش کے بنو تیم قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا۔ آپ کے دادا ابو ملیکہ، عبد اللہ بن جدعان تیمی کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے۔ یہ عبد اللہ بن جدعان قریش کے سرکردہ سرداروں میں سے تھے۔ ابن ابی ملیکہ کے والد، عبید اللہ بن ابی ملیکہ بھی ایک معزز شخصیت تھے۔ آپ کا خاندان علم و فضل اور تقویٰ میں مشہور تھا۔ ابن ابی ملیکہ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی اور وہیں پر پرورش پائی۔ آپ کا تعلق ان تابعین سے ہے جنہوں نے کئی جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا زمانہ پایا اور ان سے علم حاصل کیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کی ولادت تقریباً 30 سے 40 ہجری کے درمیان ہوئی، یعنی آپ نے خلفائے راشدین کے دور کے آخر یا اس کے بعد کا زمانہ دیکھا۔ آپ ایک جلیل القدر تابعی تھے، جنہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد سے ملاقات کی اور ان سے براہ راست تعلیم حاصل کی۔ روایات کے مطابق، آپ نے تقریباً تیس صحابہ کرام کو دیکھا اور ان سے احادیث روایت کیں۔ ان صحابہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ، ام المؤمنین حضرت ام سلمہ، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص، حضرت معاویہ بن ابی سفیان، حضرت انس بن مالک، حضرت ابو ہریرہ اور دیگر کبار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں۔ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت مکہ مکرمہ میں ہوئی، جہاں آپ نے قرآن، حدیث اور فقہ کا گہرا علم حاصل کیا۔ آپ خاص طور پر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قریب تھے اور ان کے دور خلافت میں مکہ مکرمہ کے قاضی (جج) اور کاتب (سیکریٹری) کے فرائض بھی انجام دیے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے اسلامی علوم کی ترویج میں بے مثال خدمات انجام دیں۔

  • حدیث کی روایت: آپ حدیث کے کبار راویوں میں سے تھے اور آپ کو ثقہ (قابل اعتماد) اور حافظ (حدیث کو حفظ کرنے والے) محدثین میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ کی روایت کردہ احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ جیسی کتبِ ستہ (حدیث کی چھ معتبر کتب) میں موجود ہیں۔ آپ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت معاویہ، حضرت انس بن مالک اور دیگر کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث حاصل کیں۔ آپ سے روایت کرنے والوں میں سفیان بن عیینہ، ایوب سختیانی، یحییٰ بن سعید الانصاری، ابن جریج اور دیگر کئی بڑے ائمہ شامل ہیں۔
  • قاضی اور کاتب: آپ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں مکہ مکرمہ میں قاضی اور کاتب کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ آپ کے فقہی علم، عدل و انصاف اور انتظامی صلاحیتوں کا بین ثبوت ہے۔
  • علم و فضل: آپ حدیث، فقہ، تفسیر اور عربی زبان و ادب میں گہرا علم رکھتے تھے۔ آپ کی مجالس علمی مباحث سے آراستہ رہتیں اور تشنگانِ علم دور دور سے آپ کے پاس آتے تھے۔
  • تقویٰ اور زہد: آپ اپنی عبادت، پرہیزگاری اور خوفِ خدا کے لیے بھی معروف تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نماز اور تلاوتِ قرآن کے دوران کثرت سے گریہ کرتے تھے۔ آپ کثرت سے روزے رکھتے تھے، یہاں تک کہ مسلسل روزے رکھنا آپ کی عادت بن چکی تھی۔
  • مؤذن: آپ نے مکہ مکرمہ میں ایک طویل عرصے تک مؤذن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، جو آپ کے دین سے گہرے تعلق اور اطاعت کی علامت ہے۔

میراث اور وصال

ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کی سب سے بڑی میراث اسلامی علوم، خصوصاً علمِ حدیث کی خدمت ہے۔ آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جو علم حاصل کیا، اسے بعد کی نسلوں تک پوری دیانت داری اور احتیاط کے ساتھ پہنچایا۔ آپ احادیث کی اسنادی زنجیر میں ایک انتہائی اہم کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں اور آپ کی روایات کے بغیر بہت سی اہم احادیث ہم تک نہیں پہنچ سکتیں۔ آپ کا شمار ان کبار تابعین میں ہوتا ہے جنہوں نے علمِ نبوی کو محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

آپ کا وصال مکہ مکرمہ میں ہوا۔ اکثر مؤرخین کے نزدیک آپ کی وفات 117 ہجری میں ہوئی۔ بعض روایات میں 116 ہجری یا 118 ہجری کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن 117 ہجری کو زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے۔ آپ کی وفات کے ساتھ ہی تابعین کے اس عظیم گروہ کا ایک اہم ستون ختم ہو گیا، جو براہ راست صحابہ کرام سے علم حاصل کر کے امت کی رہنمائی کر رہا تھا۔ آپ کی علمی خدمات آج بھی لاکھوں مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

مستند حوالہ جات

  • ابن سعد، محمد بن سعد بن منیع الزہری (م 230ھ)۔ الطبقات الکبریٰ۔ دار صادر، بیروت۔
  • ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان (م 748ھ)۔ سیر اعلام النبلاء۔ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی (م 852ھ)۔ تہذیب التہذیب۔ مطبعۃ دائرۃ المعارف النظامیۃ، الہند۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر (م 774ھ)۔ البدایہ والنہایہ۔ دار الفکر، بیروت۔
  • مزی، جمال الدین ابو الحجاج یوسف (م 742ھ)۔ تہذیب الکمال فی اسماء الرجال۔ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت۔