حکم بن عمرو رضی اللہ عہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کا پورا نام حکم بن عمرو بن صبيرة بن خِراش الغفاری تھا۔ آپ کا تعلق بنو غفار سے تھا، جو اپنے زہد و تقویٰ اور اسلام کی ابتدائی قبولیت کے لیے مشہور تھا، اسی قبیلے سے عظیم صحابی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی تھا۔ آپ کی کنیت ابو صبيرة یا بعض روایات میں ابو عمرو بھی ملتی ہے۔ آپ کو ایک جلیل القدر صحابی اور بلند پایہ مجاہد کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جنہوں نے دین اسلام کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور ہی میں پیغمبر اکرم ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی اور سابقون الاولون میں شمار ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات تاریخ کی کتب میں دستیاب نہیں، تاہم یہ بات مسلم ہے کہ آپ نے زمانہ نبوی میں ہی مدینہ ہجرت کی اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت بابرکت سے فیض یاب ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایمان لانے کے بعد اپنی پوری زندگی کو مکمل طور پر دین اسلام کے لیے وقف کر دیا اور تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنا شعار بنایا۔ آپ کی شخصیت سادگی، ایمانداری، عدل اور دین پر استقامت کا بہترین نمونہ تھی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اسلام کی خدمت میں انتہائی نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ متعدد غزوات میں شرکت کی اور اپنی شجاعت و بہادری کا لوہا منوایا۔ خلفائے راشدین کے دور میں بھی آپ کی خدمات جاری رہیں۔
آپ کے سب سے نمایاں کارناموں میں سے ایک خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں خراسان کی ولایت اور وہاں کی فتوحات ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو خراسان کا والی (گورنر) مقرر کیا، جہاں آپ نے عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کی اور اسلامی فتوحات کو وسعت دی۔ آپ نے مرد الروذ، جوزجان، فاریاب، طالقان اور ہرات سمیت خراسان کے کئی اہم علاقے فتح کیے اور اسلامی پرچم لہرایا۔ آپ کی جنگی حکمت عملی اور عسکری قیادت بے مثال تھی۔ آپ کی حکمرانی کا دور فتوحات اور عدل کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ ایک بہترین منتظم اور عادل حکمران تھے۔ آپ اپنی حکمرانی میں سادگی اور عدل کو ترجیح دیتے تھے۔ روایت ہے کہ آپ کے پاس کوئی خاص سرکاری خزانہ نہیں ہوتا تھا اور آپ اپنا لباس خود دھوتے تھے۔ آپ اپنی ذاتی ضروریات کے لیے بھی بیت المال پر بوجھ نہیں ڈالتے تھے بلکہ اکثر اوقات اپنی ضرورت کی چیزیں خود ہی خریدتے تھے۔ آپ کی امانت و دیانت اور عدل و انصاف کی گواہی تاریخ کی کتب میں کثرت سے ملتی ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی آپ کچھ عرصے تک خراسان کے والی رہے۔
میراث اور وصال
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت اور فروغ میں گزاری۔ آپ نے تقریباً 50 ہجری سے 58 ہجری کے درمیان خراسان (مرو) میں وفات پائی۔ آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنی اولاد میں ایک بیٹا سبّرہ چھوڑا، جس سے یہ کنیت "ابو سبرہ” منسوب ہے۔
آپ کی میراث ایک جلیل القدر صحابی، ایک بہادر مجاہد، ایک عادل حکمران اور ایک متقی و پرہیزگار مسلمان کی تھی۔ آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ، عدل اور شجاعت کا حسین امتزاج تھی، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی جہاد فی سبیل اللہ اور اسلامی سلطنت کے استحکام میں گزارے۔ آپ کی وفات پر مسلمانوں نے ایک عظیم رہنما اور مجاہد سے محروم ہونے کا غم محسوس کیا۔
مستند حوالہ جات
- ابن عبد البر، یوسف بن عبد اللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 1، صفحہ 132، دار الجیل، بیروت، 1992ء۔
- ابن اثیر، علی بن محمد، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جلد 2، صفحہ 49، دار الفکر، بیروت، 1989ء۔
- ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابة في تمييز الصحابة، جلد 2، صفحہ 103، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1995ء۔
- الذہبی، شمس الدین محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، جلد 2، صفحہ 221-222، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، 1985ء۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، جلد 5، صفحہ 155-156، دار التراث، بیروت، 1967ء۔
- ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ، جلد 8، صفحہ 101-102، دار الفکر، بیروت، 1986ء۔
