حزام ابن خویلد رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حزام ابن خویلد بن اسد بن عبدالعزّیٰ بن قصی القرشی الاسدی، قریش کے بنو اسد قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالے تھے۔ اس کے علاوہ، وہ مشہور صحابی حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے چچا بھی تھے، کیونکہ زبیر بن العوام کے والد عوام بن خویلد، حزام کے بھائی تھے۔ ان کا تعلق مکہ کے ایک معزز اور بااثر گھرانے سے تھا، اور ان کے والد خویلد بن اسد اپنے قبیلے میں ایک نمایاں شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ حزام ابن خویلد رضی اللہ عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی مکہ میں بسر کی اور قریش کے سرداروں میں شامل تھے۔ انہیں ‘صحابی’ کے معزز لقب سے نوازا گیا، اگرچہ یہ لقب انہیں زندگی کے آخری حصے میں ملا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت حزام ابن خویلد رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اہل مکہ کے سرداروں میں سے ایک کے طور پر گزارا۔ ابتدائی طور پر، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام کے مخالفین میں سے تھے، جیسا کہ اکثر قریشی سردار تھے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ جنگ احد میں مشرکین کے لشکر میں شامل تھے، لیکن اس حوالے سے بہت زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ ان کے قبولِ اسلام کا واقعہ فتح مکہ (سن 8 ہجری) کے موقع پر پیش آیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاتحانہ انداز میں مکہ مکرمہ میں داخلہ فرمایا اور عام معافی کا اعلان کیا تو اس موقع پر بہت سے قریشی سرداروں نے اسلام قبول کیا۔ حزام ابن خویلد بھی ان خوش نصیبوں میں شامل تھے جنہوں نے اس وقت کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ یہ ان کی زندگی کا ایک انقلابی لمحہ تھا اور اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی ظرفی اور اسلام کی حقانیت کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ چونکہ وہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے، ان کا اسلام قبول کرنا خاندانِ نبوت کے لیے بھی باعث مسرت تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
چونکہ حضرت حزام ابن خویلد رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اور اس کے بعد بہت تھوڑا عرصہ زندہ رہے، اس لیے انہیں اسلامی فتوحات یا دعوتِ اسلام کے ابتدائی مراحل میں سرگرم کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ تاہم، ایک طویل مخالفت کے بعد ان کا اسلام قبول کرنا بذات خود ایک عظیم کارنامہ تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کے لیے ہدایت کا فیصلہ کر لے تو کوئی رکاوٹ اسے روک نہیں سکتی۔ ان کا اسلام میں داخلہ اس حقیقت کی بھی دلیل تھا کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار اور اہل ثروت بھی اسلام کی آفاقی تعلیمات سے متاثر ہو رہے تھے۔ اگرچہ ان کا زمانہ صحابیت مختصر تھا، مگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہوئی، جو کسی بھی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز اور کارنامہ ہے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سالے ہونے کے ناطے بھی ایک خاص مقام رکھتے تھے۔
میراث اور وصال
حضرت حزام ابن خویلد رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد بہت مختصر وقت مکہ میں ہی گزارا۔ اکثر روایات کے مطابق، فتح مکہ کے چند ہفتوں یا ایک مہینے کے اندر ہی وہ 8 ہجری میں مکہ مکرمہ میں ہی وفات پا گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی حالت میں موت دے کر عظیم فضل سے نوازا۔ ان کی میراث میں سب سے نمایاں ان کے فرزند حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ ہیں، جو خود بھی جلیل القدر صحابی تھے اور انہوں نے طویل عمر پائی۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اسلام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان سے متعدد احادیث بھی مروی ہیں۔ اس طرح، حزام ابن خویلد رضی اللہ عنہ کا نام ایک ایسے صحابی کے طور پر زندہ ہے جنہوں نے اگرچہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اسلام قبول کیا، مگر ان کا یہ فیصلہ ان کے خاندان اور قریش کے لیے ایک اہم مثال بن گیا۔ ان کی قربت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانِ نبوت کے توسط سے ہمیشہ قائم رہی۔
مستند حوالہ جات
- ابن الاثير، علي بن محمد، "اسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ”، دار الفكر، بيروت۔
- ابن حجر العسقلاني، احمد بن علي، "الإصابۃ في تمييز الصحابۃ”، دار الكتب العلميۃ، بيروت۔
- ابن عبد البر، يوسف بن عبد الله، "الاستيعاب في معرفۃ الأصحاب”، دار الجيل، بيروت۔
- الطبري، محمد بن جرير، "تاريخ الأمم والملوك” (تاريخ الطبري)، دار التراث، بيروت۔
- ابن كثير، إسماعيل بن عمر، "البدايۃ والنهايۃ”، دار الفكر، بيروت۔
