عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مکمل نام عبداللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب الہذلی تھا، اور آپ کی کنیت ابو عبدالرحمٰن تھی۔ آپ قبیلہ بنو ہذیل سے تعلق رکھتے تھے، جو بنو زہرہ کے حلیف تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام عبد بنت عبدود تھا اور وہ بھی اسلام لے آئی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے جسمانی ساخت کے اعتبار سے پست قامت اور دبلے پتلے تھے، آپ کی پنڈلیاں بھی پتلی تھیں۔ آپ نے اپنی جوانی کا ابتدائی حصہ مکہ کے سردار عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرانے میں گزارا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان چند خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے ابتدا ہی میں اسلام قبول کیا اور دین حق کے اولین داعیوں میں شامل ہوئے۔ آپ کا قبولِ اسلام ایک منفرد واقعہ کے سبب ہوا۔ نبوت کے ابتدائی سالوں میں ایک دن آپ عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا۔ دونوں نے بھوک کے باعث آپ سے دودھ طلب کیا، مگر آپ نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ یہ بکریاں امانت ہیں اور میں دودھ نہیں دے سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی امانت داری کو سراہا اور آپ سے ایک ایسی بکری لانے کا کہا جو دودھ نہ دیتی ہو اور جسے کسی نر نے چھوا نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک ایسی ہی بکری لے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھ کر اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو دودھ اتر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیر ہو کر پیا، اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے تھنوں کو دوبارہ سکڑنے کا حکم دیا اور دودھ خشک ہو گیا۔ اس معجزے کو دیکھ کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فوراً ایمان لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں آ گئے۔

آپ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے بعد آپ نے اپنی زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وقف کر دی۔ آپ تقریباً ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر و حضر میں آپ کے جوتے، مسواک اور پانی کا برتن اٹھائے رکھتے۔ اس قربت اور خدمت کی وجہ سے آپ کو "صاحب النعلین” (جوتیوں کے رکھوالے) اور "صاحب الفراش” (بستر کے ساتھی) جیسے القاب سے یاد کیا جانے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ ان چند صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے مکہ میں ہی علی الاعلان قرآن کریم کی تلاوت کی، جس پر کفار قریش نے آپ کو شدید زدوکوب کیا۔ آپ نے حبشہ کی ہجرت میں بھی شرکت کی اور پھر مدینہ کی ہجرت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع تھا۔ آپ ایک بلند پایہ قاری، فقیہ، محدث اور مفسر تھے۔

  • علم قرآن اور قرأت: آپ قرآن کے حافظ اور قراءت کے ماہر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آپ کی قرأت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: "جو شخص قرآن کو اس طرح پڑھنا چاہتا ہو جس طرح وہ اترا ہے، تو اسے ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) کی قرأت کے مطابق پڑھنا چاہیے۔” آپ رضی اللہ عنہ کو قرآن مجید کی ہر آیت کا علم تھا کہ وہ کب، کہاں اور کس بارے میں نازل ہوئی۔
  • فقہ و اجتہاد: آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام میں سے سب سے بڑے فقیہ اور مجتہدین میں سے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کوفہ بھیجتے ہوئے وہاں کے باشندوں کو لکھا تھا کہ "میں نے عبداللہ کو بھیج کر تمہارے لیے خود کو ایثار کیا ہے، ان کے علم سے خوب فائدہ اٹھاؤ۔” آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ایک علمی مدرسہ قائم کیا جہاں سے بے شمار تابعین نے فیض حاصل کیا، جن میں علقمہ، اسود، مسروق، قاضی شریح اور دیگر جلیل القدر ہستیاں شامل ہیں۔ کوفہ کا فقہی مکتب فکر آپ کی تعلیمات سے گہرا متاثر تھا، جس نے بعد ازاں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ کی بنیاد رکھی۔
  • حدیث کی روایت: آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر احادیث روایت کیں، جو صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔ آپ کی روایات کو علمی دنیا میں بہت معتبر سمجھا جاتا ہے۔
  • جہاد اور بہادری: آپ رضی اللہ عنہ نے تمام بڑے غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ غزوہ بدر میں آپ رضی اللہ عنہ نے ہی ابوجہل جیسے اسلام کے کٹر دشمن کا سر قلم کیا۔ غزوہ احد، خندق اور دیگر تمام معرکوں میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
  • زہد و تقویٰ: آپ رضی اللہ عنہ اپنی شبانہ روز عبادت، زہد، تقویٰ اور اللہ کے خوف کے لیے مشہور تھے۔ آپ دنیاوی آلائشوں سے بے نیاز رہتے تھے اور آخرت کی فکر میں ڈوبے رہتے تھے۔
  • علمی محفلیں: مدینہ میں آپ رضی اللہ عنہ کی علمی مجلسیں لگتی تھیں جہاں صحابہ کرام اور تابعین کی بڑی تعداد علم حاصل کرنے آتی تھی۔

میراث اور وصال

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے 32 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تقریباً 60 برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے پیچھے علم و حکمت کا ایک عظیم ورثہ چھوڑا۔ آپ کا شمار ان چار جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست قرآن سیکھنے کی ترغیب دی تھی۔ آپ کے شاگردوں نے آپ کے فقہی آراء اور علمی نکات کو محفوظ کیا جو آج بھی اسلامی فقہ کے ستونوں میں سے ہیں۔ آپ کا کردار امت مسلمہ کے لیے استقامت، علم دوستی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع کی بہترین مثال ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • تاریخ طبری از امام طبری
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر
  • تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی