عبداللہ بن شریک رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عبداللہ بن شریک، اسلامی تاریخ میں ایک معروف نام ہے، لیکن یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ تاریخی اتفاق رائے کے مطابق "عبداللہ بن شریک رضی اللہ عنہ” کے لقب کے ساتھ کوئی جانی پہچانی شخصیت، جو صحابی رسول ﷺ ہو، تاریخی کتابوں میں نمایاں طور پر مذکور نہیں۔ "رضی اللہ عنہ” کا لقب عام طور پر صحابہ کرام (رسول اللہ ﷺ کے رفقاء) کے لیے مخصوص ہے، جبکہ ‘عبداللہ بن شریک’ کے نام سے جو شخصیت کثرت سے تاریخ میں موجود ہے، وہ ایک تابعی (صحابی کے بعد کی نسل سے) تھے، جن کا پورا نام عبداللہ بن شریک العامری النخعی الکوفی ہے۔ آپ کا تعلق کوفہ سے تھا اور آپ بنو عامر یا بنو نخع سے نسبت رکھتے تھے۔ لہٰذا، یہاں ہم عبداللہ بن شریک العامری النخعی کے حالات زندگی پیش کریں گے، جو تابعی اور محدث تھے۔ ان کے والد کا نام شریک تھا، جس سے یہ نسبت "ابن شریک” مشہور ہوئی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

عبداللہ بن شریک العامری کی پیدائش رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد ہوئی، جس کی وجہ سے آپ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ آپ نے کوفہ کے علمی ماحول میں پرورش پائی۔ کوفہ اس دور میں علم و فن اور حدیث و فقہ کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں کئی جلیل القدر صحابہ اور تابعین مقیم تھے۔ عبداللہ بن شریک نے اسی علمی فضا سے استفادہ کیا اور اپنے وقت کے جید علماء اور محدثین سے علم حاصل کیا۔ آپ نے ابتدائی زندگی میں ہی اسلامی تعلیمات کی طرف رغبت پیدا کی اور دین کے گہرے فہم و ادراک کے لیے کوشاں رہے۔ آپ نے صحابہ کرام میں سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ سے براہ راست حدیثیں سنیں اور روایت کیں، جو آپ کے تابعی ہونے کا ایک واضح ثبوت ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

عبداللہ بن شریک العامری کی خدمات کئی شعبوں پر محیط ہیں۔
**علمِ حدیث میں خدمات:** آپ ایک ثقہ اور معتبر محدث کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ آپ نے کئی صحابہ کرام سے روایات حاصل کیں اور پھر ان روایات کو بعد کی نسلوں تک پہنچایا۔ آپ سے روایت کرنے والوں میں سفیان الثوری، اسرائیل بن یونس جیسے جلیل القدر محدثین شامل ہیں۔ آپ کی روایات کو امام بخاری، امام مسلم اور دیگر ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ یہ ان کے علمی مقام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
**سیاسی اور عسکری کردار:** عبداللہ بن شریک کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ان کا سیاسی اور عسکری کردار ہے۔ آپ کوفہ میں مختار ثقفی کی تحریک کے اہم قائدین میں سے تھے۔ مختار ثقفی کی تحریک کا مقصد شہدائے کربلا کا انتقام لینا تھا۔ عبداللہ بن شریک نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مختار کی فوج میں ایک اہم کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ آپ نے مختلف جنگوں میں شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور مختار کے لیے کئی معرکے سر کیے۔ تاریخی روایات میں ان کی عسکری قیادت اور جنگی حکمت عملی کا ذکر ملتا ہے۔ اس کردار نے انہیں اسلامی تاریخ میں ایک ممتاز مقام دلایا، اگرچہ ان کے اس سیاسی تعلق کو بعض علماء نے تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

میراث اور وصال

عبداللہ بن شریک العامری کی وفات مختار ثقفی کی تحریک کے خاتمے کے بعد ہوئی جب کوفہ پر مصعب بن زبیر کا قبضہ ہو گیا۔ تاریخی روایات کے مطابق، آپ کو جنگ کے دوران یا اس کے بعد مصعب بن زبیر کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا۔ آپ کی شہادت تقریباً 67 ہجری یا 68 ہجری کے لگ بھگ ہوئی۔ آپ کی زندگی ایک تابعی، محدث اور ایک سیاسی و عسکری قائد کے طور پر گزری۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت اور عدل کے قیام کی جدوجہد میں صرف کی۔ اگرچہ ان کے سیاسی کردار پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لیکن علمی حلقوں میں ان کی ثقاہت اور حدیث کی روایات میں ان کی امانت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی میراث ان کی روایات حدیث ہیں جو آج بھی ائمہ کرام کی کتب میں موجود ہیں، اور ان کا سیاسی کردار جو کوفہ کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

مستند حوالہ جات

  • الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر، "تاریخ الرسل والملوک” (تاریخ طبری)
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، "البدایة والنہایة”
  • الذہبی، شمس الدین محمد بن احمد، "سیر أعلام النبلاء”
  • ابن حجر العسقلانی، احمد بن علی، "تہذیب التہذیب”
  • ابن سعد، محمد بن سعد، "الطبقات الکبریٰ”
  • المزی، یوسف بن عبدالرحمن، "تہذیب الکمال فی أسماء الرجال”