عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عبداللہ بن سہیل بن عمرو العامری القرشی رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے بنو عامر بن لؤی قبیلے سے تھا۔ آپ کے والد سہیل بن عمرو قریش کے سرکردہ سرداروں اور معززین میں سے تھے جو ابتدائی طور پر اسلام کے سخت مخالف تھے، بعد ازاں فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ آپ کی والدہ کا نام فاختہ بنت عامر بن نوفل تھا۔ عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ کا خاندان مکہ میں بڑا بااثر اور صاحب حیثیت مانا جاتا تھا۔ آپ کا کوئی خاص لقب مشہور نہیں، البتہ آپ کی زندگی اور خدمات نے آپ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک جلیل القدر اور بہادر رکن کے طور پر ممتاز کیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ ان چند خوش نصیب افراد میں شامل تھے جنہوں نے اسلام کی دعوت کے ابتدائی مراحل میں ہی اسے قبول کر لیا تھا۔ آپ نے مکہ کے مشکل ترین دور میں اسلام کی روشنی کو پہچانا، جبکہ آپ کے والد سہیل بن عمرو اسلام کی شدید مخالفت کر رہے تھے۔ اپنے والد کے خوف سے آپ نے اپنے قبولِ اسلام کو راز رکھا۔ اسلام لانے کے بعد جب مکہ کے مسلمانوں پر مظالم حد سے بڑھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔ عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دین کو بچانے کی خاطر حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی۔
کچھ عرصے بعد جب یہ خبر ملی کہ مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے (جو کہ ایک غلط فہمی تھی)، تو آپ دیگر مہاجرین کے ساتھ واپس مکہ آ گئے۔ مکہ واپس آنے پر آپ کو پھر اپنے والد کے سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اپنے اسلام کو دوبارہ چھپانا پڑا۔ غزوہ بدر کے موقع پر جب قریش کی فوج مدینہ کی جانب روانہ ہوئی تو سہیل بن عمرو نے اپنے بیٹے عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ کو بھی زبردستی اپنے ساتھ لے لیا۔ اس موقع پر آپ نے اپنی ایمانی بصیرت اور شجاعت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ کے نمایاں کارناموں میں سب سے اہم حبشہ کی طرف پہلی ہجرت، اور پھر غزوہ بدر میں ان کا غیر معمولی اقدام ہے۔ غزوہ بدر کے لیے مکہ سے روانگی کے دوران ہی آپ نے موقع پا کر مسلمانوں سے رابطہ کیا اور جنگ شروع ہونے سے عین قبل یا دورانِ جنگ قریش کی صفوں سے نکل کر مسلمانوں کی طرف شامل ہو گئے۔ یہ عمل آپ کے ایمان کی پختگی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ آپ نے اس جنگ میں مسلمانوں کی طرف سے بھرپور حصہ لیا اور شجاعت کے جوہر دکھائے۔
غزوہ بدر کے علاوہ، آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر تمام اہم غزوات اور اسلامی مہمات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی۔ آپ ایک ثابت قدم مجاہد تھے جنہوں نے اسلام کے دفاع اور ترویج کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی آپ اسلامی ریاست کی خدمت میں مصروف رہے۔ آپ نے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں مرتدین کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں میں بھی فعال کردار ادا کیا۔

میراث اور وصال

عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی میراث ان کی غیر متزلزل ایمانی استقامت ہے جو انہوں نے اپنے والد اور قبیلے کی مخالفت کے باوجود دکھائی۔ آپ نے اپنے دین کو ہر رشتے اور ہر مصلحت پر ترجیح دی اور اس کے لیے حبشہ ہجرت کی اور غزوہ بدر میں دشمن کی صفوں سے نکل کر حق کا ساتھ دیا۔ آپ جلیل القدر صحابہ میں شمار ہوتے ہیں جو "اہل بدر” میں شامل ہیں۔
آپ کا وصال 11 ہجری میں ہوا جب آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی مرتدین کے خلاف جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان کر دی اور ہمیشہ کے لیے شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔ آپ کی سیرت مسلمانوں کو ایمان میں ثابت قدمی اور دین کی خاطر قربانی دینے کا درس دیتی ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • طبقات ابن سعد
  • تاریخ طبری
  • البدایۃ و النہایۃ از ابن کثیر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر