جیفر بن جلندی رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
جیفر بن جلندی رضی اللہ عنہ سلطنتِ عمان کے ایک اہم حکمران تھے، جن کا تعلق جلندی بن مستکبر کے شاہی خاندان سے تھا، جو عمان کے اَزد قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ اپنے بھائی عباد بن جلندی کے ساتھ اسلام سے قبل عمان پر مشترکہ طور پر حکومت کرتے تھے۔ ان دونوں بھائیوں کو عمان کے ‘جلندی شاہی خاندان’ کے حکمرانوں کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اسلام قبول کیا۔ ان کا لقب ‘الملک’ (بادشاہ) تھا، کیونکہ وہ اپنے علاقے کے خودمختار حکمران تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
جیفر بن جلندی اور ان کے بھائی عباد اسلام سے قبل عمان پر حکمران تھے۔ سنہ 6 ہجری یا 7 ہجری میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں اور حکمرانوں کو دعوتِ اسلام کے خطوط ارسال فرمائے۔ اسی سلسلے میں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک خط صحابیِ رسول حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ذریعے جیفر اور عباد بن جلندی کی طرف روانہ فرمایا۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے جیفر بن جلندی سے ملاقات کی اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔ اس خط میں دعوتِ اسلام اور اسلام قبول کرنے والوں کے لیے اچھے انجام اور انکار کرنے والوں کے لیے سخت انجام کی وعید تھی۔ جیفر نے اپنے بھائی عباد سے مشورہ کیا، اور ان دونوں بھائیوں کے درمیان اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے درمیان کئی روز تک اسلام کے بارے میں گفتگو جاری رہی۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اسلام کی حقانیت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل پیش کیے۔
آخرکار، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اسلام کے لیے کھول دیا اور جیفر اور عباد بن جلندی نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ عمان کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا، کیونکہ اس سے عمان میں اسلام بغیر کسی جنگ کے پرامن طریقے سے داخل ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں ان کی حکومت پر برقرار رکھا اور انہیں عمان میں اسلامی احکامات کے مطابق حکمرانی کرنے اور زکوٰۃ و صدقات جمع کر کے مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کرنے کی ہدایت فرمائی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
- **عمان کا پرامن قبولِ اسلام:** جیفر بن جلندی اور ان کے بھائی عباد کا سب سے نمایاں کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر بغیر کسی مزاحمت کے اسلام قبول کیا، جس کی بدولت عمان کا پورا خطہ پرامن طریقے سے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ یہ اسلامی تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے۔
- **عمان میں اسلامی حکمرانی کا قیام:** اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے عمان میں اسلامی اصولوں کے مطابق حکمرانی قائم کی۔ انہوں نے زکوٰۃ اور دیگر شرعی احکامات کا نفاذ کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق عمل کیا۔
- **وفاداری اور استقامت:** وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں اسلام پر قائم رہے اور اسلامی حکومت سے وفادار رہے۔ انہوں نے عمان میں ارتداد کی تحریکوں کو بھی دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، جب جزیرہ عرب میں ارتداد کی تحریکیں اٹھیں تو عمان نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے تحت اسلام پر اپنی مضبوطی برقرار رکھی۔
میراث اور وصال
جیفر بن جلندی رضی اللہ عنہ کی میراث عمان کی اسلامی شناخت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے اسلام قبول کرنے سے عمان ایک مضبوط اسلامی ریاست بن گیا اور آج تک اپنی اسلامی ثقافت اور روایات پر قائم ہے۔ انہوں نے اسلام کو ایک پرامن اور مستحکم طریقے سے اپنے خطے میں رائج کیا۔
ان کے وصال کی حتمی تاریخ مستند تاریخی کتب میں واضح طور پر بیان نہیں کی گئی، تاہم وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی حکمران رہے۔ وہ ایک مسلمان کی حیثیت سے وفات پائی اور ان کا نام عمان کی تاریخ میں ہمیشہ اسلامی فتوحات اور پرامن تبلیغ کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ ان کے خاندان نے ایک عرصے تک عمان میں اسلامی حکومت قائم رکھی۔
مستند حوالہ جات
- الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر۔ (1967)۔ تاریخ الامم والملوک۔ (ج2، ص288-290)۔ بیروت: دار التراث۔
- ابن کثیر، اسماعیل بن عمر۔ (1988)۔ البدایہ والنہایہ۔ (ج5، ص69-70)۔ بیروت: دار الفکر۔
- ابن سعد، محمد۔ (1990)۔ الطبقات الکبریٰ۔ (ج1، ص271-272)۔ بیروت: دار صادر۔
- ابن الاثیر، علی بن محمد۔ (1987)۔ الکامل فی التاریخ۔ (ج2، ص280-281)۔ بیروت: دار الکتب العلمیۃ۔
- حمید اللہ، ڈاکٹر محمد۔ (1994)۔ الوثائق السیاسیۃ للعہد النبوی والخلافۃ الراشدۃ۔ بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ۔
