ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کا پورا نام وہب بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی العبشمي تھا۔ ان کا تعلق قریش کے بنو عبد شمس قبیلے سے تھا جو مکہ کے معزز قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ ان کے والد عتبہ بن ربیعہ قریش کے سرکردہ سرداروں میں سے تھے اور اسلام کی ابتدائی مخالفت کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ عتبہ بن ربیعہ جنگِ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام صفیہ بنت امیہ بن عبد شمس تھا۔ وہ ہند بنت عتبہ (ابو سفیان کی زوجہ) کے سگے بھائی تھے۔ ان کی کنیت "ابوحذیفہ” ان کے صاحبزادے حذیفہ کے نام پر مشہور ہوئی، جبکہ ان کا اصل نام بعض روایات کے مطابق "وہب” تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ مکہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی وہیں گزاری۔ وہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی دعوت کے ابتدائی ایام میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر لبیک کہا۔ ان کا قبولِ اسلام "دارِ ارقم” میں داخل ہونے سے بھی پہلے کا ہے، جب قریش کی مخالفت اپنے عروج پر تھی۔ ان کا اسلام قبول کرنا انتہائی جرات مندی کا تقاضا تھا، کیونکہ ان کے والد عتبہ بن ربیعہ اسلام کے شدید ترین مخالفین میں سے تھے۔ انہوں نے مکہ میں اسلام کی خاطر شدید اذیتیں برداشت کیں اور ہجرت حبشہ (افریقہ) میں دو مرتبہ شریک ہوئے۔ پہلی ہجرت 615ء میں اور دوسری ہجرت 616ء میں۔ بعد ازاں، جب مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا تو وہ اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہاں مواخات (بھائی چارے) کے نظام کے تحت انہیں عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کا دینی بھائی بنایا گیا۔ بعض روایات میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر ملتا ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات میں شرکت کی، جن میں غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق، صلح حدیبیہ، فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک شامل ہیں۔ غزوہ بدر میں ان کا کردار خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس جنگ میں ان کے والد عتبہ، چچا شیبہ اور بھائی ولید بن عتبہ مسلمانوں کے مقابلے میں صف آرا تھے، لیکن ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے رشتے ناطے پر دین کو ترجیح دی اور کفر کے خلاف میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہے۔ یہ ان کے ایمان کی پختگی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے مثال محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

وہ اعلیٰ اخلاق، تقویٰ اور پرہیزگاری کے پیکر تھے۔ ان کی نیکی، خشوع و خضوع اور قراءتِ قرآن کریم میں گہری بصیرت نمایاں تھی۔ وہ ان چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں ہی پورے قرآن کو حفظ کر لیا تھا۔ انہوں نے اسلامی معاشرے کی تشکیل اور دعوت و تبلیغ میں اہم کردار ادا کیا۔

میراث اور وصال

ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی میراث ان کا وہ عظیم ورثہ ہے جو انہوں نے اسلام کی خاطر قربانیوں، ایثار اور بے لوث خدمات کی صورت میں چھوڑا۔ وہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ہر حال میں دین کو دنیا پر ترجیح دی اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کیا۔ ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب قرآن مجید کو ایک مصحف کی شکل میں جمع کیا جا رہا تھا، تو انہوں نے اس عظیم کام میں بطورِ حافظِ قرآن اپنی خدمات پیش کیں اور اس میں اپنا حصہ ڈالا۔

ان کا وصال 12 ہجری (633 عیسوی) میں غزوہ یمامہ کے دوران شہادت کی صورت میں ہوا۔ یہ جنگ جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی اور اس میں بہت سے حفاظِ قرآن شہید ہوئے۔ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے منہ بولے آزاد کردہ غلام حضرت سالم مولیٰ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر یہ عہد کیا تھا کہ وہ میدانِ جنگ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک شہید نہ ہو جائیں۔ انہوں نے بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور اپنے عہد کو پورا کیا۔ ان کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ ان کے بعد ان کا بیٹا محمد بن ابوحذیفہ معروف ہوا۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام)
  • البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)
  • تاریخ الطبری (محمد بن جریر الطبری)
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن الاثیر)
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)
  • سیر اعلام النبلاء (شمس الدین الذہبی)
  • الرحیق المختوم (صفی الرحمن مبارکپوری)