ابوالعاص رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا مکمل نام ابوالعاص بن الربیع بن عبد العزى بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو عبد شمس قبیلے سے تھا، جو مکہ کے ایک معزز اور نمایاں خاندان تھا۔ آپ کی والدہ کا نام ہالہ بنت خویلد تھا، جو ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سگی بہن تھیں۔ اس رشتے سے، ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی خالہ لگتی تھیں۔ آپ کی کنیت ‘ابوالعاص’ ہی آپ کے نام کی طرح مشہور ہو گئی اور آپ اسی سے پہچانے جاتے تھے۔ مکہ میں آپ کو ایک کامیاب اور امانت دار تاجر کے طور پر جانا جاتا تھا، اور قریش آپ کی دیانت داری اور حسنِ اخلاق کی بنا پر آپ پر بھروسہ کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا رشتہ گہرا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح بعثت سے قبل آپ کے ساتھ کیا تھا، جو اس خاندان کی آپس کی قربت اور محبت کا بین ثبوت تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابو العاص رضی اللہ عنہ اپنی ابتدائی زندگی میں مکہ کے کامیاب تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔ بعثتِ نبوی سے قبل ہی آپ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ہو چکا تھا۔ یہ رشتہ اس وقت قائم ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت نہیں ملی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فوراً اسلام قبول کر لیا، لیکن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا۔ قریش کے سرداروں نے ابوالعاص پر دباؤ ڈالا کہ وہ حضرت زینب کو طلاق دے دیں اور اس کے بدلے میں انہیں قریش کی کسی بھی خوبصورت عورت سے شادی کروا دیں گے، لیکن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کے ساتھ وفاداری اور محبت کی بنا پر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور حضرت زینب کو طلاق دینے سے صاف انکار کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ "میں اپنی بیوی کو نہیں چھوڑ سکتا اور نہ ہی مجھے اس کے بدلے کوئی اور عورت چاہیے۔” اس سے آپ کی اعلیٰ سیرت، دیانت داری اور ازدواجی وفاداری کا اندازہ ہوتا ہے، جو آپ میں اسلام لانے سے پہلے بھی موجود تھی۔ آپ کا قبولِ اسلام بہت بعد میں، ہجرتِ مدینہ کے کئی سال بعد واقع ہوا، اور یہ بھی آپ کی شخصیت کے بتدریج ارتقاء کا حصہ تھا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ابو العاص رضی اللہ عنہ کے نمایاں کارنامے اور خدمات ان کے اسلام قبول کرنے کے سفر اور پھر اسلام لانے کے بعد کی زندگی پر مشتمل ہیں۔

  • غزوہ بدر میں شرکت: ہجرتِ مدینہ کے بعد جب غزوہ بدر کا معرکہ پیش آیا تو ابوالعاص رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خلاف قریش کی فوج کے ساتھ تھے۔ اس جنگ میں آپ کو مسلمانوں نے قیدی بنا لیا۔
  • حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا فدیہ: جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے فدیہ کے طور پر اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا دیا ہوا وہ ہار بھیجا جو ان کی شادی پر انہیں ملا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ ہار دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پیاری بیٹی اور اپنی محبوب اہلیہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا یاد آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور یہ التجا کی کہ اگر وہ چاہیں تو ابوالعاص کو بغیر فدیہ کے رہا کر دیں اور ہار بھی واپس کر دیں۔ صحابہ کرام نے بخوشی رضامندی ظاہر کی اور ابوالعاص کو اس شرط پر رہا کر دیا گیا کہ وہ مکہ جا کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو مدینہ بھیج دیں گے۔
  • حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی ہجرت: ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے مکہ جا کر اپنا وعدہ پورا کیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا بندوبست کیا۔ اگرچہ قریش نے ہجرت کے دوران حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو روکنے کی کوشش کی اور انہیں جسمانی طور پر تکلیف بھی پہنچائی، لیکن بالآخر وہ مدینہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہ واقعہ ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی وعدہ وفائی اور صداقت کا ثبوت تھا، اگرچہ اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
  • اسلام قبول کرنا اور مدینہ ہجرت: ہجرت کے کئی سال بعد، سنہ 6 ہجری کے قریب، ابوالعاص رضی اللہ عنہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے کہ مسلمان دستے نے اس قافلے کو روک لیا اور مالِ تجارت کو ضبط کر لیا۔ ابوالعاص رضی اللہ عنہ کسی طرح بچ کر مدینہ پہنچے اور رات کے وقت اپنی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس پناہ طلب کی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر ان کو پناہ دینے کا اعلان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو ترغیب دی کہ اگر وہ چاہیں تو ابوالعاص کا مالِ تجارت واپس کر دیں، اور صحابہ کرام نے بخوشی ایسا کر دیا۔ ابوالعاص رضی اللہ عنہ اس واقعہ اور مسلمانوں کے حسنِ سلوک سے بہت متاثر ہوئے۔ وہ اپنا مال واپس لے کر مکہ گئے، وہاں سب لوگوں کو ان کی امانتیں واپس کیں اور اپنے تمام معاملات کو صاف کرنے کے بعد سب کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کیا اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہ واقعہ فتح مکہ سے پہلے، سنہ 7 ہجری کا ہے۔ مدینہ پہنچنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے دوبارہ بحال فرما دیا (فقہی اختلاف کے ساتھ، بعض کے نزدیک یہ پرانے نکاح کی تجدید تھی اور بعض کے نزدیک نیا نکاح ہوا تھا، لیکن ان کا دوبارہ مل کر رہنا ثابت ہے)۔
  • مدینہ میں زندگی: اسلام قبول کرنے کے بعد ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے بقیہ زندگی مدینہ میں گزاری اور ایک سچے مسلمان کے طور پر دینِ اسلام کی خدمت میں سرگرم رہے۔

میراث اور وصال

ابوالعاص رضی اللہ عنہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی اولاد میں ایک بیٹا علی اور ایک بیٹی امامہ تھیں۔ بیٹا علی کم عمری میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پیار دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نماز میں بھی کندھے پر اٹھائے ہوتے تھے اور سجدے میں رکھتے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تھا۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات سنہ 8 ہجری میں ہوئی، جس کا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو بہت زیادہ دکھ ہوا اور وہ اس غم پر بہت روئے۔ اس کے بعد ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے سنہ 12 ہجری میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔

ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں کئی اہم اسباق سکھاتی ہے۔ ان کی کہانی رشتوں کی پاسداری، وعدہ وفائی، سچائی اور دیانت کی بہترین مثال ہے۔ ان کا قبولِ اسلام تدریجی تھا، جو حق کی معرفت اور مسلمانوں کے حسنِ اخلاق کے مشاہدے کے نتیجے میں حاصل ہوا۔ ان کی زندگی یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی دعوت لوگوں کے دلوں کو کس طرح نرم کرتی ہے اور کس طرح صبر و حکمت سے حق کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ آپ کی ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاندان سے قربت، آپ کی صاحبزادی سے محبت اور بالآخر اسلام کے لیے ان کی فداکاری کی ایک خوبصورت داستان ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن اسحاق، السيرة النبوية (سیرت ابن اسحاق)
  • ابن ہشام، السيرة النبوية (سیرت ابن ہشام)
  • ابن کثیر، البداية والنهاية (تفسیر ابن کثیر میں بھی واقعات کا ذکر ہے)
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری)
  • البخاری، صحیح البخاری (غزوہ بدر اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ہار کا واقعہ)
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب
  • ابن الأثیر، أسد الغابہ فی معرفة الصحابۃ
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ