وہب بن ابی سرح رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت وہب بن ابی سرح رضی اللہ تعالی عنہ قبیلہ قریش کی شاخ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا پورا نام وہب بن عبداللہ بن ابی سرح تھا۔ آپ کے والد کا نام عبداللہ تھا اور ‘ابی سرح’ آپ کے دادا کی کنیت تھی۔ اس طرح آپ کو وہب بن ابی سرح کے نام سے جانا گیا۔ آپ کی والدہ کا نام اُمِّ حارث بنت حارث بن حبیب تھا۔ آپ کا نسب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے، بعض روایات کے مطابق آپ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ آپ عرب کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی مکہ میں گزاری۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت وہب بن ابی سرح رضی اللہ تعالی عنہ نے آغازِ اسلام میں ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول فرمایا اور السابقون الاولون میں شامل ہوئے۔ آپ ان خوش نصیب اصحاب میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی مراحل میں اسلام کی خاطر بے پناہ مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا۔ مکہ میں کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر، جب مسلمانوں کو حبشہ ہجرت کی اجازت ملی تو حضرت وہب بن ابی سرح رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی خاطر دوسرا ہجرت حبشہ میں حصہ لیا۔ آپ وہاں ایک عرصے تک مقیم رہے اور صبر و استقامت کے ساتھ دین پر قائم رہے۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے کافی عرصے بعد، غزوہ خیبر (7 ہجری) کے وقت حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں حبشہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ آپ کی حبشہ کی ہجرت اسلام کے لیے عظیم قربانی اور عزم کی نشانی ہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
مدینہ منورہ واپسی کے بعد، حضرت وہب بن ابی سرح رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلامی ریاست کی مخلصانہ خدمات انجام دیں۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ کئی اہم غزوات میں شریک ہوئے۔ ان میں فتح مکہ، غزوہ حنین، غزوہ طائف اور غزوہ تبوک جیسے بڑے معرکے شامل ہیں۔ ان تمام غزوات میں آپ نے شجاعت، بہادری اور وفاداری کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ آپ دین کی سربلندی اور جہاد فی سبیل اللہ میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ آپ کا شمار اُن جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی حفاظت کے لیے اپنی جان و مال کی کوئی پرواہ نہ کی۔ آپ تقویٰ، پرہیزگاری اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت کے لیے جانے جاتے تھے۔
میراث اور وصال
حضرت وہب بن ابی سرح رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد اور اطاعتِ الٰہی سے عبارت تھی۔ آپ کا وصال حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 27 ہجری میں ہوا۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے فتح افریقہ (تیونس اور الجزائر کا علاقہ) کے دوران جامِ شہادت نوش فرمایا، جہاں آپ اپنے بھائی عبداللہ بن ابی سرح کی قیادت میں شریک تھے۔ بعض دیگر روایات میں آپ کی وفات مصر میں واقع ہوئی بتائی جاتی ہے، جب کہ دیگر صحابہ کرام وہاں تشریف لے گئے تھے۔ آپ کی وفات ایک مجاہد فی سبیل اللہ کے طور پر ہوئی۔ آپ کی میراث آنے والی نسلوں کے لیے استقامت، قربانی اور اسلام سے گہری وابستگی کی ایک روشن مثال ہے۔
مستند حوالہ جات
- ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 4، صفحہ 1551۔
- ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جلد 5، صفحہ 432۔
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، جلد 6، صفحہ 491۔
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 4، صفحہ 206۔
- واقدی، کتاب المغازی، (فتح مکہ، غزوہ حنین اور طائف کے ابواب)۔
- طبری، تاریخ الامم والملوک (تاریخ طبری)، واقعاتِ غزوات اور فتوحات کے ضمن میں۔
