ورقة بن حابس رضی اللہ تعالی عنہ

معزز صارف، آپ نے جس شخصیت کا ذکر "ورقة بن حابس رضی اللہ تعالی عنہ” کے نام سے کیا ہے، تاریخی طور پر صحیح نام "ورقة بن نوفل” ہے جو ابتدائے اسلام کی ایک نہایت اہم شخصیت ہیں۔ بظاہر یہ ایک کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے، لہٰذا ہم یہاں آپ کے مطالبے کے مطابق ورقة بن نوفل رضی اللہ تعالی عنہ کی سوانح عمری پیش کر رہے ہیں، کیونکہ اسلامی تاریخ میں ورقة بن حابس نامی کوئی معروف شخصیت اس اہمیت کی حامل نہیں ملتی۔

ورقة بن نوفل ایک جلیل القدر عالم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کی سوانح حیات کا سب سے نمایاں پہلو وہ ہے جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی تھی۔

خاندانی پس منظر اور لقب

ورقة بن نوفل کا پورا نام ورقة بن نوفل بن اسد بن عبد العزٰی بن قصی تھا اور ان کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو اسد سے تھا۔ وہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، یعنی ان کے والد (نوفل) اور حضرت خدیجہ کے والد (خویلد) دونوں اسد بن عبد العزٰی کے بیٹے تھے۔ ورقة بن نوفل زمانہ جاہلیت کے ان چنیدہ افراد میں سے تھے جنہوں نے بت پرستی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور دینِ ابراہیمی (حنیفیت) کے پیروکار تھے۔ بعد ازاں انہوں نے نصرانیت قبول کر لی اور بائبل (تورات اور انجیل) کا گہرا مطالعہ کیا۔ وہ عبرانی زبان پر عبور رکھتے تھے اور عبرانی سے عربی میں ترجمہ بھی کیا کرتے تھے۔ ان کا کوئی مخصوص لقب معروف نہیں، تاہم انہیں اپنے علم اور دانائی کی وجہ سے مکہ میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ورقة بن نوفل مکہ میں پیدا ہوئے اور زمانہ جاہلیت میں پروان چڑھے۔ مکہ کی غالب اکثریت بت پرست تھی، لیکن ورقة ان چند افراد میں سے تھے جن کا دل بت پرستی سے مطمئن نہ ہو سکا۔ انہوں نے حق کی تلاش میں بتوں کی پوجا ترک کر دی اور دینِ حنیف کو اپنایا۔ وہ ایسے راستے کی تلاش میں تھے جو توحید اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بنیاد پر قائم ہو۔ اسی جستجو کے دوران، انہوں نے نصرانیت قبول کر لی اور پادری بن گئے تھے۔ وہ تورات اور انجیل کا گہرائی سے مطالعہ کرتے تھے اور ان کتب میں آخری نبی کی آمد اور ان کی نشانیوں کے بارے میں جو پیشین گوئیاں موجود تھیں، ان سے بخوبی واقف تھے۔ ان کی یہ ابتدائی زندگی حق کی تلاش، علم کی پیاس اور دینِ ابراہیمی کی پیروی میں گزری۔ اگرچہ انہوں نے باقاعدہ طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دینِ اسلام کو قبول نہیں کیا تھا (کیونکہ ان کا وصال اولین وحی کے فوراً بعد ہو گیا تھا)، تاہم انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی جو تصدیق کی، وہ اسلام کی صداقت پر ایک گواہی کی حیثیت رکھتی ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ورقة بن نوفل کا سب سے نمایاں اور تاریخی کارنامہ وہ ہے جو پہلی وحی کے نزول کے بعد پیش آیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں اپنی پہلی وحی (سورہ علق کی ابتدائی آیات) حاصل کرنے کے بعد خوفزدہ اور پریشان حالت میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سارا واقعہ سنایا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تسلی دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا زاد بھائی ورقة بن نوفل کے پاس لے گئیں۔

صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقة بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقة اُس وقت بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ورقة سے کہا: "اے میرے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔” ورقة نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: "اے میرے بھتیجے! تم نے کیا دیکھا؟” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل سے وہ واقعہ سنایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں دیکھا تھا۔ یہ سن کر ورقة بن نوفل نے فوراً پہچان لیا اور فرمایا:

"یہ تو وہی ناموس (فرشتہ) ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا۔ کاش میں اُس وقت تک زندہ رہوں جب تمہاری قوم تمہیں مکے سے نکالے گی!”

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "کیا وہ مجھے نکالیں گے؟” ورقة نے جواب دیا: "ہاں! جو بھی شخص وہ لے کر آیا جو تم لے کر آئے ہو، اُس کے ساتھ دشمنی کی گئی ہے۔ اور اگر میں تمہارے اُس دن تک زندہ رہا تو تمہاری بھرپور مدد کروں گا۔” ورقة بن نوفل کے یہ الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، اور خاص طور پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے، انتہائی اطمینان بخش اور نبوت کی ایک واضح تصدیق تھی۔ ان کے اس قول نے ابتدائی مرحلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مستحکم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بہت بڑا روحانی سہارا فراہم کیا۔

میراث اور وصال

ورقة بن نوفل رضی اللہ تعالی عنہ، نبوت کی اس عظیم بشارت کے بعد زیادہ عرصے زندہ نہ رہ سکے۔ چند ہی دن بعد ان کا انتقال ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مزید وحی کا سلسلہ کچھ عرصے کے لیے رک گیا جسے "فترتِ وحی” کہا جاتا ہے۔

ورقة بن نوفل کی میراث اسلامی تاریخ میں ان کی اس گواہی کی صورت میں زندہ ہے جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے حق میں دی تھی۔ ان کا عمل اور اقوال اس بات کا ثبوت ہیں کہ اہلِ کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اپنی کتب کے علم کی روشنی میں آخری نبی کی آمد کو پہچانتے تھے اور حق کے متلاشی تھے۔ ورقة بن نوفل کے اس کردار نے ابتدائی مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مضبوط دلیل فراہم کی اور اسلام کی آفاقی سچائی پر ایمان کو تقویت دی۔ انہیں ایسے نیک لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے حق کو پہچانا اور اس کی تصدیق کی، اگرچہ وہ باقاعدہ طور پر طویل عرصے تک اسلام پر قائم نہ رہ سکے یا تمام احکامات پر عمل نہ کر سکے۔ بہت سے علماء انہیں ‘اہلِ فترت’ میں سے سمجھتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو دو نبوتوں کے درمیان کے وقفے میں زندہ تھے اور اللہ کی توحید کو مانتے تھے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی (وحی کے آغاز کی کتاب)، حدیث نمبر 3۔
  • صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 160 (عمدہ بن شعیب کی روایت میں).
  • السیرۃ النبویہ لابن ہشام (Sirat Ibn Hisham)، جزء اول، ذکر ورقة بن نوفل.
  • البدایہ والنہایہ لابن کثیر (Al-Bidayah wa an-Nihayah)، جزء ثانی، ذکر بدء الوحی.
  • تاریخ الطبری (Tarikh al-Rusul wa al-Muluk by Al-Tabari)، جزء ثانی، ذکر بدء النبوة.