واقد بن عبد الله رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
واقد بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی وقت میں اسلام قبول کیا اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ آپ کا مکمل نام واقد بن عبد اللہ بن عبد مناف بن عرین بن ثعلبہ بن یربوع بن حنظلہ بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم التمیمی الیربوعی تھا۔ آپ کا تعلق بنو تمیم کے ایک معزز قبیلے بنو یربوع سے تھا جو عرب کے بڑے اور بہادر قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ آپ کو "التمیمی” اور "الیربوعی” کے نسبی القاب سے پکارا جاتا تھا جو آپ کے خاندانی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ آپ کا شمار ان مہاجرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر مکہ چھوڑ کر مدینہ کی ہجرت کی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
واقد بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں، جو کہ کئی ابتدائی صحابہ کرام کے لیے عام ہے۔ تاہم، یہ بات یقینی ہے کہ آپ نے مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام کے ابتدائی دور میں ہی حق کو پہچانا اور حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔ آپ سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں) میں سے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے مکہ کے مشرکین کی طرف سے دیگر مسلمانوں کی طرح سخت مظالم اور تکالیف کا سامنا کیا۔ آپ نے دینِ اسلام کی خاطر ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو آپ نے بھی اپنے دین کو بچانے اور اسلام کی سربلندی کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
واقد بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کا سب سے نمایاں کارنامہ "سریہ نخلہ” میں ان کا کردار ہے۔ یہ واقعہ ہجرت کے بعد پیش آیا اور غزوہ بدر سے قبل رونما ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں آٹھ مہاجر صحابہ کرام کا ایک دستہ (جس میں واقد بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے) نخلہ کی طرف روانہ فرمایا، جس کا مقصد قریش کے قافلوں کی نگرانی اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔ اتفاق سے یہ دستہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کے آمنے سامنے آ گیا جس میں عمر بن الحضرمی، عثمان بن عبد اللہ اور نوفل بن عبد اللہ جیسے افراد موجود تھے۔ یہ واقعہ ماہِ رجب کے آخری دن یا شعبان کے پہلے دن پیش آیا۔ رجب ایک حرمت والا مہینہ تھا جس میں لڑائی منع تھی۔ صحابہ کرام کے درمیان مشورہ ہوا کہ آیا اس حرمت والے مہینے میں قریش پر حملہ کیا جائے یا نہیں؟ بالآخر، انہوں نے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس جھڑپ کے دوران، واقد بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے تیر مار کر عمرو بن الحضرمی کو قتل کر دیا جو قریش کے اس قافلے کا سرغنہ تھا۔ یہ اسلام میں کسی مشرک کا مسلمانوں کے ہاتھوں مارا جانے والا پہلا شخص تھا اور یہ مسلمانوں کی طرف سے لڑی جانے والی پہلی کامیاب جنگی کارروائی بھی تھی۔ اس واقعے پر ابتدا میں بعض لوگوں نے حرمت والے مہینے میں قتال کرنے پر اعتراض کیا، اور خود صحابہ کرام میں بھی ایک قسم کی تشویش پائی گئی۔ تاہم، اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سورہ البقرہ کی آیت 217 نازل فرما کر اس معاملے کی وضاحت فرما دی:
"يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ”
ترجمہ: "لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں قتال کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ اس میں قتال کرنا بڑا گناہ ہے، لیکن اللہ کے راستے سے روکنا، اس کا انکار کرنا، مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے، اور فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔”
اس آیت کے نزول نے واقد بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر صحابہ کرام کی کارروائی کو اللہ تعالی کی طرف سے تائید عطا فرما دی اور واضح ہو گیا کہ کفر و شرک اور اللہ کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا حرمت والے مہینے میں قتال سے بھی بڑا گناہ ہے۔
واقد بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام بڑے غزوات اور بیعت رضوان، فتح مکہ اور دیگر اہم مہمات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ آپ نے ہر موقع پر اپنی بہادری، شجاعت اور دین اسلام کے لیے غیر متزلزل وفاداری کا ثبوت دیا۔
میراث اور وصال
واقد بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک عظیم میراث چھوڑی۔ آپ ان بہادر مہاجرین میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ آپ کی زندگی، بالخصوص سریہ نخلہ میں آپ کا کردار، مسلمانوں کے لیے ہمت، عزم اور اللہ کے حکم پر عمل کرنے کی بہترین مثال ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں دین سیکھا اور اپنی پوری زندگی اللہ کی راہ میں جہاد اور خدمت میں صرف کر دی۔
آپ کے وصال کے حوالے سے مؤرخین میں کوئی ایک متفقہ تاریخ یا مقام نہیں ملتا۔ عام طور پر یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت یا بعض روایات کے مطابق حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت تک زندگی بسر کی اور طبعی وفات پائی۔ آپ نے ایک طویل اور باوقار زندگی گزاری جو اسلام کی خدمت اور فروغ کے لیے وقف تھی۔ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے جن کی قربانیوں اور خدمات کے سبب اسلام کا نور دنیا بھر میں پھیلا۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 3، سریہ عبداللہ بن جحش۔
- الطبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 2، واقعہ سریہ نخلہ۔
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، سریہ عبداللہ بن جحش الی نخلہ۔
- صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ زید بن حارثہ۔
- صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب قتل الکفار فی الاشهر الحرم۔
- ابن الاثیر، أسد الغابة فی معرفة الصحابة، واقد بن عبد اللہ۔
- ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الأصحاب، واقد بن عبد اللہ۔
- ابن حجر العسقلانی، الإصابة فی تمييز الصحابة، واقد بن عبد اللہ التمیمی۔
