نوفل بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت نوفل بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور عبد المطلب کے بڑے بیٹے حارث کے فرزند تھے۔ آپ کی والدہ کا نام غزیہ بنت قیس بن طریف تھا۔ آپ کا نسب قریش کے بنو ہاشم قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، جو شرافت اور عظمت کا حامل تھا۔ حارث بن عبد المطلب سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے قریش کے سرداروں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبد اللہ کو ہدیہ کیا تھا۔ اس لحاظ سے حضرت نوفل رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین رشتہ داروں میں تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی سخاوت اور بہادری کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت نوفل رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ بعثت نبوی سے قبل آپ بھی اپنے قبیلے کے دیگر افراد کی طرح مکہ کے معززین میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدائی طور پر آپ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور دیگر قریشی سرداروں کی طرح مسلمانوں کی مخالفت میں شریک رہے۔ غزوہ بدر میں آپ مسلمانوں کے خلاف قریش کی صفوں میں شامل تھے اور جنگ میں قید کر لیے گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے فدیہ کا حکم دیا تو حضرت نوفل نے عذر پیش کیا کہ ان کے پاس فدیہ ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے ایک خفیہ خزانے کے بارے میں بتایا جو انہوں نے مکہ میں دفن کیا تھا، اور فرمایا کہ وہی رقم فدیہ کے طور پر ادا کریں۔ حضرت نوفل یہ سن کر حیران رہ گئے کیونکہ اس جگہ اور خزانے کے بارے میں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک واضح دلیل تھی، تاہم اس وقت آپ نے اسلام قبول نہیں کیا اور فدیہ ادا کر کے مکہ واپس چلے گئے۔ غزوہ احد میں بھی آپ مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں میں شامل تھے۔
آپ کے قبولِ اسلام کا واقعہ فتح مکہ سے کچھ عرصہ قبل، سن 8 ہجری میں پیش آیا۔ آپ نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ ہجرت کی اور بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی ہجرت اور قبولِ اسلام پر خوشی کا اظہار فرمایا۔ اس طرح آپ نے اپنی دیرینہ مخالفت کا خاتمہ کر کے ایمان کی روشنی کو اپنایا اور پھر آخری سانس تک اسلام کے ایک سچے پیروکار اور مددگار رہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت نوفل رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی دینِ حق کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ آپ نے غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی۔ غزوہ حنین میں جب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد منتشر ہو گئی تھی، آپ ان چند جاں نثار صحابہ کرام میں سے تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے اور میدانِ جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
آپ کی سب سے نمایاں خدمت غزوہ تبوک کے موقع پر سامنے آئی جسے "جیش العسرہ” (تنگی کا لشکر) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس غزوہ میں مالی تنگی اور وسائل کی کمی کا سامنا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے لشکر کی تیاری کے لیے مالی امداد کی اپیل کی تو حضرت نوفل رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی سخاوت اور جذبہ ایمانی کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ آپ نے دس ہزار نیزے اور تیس ہزار درہم اللہ کی راہ میں پیش کیے۔ یہ اس وقت ایک بہت بڑی رقم اور سامانِ حرب تھا، جس سے مسلمانوں کو بڑی تقویت ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی اس قربانی پر بہت خوش ہوئے اور آپ کے لیے دعا فرمائی: "اللهم بارك في نوفل” (اے اللہ! نوفل میں برکت عطا فرما)۔ آپ کا یہ عمل تاریخ اسلام میں ہمیشہ سخاوت اور ایثار کی ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
میراث اور وصال
حضرت نوفل بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اسلامی خدمات جاری رکھیں اور خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلام کے استحکام کے لیے کوشاں رہے۔ آپ نے سن 15 ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کی نماز جنازہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھائی۔
آپ نے کئی اولادیں چھوڑی جن میں حارث، عبد اللہ، مغیرہ اور ربیعہ قابل ذکر ہیں۔ آپ کی میراث صرف آپ کی اولاد تک ہی محدود نہیں بلکہ آپ کا نام ایک ایسے صحابی کے طور پر اسلامی تاریخ میں زندہ ہے جنہوں نے ابتدائی مخالفت کے بعد جب اسلام قبول کیا تو اپنی تمام تر صلاحیتوں، وسائل اور جذبات کو اس کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کی سخاوت، بہادری اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم سبق اور ترغیب کا ذریعہ ہے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام)
- طبقات ابن سعد (الطبقات الکبریٰ لابن سعد)
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک للطبري)
- البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن الاثیر)
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)
