نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام نعیم بن مسعود بن عامر بن وائل بن عمرو بن غوث بن قتيبة الغطفاني الأشجعي تھا۔ آپ کا تعلق قبیلہ غطفان کی شاخ بنو أشجع سے تھا، جو عرب کے بڑے اور طاقتور قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ اپنے قبیلے کے سرکردہ اور بااثر افراد میں سے تھے۔ آپ اپنی ذہانت، فہم و فراست اور معاملہ فہمی کے لیے مشہور تھے۔ عرب معاشرے میں قبائلی نسب کو بہت اہمیت دی جاتی تھی اور نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ایک معزز اور معروف نسب کے حامل تھے۔ آپ کو کسی خاص لقب سے نہیں پکارا جاتا تھا، البتہ آپ کی غیر معمولی ذہانت اور حکمت عملی کی بنا پر آپ کی شخصیت کو بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی اپنے قبیلے، بنو أشجع میں گزری۔ آپ اپنی قوم کے ایک سردار اور صاحب رائے شخص تھے۔ اسلام قبول کرنے سے قبل آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف کئی محاذوں پر حصہ لیا۔ آپ کا قبول اسلام ایک غیر معمولی واقعہ سے منسلک ہے جو غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر پیش آیا۔ اس وقت جب کفار مکہ، قبیلہ غطفان اور دیگر قبائل کے لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کر رکھا تھا اور بنو قریظہ نے بھی مسلمانوں سے اپنا معاہدہ توڑ کر دشمن کا ساتھ دیا، تو مسلمانوں پر انتہائی مشکل وقت تھا۔ اسی نازک موقع پر نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور حق کی پہچان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ آپ کا قبول اسلام رات کی تاریکی میں ہوا تاکہ دشمن کو علم نہ ہو سکے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اب میں مسلمان ہو چکا ہوں، آپ مجھے جو حکم دیں گے، میں اس کی تعمیل کروں گا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ غزوہ احزاب کے دوران سامنے آیا۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ دشمنوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا: "جاؤ، جو چاہو کرو، کیونکہ جنگ تدبیر (فریب) کا نام ہے” (الحرب خدعة)۔

اس کے بعد نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے سب سے پہلے بنو قریظہ کے پاس گئے، جن سے ان کے پرانے تعلقات تھے اور وہ اس وقت تک کافروں کے ساتھ معاہدہ کر چکے تھے۔ آپ نے انہیں قریش اور غطفان کے بارے میں خبردار کیا کہ یہ لوگ جلد ہی محاصرہ ترک کر کے چلے جائیں گے اور بنو قریظہ کو مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے۔ نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے بنو قریظہ کو مشورہ دیا کہ وہ قریش اور غطفان سے کہیں کہ جب تک وہ اپنے کچھ سرکردہ افراد کو بطور ضمانت نہ دیں، بنو قریظہ جنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔

پھر آپ قریش اور غطفان کے سرداروں کے پاس گئے اور انہیں خبردار کیا کہ بنو قریظہ نے مسلمانوں سے صلح کا ارادہ کر لیا ہے اور وہ کفار کے چند سرداروں کو بطور ضمانت حاصل کر کے مسلمانوں کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

جب ابوسفیان (قریش کے سردار) نے بنو قریظہ کو پیغام بھیجا کہ وہ ہفتے کے دن مسلمانوں پر حملہ کرنے میں ان کا ساتھ دیں، تو بنو قریظہ نے نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے کے مطابق ان سے ضمانت کے طور پر کچھ سرداروں کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبے نے قریش اور غطفان کے دلوں میں شک پیدا کر دیا اور انہیں یقین ہو گیا کہ نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی بات درست تھی۔ یوں دونوں فریق ایک دوسرے سے بدظن ہو گئے اور ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔ اس حکمت عملی نے غزوہ احزاب کے نتائج پر گہرا اثر ڈالا اور کفار کا محاصرہ بالآخر ناکام ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد آپ غزوات اور سریات میں شریک رہے اور ایک وفادار صحابی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

میراث اور وصال

نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ایمان اور ذہانت سے امت مسلمہ کی گراں قدر خدمت انجام دی۔ ان کا غزوہ احزاب کا کارنامہ حکمت عملی اور تدبیر کی ایک عظیم مثال ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے سبق آموز ہے۔ آپ کی یہ ذہانت اور معاملہ فہمی اہل ایمان کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح مشکل ترین حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی مدد اور حکمت عملی کے ذریعے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

آپ کی وفات امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی، اگرچہ آپ کی وفات کے صحیح سن اور مقام کے بارے میں مؤرخین کے ہاں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں شرکت کی اور اسی کے بعد کوفہ میں وفات پائی، جبکہ کچھ کے مطابق آپ کی وفات اس کے بعد ہوئی۔ بہرحال، آپ نے ایک عظیم صحابی کی حیثیت سے دین اسلام کی خدمت میں اپنی زندگی گزاری اور اپنے پیچھے جہد مسلسل اور حکمت عملی کی عظیم میراث چھوڑی۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • البداية والنهاية از ابن کثیر
  • تاریخ طبری از محمد بن جریر طبری
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر