نعمان بن عصر رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عظیم صحابی حضرت نعمان بن مقرن المزنی رضی اللہ تعالی عنہ، جن کا ذکر عموماً نعمان بن مقرن کے نام سے مشہور ہے، بنو مزینہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جو مدینہ منورہ کے قریب آباد تھا۔ یہ قمنیٰ اور مزینہ کے درمیانی علاقے کے سرداروں میں سے تھے۔ ان کا سلسلہ نسب نعمان بن مقرن بن عائذ بن میسرة بن کعب بن غفار المزنی تھا۔ وہ اپنے قبیلے کے سرکردہ اور صاحبِ رائے افراد میں سے تھے۔ ان کے کئی بھائی بھی تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اور اسلامی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا، جن میں سوید بن مقرن، معقل بن مقرن اور سنان بن مقرن رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ بنو مزینہ وہ قبیلہ تھا جس نے اپنی کثیر تعداد کے ساتھ صلح حدیبیہ سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں خصوصی دعا فرمائی تھی۔ واضح رہے کہ ‘نعمان بن عصر’ کے نام سے کوئی معروف صحابی تاریخ میں مشہور نہیں ہیں، غالباً یہ ‘نعمان بن مقرن’ کا سہو کتابت یا سہو لسان ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی اپنے قبیلے بنو مزینہ میں گزری جو اپنی شرافت اور بہادری کے لیے مشہور تھا۔ اسلام کی دعوت جب ان کے قبیلے تک پہنچی تو حضرت نعمان رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے قبیلے کے ایک کثیر حصے نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی۔ یہ واقعہ ہجرت کے پانچویں یا چھٹے سال پیش آیا جب تقریباً ایک ہزار مزینہ قبیلے کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ "اللہم بارك فی مزینة” (اے اللہ! مزینہ میں برکت عطا فرما)۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت سے ہی اپنے ایمان، تقویٰ اور بہترین اخلاق کی وجہ سے مشہور ہو گئے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی زندگی دینِ حق کی خدمت کے لیے وقف کر دی اور متعدد غزوات و سرایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ ان کی شراکت فتح مکہ کے موقع پر بھی نمایاں تھی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ اسلامی فتوحات میں ان کی شجاعانہ قیادت اور جنگ نہاوند میں ان کی شہادت ہے۔ وہ ابتدائی اسلامی فتوحات کے عظیم کمانڈروں میں سے ایک تھے۔

  • قادسیہ کی جنگ: انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں جنگ قادسیہ میں ایرانیوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔
  • جنگ نہاوند (فتح الفتوح): امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں جب ایران نے اسلامی سلطنت کے خلاف ایک عظیم لشکر تیار کیا اور مسلمانوں کے لیے شدید خطرہ پیدا ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس عظیم جنگ کے لیے کمانڈر کا انتخاب کیا۔ اہل شوریٰ کے مشورے پر حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالی عنہ کو اس لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا گیا، جو تقریباً تیس ہزار مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ نہاوند میں ایرانیوں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب تھی اور انہوں نے ایک مضبوط قلعہ بندی کر رکھی تھی۔
  • عسکری حکمت عملی: حضرت نعمان رضی اللہ تعالی عنہ نے غیر معمولی عسکری حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے محاذ آرائی کے بجائے فریبِ پسپائی (feigned retreat) کا حربہ استعمال کیا، جس کے ذریعے ایرانیوں کو ان کی محفوظ پناہ گاہوں سے باہر کھلے میدان میں آنے پر مجبور کیا۔ اس تدبیر سے ایرانی فوج منتشر ہوگئی اور مسلمانوں کو ان پر حملہ کرنے کا بہتر موقع ملا۔
  • شہادت: جنگ زوروں پر تھی اور مسلمان ایک فیصلہ کن فتح کے قریب تھے۔ حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالی عنہ خود میدان میں فوج کی قیادت کر رہے تھے اور ان کے کلماتِ الوداعی ان کی دعا "اے اللہ! آج مجھے اسلام کو فتح اور اپنے دین کی مدد کے ساتھ شہادت عطا فرما” تاریخ میں محفوظ ہیں۔ ایک فیصلہ کن حملے کے دوران، انہیں ایک کاری زخم لگا اور وہ اپنے گھوڑے سے گر گئے۔ انہوں نے گرتے ہی اللہ اکبر کہا اور زخم کی شدت سے جامِ شہادت نوش فرما لیا۔ آپ کے بھائیوں میں سے ایک نے فوراً علم سنبھال لیا اور مسلمانوں نے عظیم فتح حاصل کی۔ یہ جنگ اسلامی تاریخ میں ‘فتح الفتوح’ (فتوحات کی فتح) کے نام سے مشہور ہوئی، کیونکہ اس نے ساسانی سلطنت کی کمر توڑ دی تھی۔

میراث اور وصال

حضرت نعمان بن مقرن المزنی رضی اللہ تعالی عنہ نے 21 ہجری (642 عیسوی) میں جنگ نہاوند کے میدان میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ ان کی شہادت ایک ایسی عظیم فتح کے ساتھ ہوئی جس نے اسلامی فتوحات کا رخ متعین کر دیا۔ ان کا نام اسلامی تاریخ کے ان عظیم جرنیلوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دینِ اسلام کی سربلندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی میراث جرأت، حکمتِ عملی، تقویٰ اور حبِّ الٰہی سے عبارت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے وصال کی خبر سن کر انتہائی دکھ کا اظہار کیا تھا۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالی عنہ ایک ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے کبھی عہدوں کی طلب نہیں کی؛ ایک بار جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں کسی علاقے کا والی بنانے کی پیشکش کی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور میدانِ جہاد میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی زندگی آج بھی مسلمانوں کے لیے جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں قربانی کی بہترین مثال ہے۔

مستند حوالہ جات

  • تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک) از امام محمد بن جریر الطبری
  • البدایہ والنہایہ از امام عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن کثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
  • اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ از ابن الاثیر
  • سیر اعلام النبلاء از امام شمس الدین الذہبی