مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو عبد الدار سے تھا۔ ان کا مکمل نام مصعب بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصی تھا۔ ان کی والدہ کا نام خناس بنت مالک تھا جو ایک دولت مند اور بااثر خاتون تھیں۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ مکہ کے سب سے حسین، خوش لباس اور خوشبو دار نوجوانوں میں سے تھے۔ ان کی پرورش انتہائی ناز و نعم اور عیش و عشرت کے ماحول میں ہوئی تھی۔ لوگ انہیں ان کی خوبصورتی، بہترین لباس اور شاہانہ طرز زندگی کی وجہ سے پہچانتے تھے اور وہ مکہ کی محافل کی زینت سمجھے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں بعض اوقات "مصعب الخیر” کے لقب سے بھی پکارا جاتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
مکہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے پیغام کو سنا۔ وہ نوجوانوں میں ممتاز تھے اور ذہانت و فطانت رکھتے تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں کچھ ایسا ہے جو روایتی مذہب سے ہٹ کر ایک نئی روحانیت اور سچائی لیے ہوئے ہے۔ انہوں نے ابتدائی دنوں میں ہی دارِ ارقم کا رخ کیا، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو تعلیم دیتے تھے اور ان سے ملاقات فرماتے تھے۔ اس وقت قریش کی شدید مخالفت کے پیش نظر انہوں نے اپنے قبولِ اسلام کو راز میں رکھا، خاص طور پر اپنی والدہ کے خوف سے جو بہت سخت گیر تھیں۔
دارِ ارقم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے بعد، حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ نے دل کی گہرائیوں سے اسلام قبول کیا اور کلمہ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد، عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ (یا ایک اور روایت کے مطابق کسی اور) نے انہیں نماز پڑھتے دیکھ لیا اور یہ خبر ان کی والدہ تک پہنچا دی۔ ان کی والدہ اور دیگر رشتہ داروں نے انہیں اسلام سے پھیرنے کی ہر ممکن کوشش کی، انہیں قید کیا، سختی کی اور دھمکایا۔ لیکن حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ انہوں نے اللہ کی رضا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اپنی تمام دولت، عیش و عشرت، بہترین لباس اور خاندانی راحت کو ترک کر دیا۔ وہ ایک ایسے حال میں پہنچ گئے جہاں انہیں پیوند لگے لباس پہننے پڑتے تھے اور غربت کی زندگی گزارنی پڑی۔ اس وقت آپ کا حال یہ تھا کہ جس شخص کو مکہ کی محافل کی رونق سمجھا جاتا تھا، اب وہ سادگی اور فقر کا نمونہ بن گیا تھا۔ یہ درحقیقت آپ کے عظیم ایثار اور قربانی کا آغاز تھا۔ آپ نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کرنے والوں میں بھی شمولیت اختیار کی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ اسلام کے پہلے سفیر کی حیثیت سے مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں اسلام کی اشاعت تھا۔ بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد اہل یثرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو انہیں قرآن کی تعلیم دے اور دینِ اسلام سمجھائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اہم فریضے کے لیے حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ کا انتخاب فرمایا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ ہجرت سے پہلے مدینہ پہنچے اور وہاں نہایت حکمت اور نرمی کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا۔ آپ نے اہل یثرب کو قرآن پڑھایا، نمازوں کی امامت کی اور انہیں اسلام کے اصول و احکام سے روشناس کرایا۔ آپ کی مخلصانہ کوششوں اور دلنشین اندازِ گفتگو کا یہ نتیجہ تھا کہ بہت کم عرصے میں اہل یثرب کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ اس سلسلے میں مشہور واقعہ یہ ہے کہ جب سردارانِ اوس سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر آپ کو اسلام کی دعوت سے روکنے آئے، تو آپ نے انہیں نرمی سے بٹھا کر قرآن کریم کی آیات پڑھ کر سنائیں اور اسلام کی حقانیت بیان کی۔ دونوں سردار آپ کے حسنِ کلام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسی وقت دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ان دونوں کے اسلام قبول کرنے کے بعد قبیلہ اوس میں اسلام تیزی سے پھیل گیا۔
حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ کی کامیاب سفارت نے مدینہ میں ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے راہ ہموار کی۔ تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی مسلمان موجود تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا شدت سے انتظار کیا جانے لگا۔ یہ آپ ہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو انہیں ایک تیار شدہ اسلامی معاشرہ ملا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی اور جنگی خدمات انجام دیں۔
غزوہ احد میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو مسلمانوں کا علمبردار بنایا گیا تھا۔ یہ ایک انتہائی اہم اور خطرناک ذمہ داری تھی، کیونکہ علمبردار کو سب سے آگے رہ کر جنگ کرنی پڑتی ہے۔ جب جنگ کے دوران مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دشمنوں کا حملہ شدید ہو گیا، تو حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ نے کمال ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور پرچمِ اسلام کو گرنے نہ دیا۔ ایک مشرک ابن قمیئہ نے انہیں حملہ کر کے ان کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا۔ پرچم ان کے بائیں ہاتھ میں تھا۔ جب ان کا بایاں ہاتھ بھی کاٹا گیا، تو انہوں نے پرچم کو اپنے بازوؤں میں تھام لیا تاکہ وہ زمین پر نہ گرے۔ بالآخر ابن قمیئہ نے انہیں نیزے کا ایک کاری وار کیا جو آپ کے جسم کے پار ہو گیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اس مشرک کو یہ غلط فہمی ہوئی تھی کہ اس نے (مصعب رضی اللہ تعالی عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شباہت کے باعث) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا ہے۔
میراث اور وصال
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت غزوہ احد میں 3 ہجری (625 عیسوی) کو ہوئی۔ آپ نے اپنی جوانی میں ہی جام شہادت نوش فرمایا، اس وقت آپ کی عمر تقریباً چالیس برس تھی۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید رنج ہوا۔ جب آپ کا جسدِ خاکی ملا تو وہ صرف ایک بوسیدہ چادر میں لپٹا ہوا تھا، جو اتنی چھوٹی تھی کہ اگر سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ چادر سے سر ڈھانک دیں اور پاؤں پر اذخر (ایک قسم کی گھاس) ڈال دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی: "مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا” (الاحزاب: 23) (مومنوں میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو سچا کر دکھایا، پس ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نذر پوری کر دی اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی)۔
حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث یہ ہے کہ وہ اسلام میں ایثار و قربانی، ثابت قدمی اور دعوت و تبلیغ کے ایک عظیم نشان ہیں۔ انہوں نے ایک پرآسائش زندگی کو ترک کر کے اسلام کی راہ میں سختیاں جھیلیں اور بالآخر شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔ وہ اسلام کے پہلے سفیر کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، جنہوں نے اپنی حکمت اور نرم خوئی سے مدینہ میں اسلام کی جڑیں مضبوط کیں اور ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ ہموار کی۔ ان کی مثال ہر مسلمان کے لیے ہے جو اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (Sirat Ibn Hisham)
- تاریخ طبری (Tarikh al-Tabari)
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر (Al-Bidayah wa al-Nihayah by Ibn Kathir)
- صحیح بخاری (Sahih Bukhari)
- سنن ترمذی (Sunan Tirmidhi)
- اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (Usd al-Ghabah fi Ma’rifat al-Sahabah)
