مسعود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

مسعود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں مدینہ منورہ (یثرب) میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور دین کی ترویج و اشاعت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کا نسب مسعود بن ربیع بن مسعود بن ربیع بن عامر بن عمیرہ بن جزی بن عامر بن زریق بن عبد حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم بن الخزرج سے جا ملتا ہے۔ آپ انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھتے تھے۔ انصار مدینہ کی وہ عظیم ہستیاں جنہوں نے ہجرت سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کا عہد کیا، ان میں آپ کا مقام نمایاں تھا۔ آپ کی کنیت ‘ابو بشیر’ تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

مسعود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے معروف سرداروں میں سے تھے۔ آپ اپنی قوم میں صاحب رائے اور باوقار شخصیت کے مالک سمجھے جاتے تھے۔ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب اسلام کی دعوت مدینہ منورہ پہنچی تو آپ نے بلا جھجک اسے قبول کیا۔ آپ ان اولین خوش نصیب انصار میں شامل تھے جنہوں نے سنہ 12 نبوی میں مکہ مکرمہ آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ اولیٰ کی بیعت کی تھی۔ یہ بیعت اسلام کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس نے مدینہ منورہ میں اسلام کے فروغ کی بنیاد رکھی۔

اس کے اگلے سال، سنہ 13 نبوی میں، آپ نے عقبہ ثانیہ میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر 70 انصاری مردوں اور 2 خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور آپ کو مدینہ ہجرت کی دعوت دی۔ اس بیعت میں مسعود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات انصار کے بارہ نقیب (سردار یا نمائندے) مقرر فرمائے تھے تاکہ وہ اپنی اپنی قوم کی رہنمائی کریں، اور ان بارہ نقبا میں مسعود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ یہ آپ کے قائدانہ صلاحیتیوں اور قوم میں آپ کے بلند مقام کی واضح دلیل تھی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

آپ کے قبولِ اسلام کے بعد کی زندگی سراسر دین کی خدمت اور جہاد فی سبیل اللہ سے عبارت ہے۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات میں شرکت فرمائی۔

  • غزوۂ بدر: آپ نے غزوۂ بدر میں شجاعت کے جوہر دکھائے، جو اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا اور جس میں انصار نے کلیدی کردار ادا کیا۔
  • غزوۂ احد: غزوۂ احد میں جب مسلمانوں کو ابتداء میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، تب بھی آپ میدان میں ثابت قدم رہے۔
  • غزوۂ خندق اور دیگر غزوات: آپ نے غزوۂ خندق اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور اپنی وفاداری اور بہادری کا ثبوت دیا۔

آپ کی خدمات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ تھیں بلکہ بحیثیت نقیب آپ نے اپنی قوم کی دینی تربیت اور رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ہجرت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات (بھائی چارے) کا رشتہ قائم کیا، جس کے ذریعے انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے بے مثال ایثار کا مظاہرہ کیا۔ مسعود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ بھی اس ایثار و قربانی کی روح کے امین تھے۔

میراث اور وصال

مسعود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے متعلق مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق آپ کا وصال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں فتح مکہ سے قبل ہی ہو گیا تھا، اور اسی روایت کو امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے "الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ” میں زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔ جبکہ بعض دیگر روایات کے مطابق آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت تک حیات پائی اور تقریباً 65 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ تاہم، اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایک بابرکت اور جہاد و دین کی خدمت سے بھرپور زندگی گزاری۔

آپ کی میراث ایک ایسے عظیم صحابی کی ہے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی دشوار گزار گھڑیوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا، مدینہ میں اسلام کی جڑیں مضبوط کیں، اور ایک نقیب کی حیثیت سے اپنی قوم کی رہنمائی کا حق ادا کیا۔ آپ کی زندگی مسلمانوں کے لیے دین پر استقامت اور فداکاری کا بہترین نمونہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، بیروت: دار الجیل، 1972، ج 2، ص 291-297۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، بیروت: دار صادر، 1968، ج 3، ص 604-605۔
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، بیروت: دار الجیل، 1992، ج 3، ص 1404-1405۔
  • ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، بیروت: دار الفکر، 1989، ج 4، ص 360-361۔
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، بیروت: دار الکتب العلمیہ، 1995، ج 6، ص 109-110۔
  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، بیروت: دار الفکر، 1986، ج 3، ص 198۔