مرارہ بن ربيع رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

مرارہ بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف انصاری قبیلے خزرج کی شاخ بنو بیاضہ سے تھا۔ آپ کا پورا نام مرارہ بن ربیع بن عدی بن زید بن عامر بن عجلان بیاضی خزرجی انصاری تھا۔ آپ کا شمار ان عظیم صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد آپ کی نصرت و حمایت کا فریضہ بخوبی انجام دیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

مرارہ بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل ہی اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ آپ ان انصار کے ابتدائی مسلمان میں سے تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا والہانہ استقبال کیا اور اسلام کی ترویج و تحفظ کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی کا عزم کیا۔ آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت تھی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد پر دیگر انصار کی طرح آپ کو بھرپور تعاون اور پناہ فراہم کی، جس کی وجہ سے آپ کا شمار انصاری صحابہ کے اجل افراد میں ہوتا ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

مرارہ بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ ان بدری صحابہ میں شامل ہیں جنہوں نے غزوہ بدر، غزوہ احد اور غزوہ خندق سمیت تمام بڑے غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت فرمائی اور اپنی جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ آپ نے ہر میدان میں ثابت قدمی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔

آپ کی زندگی کا سب سے اہم اور نمایاں واقعہ غزوہ تبوک کے موقع پر پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومن سلطنت کے خلاف ایک عظیم الشان لشکر تیار کیا تھا۔ بعض صحابہ کرام، جن میں مرارہ بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے، کسی عذر کی وجہ سے اس غزوہ میں شریک نہ ہو سکے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ واپسی پر ان سے سلام کلام بند کر دیا۔ یہ نہایت کڑا امتحان تھا جو پچاس دن تک جاری رہا۔ اس دوران مرارہ بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ اپنے دو دیگر ساتھیوں، کعب بن مالک اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ انتہائی پریشانی اور ندامت میں رہے، یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں بھی ان پر بوجھل ہو گئیں۔ بالآخر، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور سورۃ التوبہ کی آیت 118 نازل ہوئی: "اور ان تینوں پر بھی (اللہ نے توجہ فرمائی) جنہیں (پیچھے) چھوڑ دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر بوجھل ہو گئیں اور انہوں نے یہ جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں سوائے اسی کی طرف (رجوع کرنے کے)، پھر اس نے ان پر توبہ کے لیے توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں، بے شک اللہ ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے”۔ اس واقعے نے مرارہ بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں ایک نیا باب کھولا اور انہیں توبہ قبول کرنے والوں کے اماموں میں شامل کر دیا۔ یہ واقعہ ان کی سچائی، ندامت اور اللہ کی رحمت پر غیر متزلزل ایمان کا عکاس ہے۔

میراث اور وصال

مرارہ بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ تبوک کے بعد ایک متقی اور پرہیزگار زندگی گزاری۔ آپ کو توبہ کی قبولیت کا شرف حاصل ہوا جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک عظیم انعام تھا۔ آپ کی وفات کے بارے میں مختلف روایات ہیں، تاہم اکثر مؤرخین کے نزدیک آپ نے امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں یا اس کے بعد تک حیات پائی۔ آپ کی زندگی جہاد، تقویٰ اور اللہ کی رضا کے حصول کی بہترین مثال تھی۔ آپ کی میراث سچائی، اللہ کی بخشش پر ایمان اور اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تفسیر ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایة والنھایة، جلد 5، ذکر المخلفین الثلاثة.
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 3، ذکر مرارة بن ربيع.
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابة في تمييز الصحابة، جلد 6، ترجمہ مرارة بن ربيع.
  • امام ذہبی، سیر أعلام النبلاء، جلد 2، ذکر مرارة بن ربيع.
  • تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)، ذکر غزوة تبوک و قصص المخلفین.