قیس بن سکن رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
سیدنا قیس بن سکن رضی اللہ تعالی عنہ جلیل القدر انصاری صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ کا مکمل نام قیس بن سکن بن قیس بن کعب بن قیس بن ثعلبہ بن کعب بن حارثہ بن ثعلبہ بن عمرو بن عامر تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلے خزرج کی شاخ بنو حارثہ سے تھا۔ اس نسبت سے آپ کو "الحارثی الخزرجی الانصاری” کہا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے ان فدائیانِ اسلام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سب کچھ پیش کر دیا۔ آپ کی شہرت بنیادی طور پر غزوہ احد میں آپ کی بے مثال قربانی اور دفاعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہے۔ آپ کو "شہیدِ احد” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
سیدنا قیس بن سکن رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں گزاری۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار مدینہ کے ان خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی دعوت کو ابتدائی مراحل میں ہی لبیک کہا۔ آپ ان ستر (70) انصاری صحابہ کرام میں شامل تھے جنہوں نے نبوت کے تیرہویں سال مکہ مکرمہ کے قریب عقبہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ یہ بیعت "بیعتِ عقبہ ثانیہ” کہلاتی ہے اور اس نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ اس بیعت میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور دفاع کا عہد کیا تھا، جس پر آپ نے بعد ازاں اپنی جان کی بازی لگا کر پورا کر دکھایا۔ ہجرتِ نبوی کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سیدنا قیس بن سکن رضی اللہ تعالی عنہ نے دیگر انصار کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا والہانہ استقبال کیا اور اسلامی اخوت کے عظیم الشان نمونے قائم کیے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
سیدنا قیس بن سکن رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی سربلندی اور نصرتِ دین کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، جو اسلام کی تاریخ کا پہلا اور فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس شرکت نے آپ کو "بدری صحابی” کے عظیم اعزاز سے نوازا۔
تاہم، آپ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ غزوہ احد (3 ہجری) کے موقع پر سامنے آیا۔ جب جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد میدان چھوڑ گئی، تو اس انتہائی مشکل اور نازک وقت میں سیدنا قیس بن سکن رضی اللہ تعالی عنہ ان چند بہادر اور فدائی صحابہ کرام میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔
روایات کے مطابق، اس دن آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ آپ نے اپنی تلوار سے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور اپنے جسم کو ڈھال بنا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو متعدد زخم آئے، آپ کے بدن پر تلواروں اور تیروں کے کئی نشان تھے۔ آپ نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور اس وقت تک لڑتے رہے جب تک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گر نہ پڑے۔ آپ کی یہ قربانی دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی سچی محبت اور وفاداری کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
میراث اور وصال
سیدنا قیس بن سکن رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ احد کے میدان میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ 3 ہجری میں سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر جلیل القدر شہداء احد کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ آپ کی شہادت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ نے بیعتِ عقبہ میں کیے گئے وعدے کو اپنی جان دے کر پورا کیا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اور بالخصوص آپ کی شہادت مسلمانوں کے لیے ایک لازوال مثال ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ حقیقی ایمان، وفاداری، اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہر قربانی دینے سے دریغ نہ کرے۔ آپ کی میراث سرفروشی، استقامت، اور حبِ نبوی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اسلامی تاریخ میں آپ کا نام ان عظیم صحابہ کرام کی فہرست میں شامل ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
مستند حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج 5، ص 337.
- ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ، ج 4، ص 407.
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج 3، ص 89 (غزوہ احد کے ضمن میں).
- طبری، تاریخ الامم والملوک (تاریخ طبری)، ج 2، ص 531 (غزوہ احد کے احوال میں).
- محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ، ج 3، ص 546.
