قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام قدامہ بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح قرشی جمحی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو جمح قبیلے سے تھا۔ آپ کے والد کا نام مظعون بن حبیب اور والدہ کا نام فاختہ بنت عامر تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ اور امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ سگی بہنیں تھیں، اس طرح حضرت قدامہ رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ آپ کے دو سگے بھائی عثمان بن مظعون اور عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہم بھی جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی ایام میں ہی کلمہ حق کو قبول کیا اور دین کی خاطر ہر قسم کی مصیبت برداشت کی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا قبولِ اسلام "السابقون الاولون” (یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے) میں شامل تھا، اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارِ ارقم میں تشریف نہیں لے گئے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس دور میں اسلام قبول کیا جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم تھا۔ آپ نے اپنے ایمان کی خاطر بے پناہ صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ اس وقت بھی ایمان پر ثابت قدم رہے جب دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم ڈھائے۔
حضرت قدامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی دین سے گہری وابستگی اور ثابت قدمی کا ثبوت دیتے ہوئے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت میں شرکت فرمائی۔ آپ کے ساتھ آپ کے بھائی حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے۔ بعد ازاں جب مسلمانوں کے لیے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور اپنے بھائیوں سمیت وہاں آباد ہوئے۔ آپ کی شادی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا سے ہوئی تھی جن سے آپ کی ایک بیٹی صفیہ پیدا ہوئیں۔ بعد ازاں آپ نے ہند بنت الولید بن المغیرہ سے بھی شادی کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی سربلندی اور اس کے دفاع کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ ان چند خوش نصیب صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت فرمائی۔ آپ نے غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام اہم معرکوں میں اپنی شجاعت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اسلام کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ کو بحرین کا والی (گورنر) مقرر کیا گیا۔ آپ کے دورِ ولایت میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جو اسلامی عدالتی نظام اور خلیفہ کی عدل پرستی کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ پر مدیرہ (جو شراب کی ایک قسم تھی) نوشی کا الزام لگا اور گواہ پیش کیے گئے۔ جب یہ معاملہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے علم میں آیا تو آپ نے حضرت قدامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مدینہ طلب فرمایا۔
حضرت قدامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ابتدائی طور پر اس آیت سے استدلال کیا: "جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جسے وہ کھا چکے جبکہ وہ پرہیزگار رہے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، پھر پرہیزگار رہے اور ایمان لائے، پھر پرہیزگار رہے اور احسان کرتے رہے، اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے” (المائدہ: 93)۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس آیت کی تفسیر یہ فرمائی کہ یہ آیت ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے پی تھی اور بعد میں اسے ترک کر دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت شراب کو حلال نہیں کرتی۔ جب حضرت قدامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات سمجھ لی تو حد نافذ کرنے پر راضی ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے شراب نوشی کی حد، جو اسی (80) کوڑے ہے، آپ پر نافذ فرمائی۔ یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عدل پرستی، شریعت کے نفاذ میں غیر جانبداری اور جلیل القدر صحابی حضرت قدامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی اطاعت و تسلیم کی روشن مثال ہے۔

میراث اور وصال

حضرت قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت، جہاد اور تبلیغ میں گزارا۔ آپ نے کئی عشروں تک اسلام کی روشنی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ نے خلفائے راشدین کے دور کو بھی دیکھا اور اسلام کی ترقی و فتوحات کے شاہد رہے۔
آپ کا وصال حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 36 ہجری یا 37 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ نے ایک بابرکت زندگی گزاری اور دینِ اسلام کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ آپ کی سیرت، خصوصاً عدل و انصاف کے حوالے سے آپ کا واقعہ، آج بھی مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ نے ایمان، ہجرت، جہاد اور تقویٰ کی ایک ایسی میراث چھوڑی جو آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
  • ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
  • ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابۃ