عیاض بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عیاض بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عیاض بن زہیر بن ابی شداد الفہری القرشی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو فہر سے تھا جو کہ نسبی اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت ابو زہیر تھی۔ آپ ان سائلین میں سے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت حاصل کی اور اس وجہ سے آپ کو السابقون الاولون (سبقت لے جانے والے پہلے مسلمان) میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ آپ کے لیے ایک عظیم الشان لقب اور اعزاز تھا جس کی بنا پر آپ کی دینی حیثیت اور فضیلت دوبالا ہو جاتی ہے۔ آپ کو بدری صحابی ہونے کا بھی شرف حاصل تھا، یعنی آپ نے غزوہ بدر میں شرکت فرمائی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عیاض بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور آپ نے اپنی ابتدائی زندگی زمانہ جاہلیت میں گزاری۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت کا آغاز فرمایا، تو حضرت عیاض رضی اللہ تعالی عنہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور تردّد کے، نبوت کے ابتدائی سالوں ہی میں اسلام قبول کر لیا۔ آپ ان چند خوش نصیب افراد میں شامل تھے جنہوں نے دارِ ارقم میں رسول اللہ ﷺ کے اسلام کی دعوت دینے سے قبل ہی ایمان کی دولت سے اپنے دلوں کو منور کر لیا تھا۔ مکہ میں مشرکین قریش کے مظالم جب حد سے بڑھ گئے اور مسلمانوں کے لیے دین پر قائم رہنا مشکل ہو گیا، تو حضرت عیاض رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ایمان کی پختگی اور دینِ حق کی خاطر دو مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت انتہائی مشکل اور قربانی طلب عمل تھا جو آپ کے بے پناہ صبر اور اللہ پر کامل توکل کا ثبوت ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عیاض بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اسلام کی خدمت اور اس کے دفاع میں گزری۔ آپ کے چند نمایاں کارنامے اور خدمات درج ذیل ہیں:

  • ہجرتِ حبشہ: آپ نے مشرکین کے ظلم و ستم سے بچنے اور اپنے دین کو محفوظ رکھنے کے لیے دو بار حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ ابتدائی مسلمانوں کی تاریخ میں ایک اہم باب ہے جو ان کی قربانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
  • غزوہ بدر میں شرکت: آپ کو غزوہ بدر میں شرکت کا عظیم شرف حاصل ہوا۔ یہ اسلام کی تاریخ کا پہلا اور سب سے اہم فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں مسلمانوں نے اللہ کی نصرت سے قلیل تعداد کے باوجود مشرکین کی بڑی فوج کو شکست دی۔ رسول اللہ ﷺ نے بدری صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا ہے۔
  • دیگر تمام غزوات: غزوہ بدر کے علاوہ، آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر، فتح مکہ اور دیگر تمام بڑے غزوات اور سرایا میں رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ آپ کی استقامت اور ثابت قدمی ہمیشہ مثالی رہی۔
  • بیعت رضوان میں شرکت: آپ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر ہونے والی بیعت رضوان میں بھی شرکت فرمائی، جس کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا ہے: "لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ” (الفتح: 18)۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی اعلاء کلمۃ اللہ اور سنت رسول ﷺ کی پیروی میں صرف فرمائی۔

میراث اور وصال

حضرت عیاض بن زہیر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی تقویٰ، جہاد، صبر اور ایمان کی مضبوطی کا بہترین نمونہ تھی۔ آپ ان عظیم صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی بنیادوں کو مضبوط کیا اور اپنی جان و مال کے ساتھ دینِ حق کی نصرت کی۔ آپ نے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 20 ہجری (641 عیسوی) میں وفات پائی۔ بعض روایات کے مطابق آپ کی عمر 60 سال تھی اور آپ نے مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کی خدمات اور قربانیاں اسلامی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جاتی رہیں گی، اور آپ کی زندگی مسلمانوں کے لیے دین پر ثابت قدم رہنے کی ایک روشن مثال ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام (السیرۃ النبویہ لابن ہشام)
  • تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک از محمد بن جریر الطبری)
  • البدایہ والنہایہ (از علامہ ابن کثیر)
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (از ابن الاثیر)
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ (از ابن حجر عسقلانی)
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (از ابن عبد البر)