عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عویم بن ساعدہ بن عیاش بن قیس بن نعمان بن زید بن امیہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ اوس کے بنو عمرو بن عوف شاخ سے تھا، جو انصار کے نمایاں قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ انصار میں سے ایک جلیل القدر صحابی اور اصحاب بدر میں شامل تھے۔ آپ کو انصاری اوسی کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی آپ کی سیرت و کردار پاکیزہ اور قابل تعریف تھا۔ جب مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت پہنچی تو آپ نے بغیر کسی تردد کے اسے قبول کر لیا۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے ہجرت مدینہ سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ستر انصار صحابہ کرام میں سے ایک تھے، جہاں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور دین اسلام کی نصرت کا عہد کیا۔ یہ بیعت اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا جس نے مدینہ منورہ کو اسلام کا مرکز بننے کی راہ ہموار کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت میں گزاری۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت فرمائی۔ آپ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک ہوئے، اور ہر موقع پر اپنی شجاعت اور ایمانی پختگی کا ثبوت دیا۔ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جن کے لیے قرآن مجید میں خاص تعریفی کلمات نازل ہوئے۔ سورہ توبہ کی آیت 108 میں مسجد قباء کے نمازیوں کا ذکر ہے کہ "فیہ رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المطہرین” (اس میں ایسے مرد ہیں جو پاکی حاصل کرنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)۔ تفسیری روایات کے مطابق، اس آیت میں جن پاکیزگی اختیار کرنے والے مردوں کا ذکر ہے، ان میں حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے کیونکہ وہ مسجد قباء کے متصل علاقے میں رہتے تھے اور طہارت و صفائی کا خاص خیال رکھتے تھے۔ آپ دین اسلام کے اولین محافظین میں سے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر مشکل میں مضبوطی کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا۔

میراث اور وصال

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے دین اسلام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور ایک باوقار اور پرہیزگار زندگی گزاری۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گزاری اور اہل مدینہ کے لیے نیکی اور تقویٰ کی عمدہ مثال قائم کی۔ آپ انصار کے روشن چہروں میں سے ایک تھے جنہوں نے دین کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ آپ نے لمبی عمر پائی اور تقریباً 45 ہجری میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کی وفات ان آخری اصحاب بدر میں سے ایک کی وفات تھی جو اس وقت تک زندہ تھے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • طبقات ابن سعد
  • البدایة والنهایة از ابن کثیر
  • اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ از ابن اثیر
  • الاستیعاب فی معرفة الاصحاب از ابن عبدالبر
  • تاریخ طبری