عمیر بن وہب رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
عمیر بن وہب رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عمیر بن وہب بن خلف بن وہب بن حذافہ بن جمح قرشی جمحی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو جمح قبیلے سے تھا، جو مکہ کے بااثر اور طاقتور قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کی ذہانت، عیاری اور شجاعت کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ قریش کے ان سرکردہ افراد میں سے تھے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شدید دشمنی رکھتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت "ابو مریم” تھی، جو آپ کی صاحبزادی مریم کے نام پر تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد وہب بن خلف قریش کے بڑے دشمنانِ اسلام میں شمار ہوتے تھے، اور آپ رضی اللہ عنہ اپنے والد کی طرح ابتدائی طور پر اسلام کے سخت مخالف تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
عمیر بن وہب رضی اللہ تعالی عنہ اپنی ابتدائی زندگی میں اسلام کے شدید مخالفین میں سے تھے اور مسلمانوں کو ایذا پہنچانے میں پیش پیش رہتے تھے۔ آپ نے غزوۂ بدر میں قریش کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور اس جنگ میں آپ کے بیٹے وہب بن عمیر مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہو گئے۔ غزوۂ بدر میں قریش کی شکست اور ان کے بڑے سرداروں کی ہلاکت کے بعد، عمیر رضی اللہ عنہ انتہائی غمزدہ اور غصے میں تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ انتہائی حیرت انگیز اور تاریخی ہے۔ غزوۂ بدر کے بعد، ایک دن آپ رضی اللہ عنہ صفوان بن امیہ کے ساتھ کعبہ کے قریب بیٹھے تھے اور قریش کی شکست پر بات کر رہے تھے۔ عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر مجھ پر قرض اور عیال کا بوجھ نہ ہوتا تو میں مدینہ جاتا اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر دیتا۔ صفوان بن امیہ، جو خود بھی اسلام کا شدید دشمن تھا، نے یہ سن کر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ میں تمہارے تمام قرض ادا کروں گا اور تمہارے اہل و عیال کی کفالت کروں گا۔ اس پر عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کو تیز کیا اور اسے زہر آلود کر کے مدینہ کا رخ کیا۔
جب عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں پہچان لیا اور ان کی مشکوک آمد پر انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر رضی اللہ عنہ سے ان کی آمد کا مقصد پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں اپنے بیٹے کو چھڑانے آیا ہوں۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صفوان بن امیہ کے ساتھ ان کی خفیہ گفتگو سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ تم نے صفوان سے یہ کہا تھا کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر دوں گا اور صفوان نے تمہارے قرض اور خاندان کی ذمہ داری اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ سن کر عمیر رضی اللہ عنہ حیران رہ گئے کیونکہ یہ گفتگو صرف ان دونوں کے درمیان ہوئی تھی اور کوئی تیسرا شخص وہاں موجود نہیں تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ علم کسی انسانی ذریعے سے نہیں ہو سکتا بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی ہے۔ اسی لمحے آپ رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ صفوان بن امیہ، جو مکہ میں عمیر رضی اللہ عنہ کی واپسی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہلاکت کی خبر کا انتظار کر رہا تھا، عمیر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر سن کر سخت مایوس ہوا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد عمیر بن وہب رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی آئی۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک سچے اور مخلص مسلمان بن گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ واپس مکہ جا کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں، جس طرح وہ پہلے اسلام کے خلاف جنگ میں سرگرم تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اجازت مرحمت فرمائی، اور آپ رضی اللہ عنہ مکہ واپس لوٹ گئے۔ مکہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور آپ کی کوششوں سے کئی لوگ اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہوئے۔ یہ آپ رضی اللہ عنہ کی دینِ اسلام کے لیے ایک عظیم خدمت تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی دعوت کے نتیجے میں آپ کا بیٹا وہب بن عمیر بھی مسلمان ہو گیا۔
عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنی بقیہ زندگی اسلام کی خدمت میں گزاری۔ آپ رضی اللہ عنہ جنگوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے اور اپنے قول و فعل سے اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کی حکمت اور فکری گہرائی کے سبب صحابہ کرام میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
میراث اور وصال
عمیر بن وہب رضی اللہ تعالی عنہ کی داستانِ قبولِ اسلام، اسلام کی سچائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزانہ علم اور ایمان کی طاقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنی سابقہ زندگی کو ترک کر کے ایک نئی، روحانی اور با مقصد زندگی کا آغاز کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا مکہ جا کر تبلیغ اسلام کا بیڑا اٹھانا آپ کی غیر متزلزل ایمان اور غیر معمولی جرأت کا مظہر ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ کا وصال کب اور کہاں ہوا اس بارے میں مؤرخین کی آراء مختلف ہیں۔ بعض روایات کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی، جب کہ بعض دیگر روایات کے مطابق آپ کا وصال حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے دور میں مصر میں ہوا، اور کچھ روایات کے مطابق شام میں۔ تاہم، اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابتدائی اسلامی فتوحات کے دوران طویل عمر پائی اور ایک صالح مسلمان کی حیثیت سے دنیا سے رخصت ہوئے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
