عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عمیر بن سعد بن عبید بن ثعلبہ بن حریش بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ الانصاری الخزرجی تھا۔ آپ کا تعلق انصار کے مشہور قبیلے بنو سلمہ سے تھا جو مدینہ منورہ کے قدیم اور معزز قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کا نسب معروف صحابی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کے نسب سے ملتا ہے۔ آپ کی والدہ کا نام اُمِّ عمیر بنت سعد بن عبدالرحمن تھا۔ حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ اپنی دینداری، تقویٰ، اور دنیاوی مال و متاع سے بے رغبتی کے باعث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں "زاہد الصحابہ” (صحابہ میں سے بڑے زاہد) کے نام سے مشہور تھے۔ آپ کی شخصیت میں سادگی، ایمانداری اور عدل کا عنصر غالب تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے قبل یا اس کے فوراً بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کی ابتدائی زندگی سے ہی آپ کے اندر تقویٰ، پرہیزگاری اور آخرت کی فکر نمایاں تھی۔ آپ نے چھوٹی عمر سے ہی قرآن کریم اور دین کا علم حاصل کرنے میں گہری دلچسپی لی۔ قبولِ اسلام کے بعد آپ نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے تابع کر دیا۔ آپ کی پرہیزگارانہ طبیعت اور دنیا سے بے اعتنائی نے آپ کو کم عمری ہی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایک منفرد مقام عطا کر دیا تھا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً تمام غزوات میں شرکت فرمائی۔ آپ جنگ اُحد، جنگ خندق اور بیعت رضوان میں شامل تھے اور ہر موقع پر اپنی شجاعت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، آپ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں حمص کی گورنری (والی) کا منصب سنبھالنا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب آپ کو حمص کا والی مقرر کیا تو آپ نے نہایت سادگی کے ساتھ اس عہدے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ایک مدت گزرنے کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حمص کے والئی عمیر بن سعد کا حال معلوم کرنے کے لیے ایک قاصد بھیجا تو اس نے واپس آ کر بتایا کہ حمص کا والی انتہائی غریب حالت میں ہے۔ اس کے پاس بوسیدہ لباس ہے، گھر کی حالت خستہ ہے اور وہ مسلمانوں کے بیت المال سے کوئی تنخواہ نہیں لے رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو مدینہ بلایا اور پوچھا کہ تم کیا سامان لے کر آئے ہو؟ حضرت عمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پاس موجود ایک تلوار، ایک ڈھال اور ایک چھاگل دکھا کر کہا کہ "یہی وہ سامان ہے جو میں اپنے ساتھ لے کر گیا تھا اور یہی واپس لے کر آیا ہوں۔” حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو مالی امداد کی پیشکش کی جسے آپ نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کے لیے اللہ ہی کافی ہے اور میرے پاس اتنی گنجائش موجود ہے کہ میں اپنے اہلِ خانہ کا خرچہ چلا سکوں۔ تاہم، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اصرار پر آپ نے کچھ مال قبول کیا۔

حضرت عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کی حمص کی ولایت کے دوران عدل، ایمانداری اور زہد اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ آپ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام مسلمانوں کے حقوق ادا ہوں اور کوئی بھی ضرورت مند محروم نہ رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آپ کی اس سیرت سے اس قدر متاثر تھے کہ انہوں نے فرمایا: "کاش میرے پاس عمیر بن سعد جیسے دس افراد ہوں جنہیں میں مسلمانوں کے امور کی دیکھ بھال کے لیے بھیج سکوں۔” آپ نے فرمایا تھا کہ "اگر میں چاہتا تو اپنا پیٹ بھر سکتا تھا، لیکن مجھے آخرت عزیز ہے۔”

میراث اور وصال

حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلامی معاشرے پر تقویٰ، سادگی، عدل اور دنیاوی مال و متاع سے بے رغبتی کا گہرا نقش چھوڑا۔ آپ کی سیرت، خصوصاً بحیثیتِ والی، آج بھی حکمرانوں اور رہنماؤں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ اقتدار و اختیار کے باوجود ایک شخص کس طرح دنیاوی رغبتوں سے خود کو پاک رکھ سکتا ہے اور صرف اللہ کی رضا کو ترجیح دے سکتا ہے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ابدی کامیابی پر ایمان کی زندہ مثال تھی۔

آپ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 20 یا 21 ہجری میں وفات پائی۔ آپ کو مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی، جنہوں نے ایک ایسے وفادار، متقی اور بے لوث خدمت گزار کو کھو دیا تھا جس کی مثال ملنا مشکل تھی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب
  • ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ