عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عمران بن حصین بن عبید بن خلف تھا۔ آپ کا تعلق بنو خزاعہ قبیلے سے تھا، جو مکہ کے ایک معزز اور بڑے قبیلوں میں سے ایک تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت ابو نجیع اور بعض روایات کے مطابق ابو عبد اللہ بھی مروی ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی زندگی دینِ حق کی خدمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں گزاری۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد حضرت حصین بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ بھی بعد میں فتح مکہ کے موقع پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فتح خیبر کے سال، یعنی ہجرت کے ساتویں سال (7 ہجری) میں مکہ مکرمہ میں اسلام قبول کیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ ہجرت فرما کر حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے قبولِ اسلام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو خوش آمدید کہا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے بہت خوش ہوئے۔ قبولِ اسلام کے بعد سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے خود کو مکمل طور پر دینِ اسلام کے لیے وقف کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کی اطاعت کی اور ہر جہاد میں شریک ہوئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی دینِ اسلام کے لیے خدمات اور نمایاں کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔

  • جہاد میں شرکت: آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے خیبر کے بعد ہونے والے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت فرمائی، جن میں فتح مکہ، غزوہ حنین، غزوہ طائف اور غزوہ تبوک شامل ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے قبیلے بنو خزاعہ کے پرچم بردار تھے۔
  • علم حدیث اور فقہ: آپ رضی اللہ تعالی عنہ جلیل القدر محدثین اور فقہاء صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث روایت کیں جو صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جن سے کثیر احادیث مروی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے تلامذہ میں بصرہ کے کئی کبار تابعین شامل ہیں۔
  • قضاء کی ذمہ داری: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں اور بعد ازاں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو بصرہ کا قاضی مقرر کیا گیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس اہم ذمہ داری کو کمال دیانتداری اور انصاف کے ساتھ نبھایا اور بصرہ میں علم و فقہ کی روشنی پھیلائی۔
  • عفت و تقویٰ اور صبر و شکر: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ اپنی بے مثال عبادت گزاری، زہد اور تقویٰ کے لیے معروف تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خصوصیت آپ کا صبر تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ تقریباً تیس سال تک ایک شدید بیماری (استسقاء یعنی پیٹ میں پانی بھر جانے کی بیماری) میں مبتلا رہے، جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ چارپائی پر لیٹے رہتے تھے، مگر اس طویل عرصے میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی بھی شکوہ نہیں کیا اور ہمیشہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہے۔ بعض روایات کے مطابق اس حالت میں فرشتے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو سلام کرتے تھے۔ یہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے بلند روحانی مقام کی دلیل ہے۔
  • فتنوں سے اجتناب: حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں کے درمیان فتنوں کا آغاز ہوا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کمال بصیرت اور حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر جانبداری اختیار کی اور لوگوں کو فتنوں میں حصہ لینے سے روکا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیشہ اتحاد و اتفاق اور امن کی تلقین کی۔

میراث اور وصال

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بصرہ میں گزارا، جہاں آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے قاضی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور علمِ دین کی اشاعت فرمائی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 52 ہجری یا 53 ہجری میں بصرہ میں ہوا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو وہیں دفن کیا گیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے امت کے لیے علم حدیث، فقہ اور صبر و شکر کی ایک لازوال میراث چھوڑی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے صبر، قناعت، علم اور دین پر استقامت کا بہترین نمونہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • مسند احمد بن حنبل
  • سیر أعلام النبلاء از امام ذہبی
  • أسد الغابة في معرفة الصحابة از ابن اثیر
  • الإصابة في تمییز الصحابة از ابن حجر عسقلانی
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • تاریخ الرسل والملوک از طبری