عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عمار بن یاسر بن عامر بن مالک العنسي المذحجي تھا۔ آپ کا تعلق یمن کے قبیلے بنو عنس سے تھا، جو مذحج کی ایک شاخ تھی۔ آپ کے والد حضرت یاسر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے بھائی کے گمشدہ اونٹ کی تلاش میں یمن سے مکہ مکرمہ تشریف لائے تھے اور وہیں مقیم ہو گئے تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپ نے بنو مخزوم کے سردار ابو حذیفہ بن المغیرہ سے معاہدہ ولاء (اتحاد) کیا اور ان کی آزاد کردہ کنیز حضرت سمیہ بنت خباط رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا، جن سے حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے۔ اس طرح آپ ایک آزاد کردہ کنیز اور ایک حلیف کے بیٹے تھے۔ آپ کی کنیت "ابو الیقظان” تھی اور آپ کو "حلیف بنی مخزوم” کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ آپ ان عظیم صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی اور انتہائی مشکل گھڑیوں میں اسلام قبول کیا اور بے پناہ مصائب کا سامنا کیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں بعثت نبوی سے قبل پیدا ہوئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا، تو حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والدین کے ہمراہ ابتدائی طور پر اسلام قبول کرنے والوں میں شامل ہو گئے۔ بعض روایات کے مطابق، آپ اولین دس افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ، آپ کے والد حضرت یاسر اور والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین، اسلام قبول کرنے کی وجہ سے قریش کے شدید مظالم کا نشانہ بنے، خصوصاً بنو مخزوم کے ہاتھوں، جن سے ان کا ولاء کا تعلق تھا۔ انہیں مکہ کی تپتی ریت پر لیٹایا جاتا، لوہے کی زرہیں پہنائی جاتیں اور ہر قسم کی اذیتیں دی جاتیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس سے گزرتے تو انہیں دیکھتے اور فرماتے: "صبرًا آلَ ياسر، فإن موعدكم الجنة” (صبر کرو اے آلِ یاسر! تمہاری ملاقات کی جگہ جنت ہے)۔ انہی مظالم کے دوران آپ کے والد حضرت یاسر رضی اللہ تعالی عنہ اور والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ابوجہل نے نیزہ مار کر شہید کیا اور یوں وہ اسلام کی پہلی شہیدہ بنیں۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حتیٰ کہ انہیں کفر کے کلمات کہنے پر مجبور کیا گیا، تاکہ انہیں موت سے بچایا جا سکے۔ جب وہ روتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ایسا کرنے پر دوبارہ مجبور کیا جائے تو پھر کہہ دینا۔ اس واقعہ کے بعد سورہ النحل کی آیت 106 نازل ہوئی: "مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ” (جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ سے کفر کرے مگر وہ جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو)۔ اس کے بعد آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزاری۔ مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کو اس وقت سب سے زیادہ پتھر اور مٹی لاتے ہوئے دیکھا گیا، جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرمایا تھا: "ويحَ عمارٍ تقتله الفئة الباغية، يدعوهم إلى الجنة ويدعونه إلى النار” (عمار پر افسوس، اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا، وہ انہیں جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اسے جہنم کی طرف بلائیں گے)۔ یہ پیش گوئی آپ کی شہادت کے وقت حرف بہ حرف پوری ہوئی۔

آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام بڑے غزوات میں شرکت کی اور اپنی شجاعت اور ثابت قدمی کا لوہا منوایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی آپ خلفائے راشدین کے دور میں اسلام کی خدمت میں سرگرم رہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں آپ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں آپ نے عدل و انصاف کے ساتھ حکمرانی کی۔ آپ فصاحت و بلاغت، تقویٰ اور شجاعت میں معروف تھے۔

آپ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے قریبی رفقاء میں سے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت کے آخری ایام میں پیش آنے والے فتنے میں آپ کا ایک اہم کردار تھا۔ بعد ازاں، جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر میں ایک سینئر کمانڈر کی حیثیت سے حصہ لیا۔ آپ کی موجودگی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے موقف کی حقانیت کی ایک بڑی دلیل سمجھی جاتی تھی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی سب کے علم میں تھی۔

میراث اور وصال

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت 37 ہجری میں جنگ صفین کے دوران ہوئی۔ آپ اس وقت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر میں شام کے گورنر امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر کے خلاف لڑ رہے تھے۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً 93 برس تھی۔ آپ کی شہادت اس نبوی پیش گوئی کی تکمیل تھی کہ "عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا”۔ آپ کی شہادت نے اسلامی دنیا میں گہرا اثر چھوڑا اور بہت سے مسلمانوں کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے موقف کی حقانیت کا مزید پختہ ثبوت بن گئی۔ آپ کا شمار ان عظیم صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی اور شدید ترین مصائب کے باوجود اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔

آپ نے بے شمار احادیث بھی روایت کیں اور آپ کا ذکر اسلامی تاریخ کی کتب میں ایک سچے، بہادر اور ثابت قدم مومن کے طور پر ہمیشہ عزت و احترام سے کیا جاتا ہے۔ آپ کی میراث سچائی، استقامت اور اللہ کی راہ میں بے مثال قربانی کی علامت ہے۔

مستند حوالہ جات

  • البدایہ و النہایہ از ابن کثیر
  • تاریخ الرسل والملوک از طبری
  • صحیح بخاری (کتاب الصلوٰۃ، کتاب الجہاد والسیر)
  • صحیح مسلم (کتاب الفتن)
  • سير أعلام النبلاء از الذہبی
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثير