عصمہ بن وبرہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عصمہ بن وبرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے، جنہوں نے ابتدائی دور اسلام ہی میں اپنے ایمان کی صداقت کا ثبوت دیا۔ آپ کا مکمل نام عصمہ بن وبرہ بن خالد بن عجلان بن زید بن الحارث بن کعب بن مالک بن سالم بن مالک بن نصر بن جذیمہ بن لیث بن سود بن أسلم بن حاف بن قضاعہ الجہنی تھا۔ آپ قبیلہ جہینہ سے تعلق رکھتے تھے، جو عرب کے معروف قبائل میں سے ایک تھا اور مدینہ منورہ کے اطراف میں آباد تھا۔ آپ کا تعلق بنو جذیمہ کی شاخ سے تھا۔ آپ کو "الجہنی” کے لقب سے پکارا جاتا تھا جو آپ کے قبائلی نسبت کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ کا کنیت ابو نمرہ یا ابو محمد بھی بیان کی جاتی ہے۔ آپ اپنی صداقت، شجاعت اور دین سے والہانہ لگاؤ کے لیے مشہور تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عصمہ بن وبرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات اگرچہ کم دستیاب ہیں، تاہم یہ بات مسلم ہے کہ آپ نے زمانہ جاہلیت میں بھی اپنے قبیلے میں نمایاں مقام حاصل کیا ہوگا۔ مدینہ منورہ کے قریبی قبائل میں سے ہونے کے ناطے، آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اسلام کے بارے میں بہت جلد آگاہی حاصل ہوئی۔ آپ ان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی اور اسلام کی ابتدائی پکار پر لبیک کہا۔ آپ نے مدینہ ہجرت سے قبل یا اس کے فوری بعد اسلام قبول کیا، اور یوں آپ سابقون الاولون کے زمرے میں شامل ہوئے۔ آپ کے قبولِ اسلام نے آپ کو ایک نئی زندگی عطا کی اور آپ نے اپنا تن من دھن اسلام کے لیے وقف کر دیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عصمہ بن وبرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی خدمت میں گرانقدر کردار ادا کیا۔ آپ ان بدری صحابہ میں شامل ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں شریک ہو کر اللہ تعالی کی خصوصی رضا حاصل کی۔ غزوہ بدر اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں شرکت کرنے والے صحابہ کے فضائل قرآن و حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ غزوہ بدر کے علاوہ، آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق سمیت دیگر تمام بڑے غزوات اور فتوحات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شانہ بشانہ حصہ لیا۔ آپ کی شجاعت اور وفاداری کی ایک اہم مثال غزوہ حدیبیہ کے موقع پر ملتی ہے۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر کیے گئے ‘بیعت رضوان’ میں شریک تھے، جہاں صحابہ کرام نے ایک درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ وہ میدان جنگ سے فرار نہیں ہوں گے۔ اس بیعت کی فضیلت قرآن مجید میں سورہ فتح کی آیات میں بیان کی گئی ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جہاد فی سبیل اللہ اور دین کی نصرت میں گزارا، اور ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور محبت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔

میراث اور وصال

حضرت عصمہ بن وبرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے طویل عمر پائی اور آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کی خدمات اور فضائل کو ہمیشہ یاد رکھا گیا۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں، جو بعد میں دیگر تابعین اور محدثین تک پہنچیں۔ آپ کی روایات حدیث کی کتب میں موجود ہیں اور آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جن کی زندگی امت مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ آپ نے اپنے پیچھے ایک ایسی وراثت چھوڑی جو ایمان، استقامت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت سے عبارت ہے۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام کے لیے کی جانے والی ہر قربانی دائمی اجر کا باعث بنتی ہے۔

مستند حوالہ جات

  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر، جلد 3، صفحہ 1085۔
  • اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن اثیر الجزری، جلد 3، صفحہ 429۔
  • الاصابہ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر العسقلانی، جلد 4، صفحہ 249۔
  • طبقات کبریٰ لابن سعد، جلد 2، صفحہ 256۔
  • سیر اعلام النبلاء للذہبی، جلد 2، صفحہ 123۔