عثمان ابو قحافہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ، جو اپنی کنیت "ابو قحافہ” سے مشہور ہیں، اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے والد گرامی ہیں۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو تیم قبیلے سے تھا، جو مکہ کے معزز قبائل میں شمار ہوتا تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب مرہ بن کعب پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے جا ملتا ہے۔ آپ کا اصلی نام عثمان تھا، جبکہ قحافہ نام کی کوئی بیٹی یا بیٹا نہ ہونے کے باوجود یہ کنیت مشہور ہوئی، جس کی وجہ عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ بغیر کسی اولاد کے بھی کنیت اختیار کر لیا کرتے تھے۔ آپ مکہ کے ان بزرگوں میں سے تھے جنہیں اپنے قبیلے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ زمانہ جاہلیت میں گزرا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابو قحافہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی عمر کا طویل حصہ زمانۂ جاہلیت میں بسر کیا۔ فتح مکہ کے دن تک آپ شرک پر قائم تھے۔ 8 ہجری میں جب مکہ فتح ہوا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ضعیف اور نابینا والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ روایت کے مطابق، آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کا ہاتھ پکڑے ہوئے مسجد حرام کی طرف جا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دیکھا اور فرمایا: "اے ابوبکر! تم نے ان بزرگ کو گھر ہی میں کیوں نہ رہنے دیا، میں خود ان کے پاس چلا آتا۔” حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرا ان کے پاس چل کر جانا زیادہ بہتر ہے۔” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو قحافہ کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اسلام کی دعوت دی، جسے انہوں نے بصد مسرت قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سر کے بال اور داڑھی سفید ہو چکی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس بڑھاپے کی سفیدی کو کسی چیز سے بدل دو (یعنی خضاب لگاؤ) مگر سیاہ رنگ سے بچو۔” اس واقعے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور صحابہ کرام کا اپنے بزرگوں کے احترام کا درس ملتا ہے۔ حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قبولِ اسلام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کسی بھی عمر میں کسی کو ہدایت دے سکتا ہے اور نبوت کی روشنی ہر عمر کے افراد تک پہنچی۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی طویل عمر کے آخری چند سال اسلام کے سائے میں گزارے۔ بڑھاپے اور بینائی کی کمزوری کے باعث آپ رضی اللہ تعالی عنہ جہاد یا دیگر حکومتی امور میں براہ راست حصہ نہیں لے سکے۔ آپ کی سب سے بڑی خدمت اور فضیلت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ایک صحابی رسول تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اور خلیفہ راشد کے والد تھے۔ آپ کا قبولِ اسلام فتح مکہ کے عظیم واقعے کا حصہ تھا، جو اہل مکہ کے لیے ایک مثال بنا کہ اسلام کے آغوش میں آ جانا ہی صحیح راستہ ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات گرامی اسلام کی فتح کی علامتوں میں سے ایک تھی، اور آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے فرزند ارجمند حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بے پناہ محبت و احترام حاصل رہا۔ آپ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے اور یہی آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اور اعزاز ہے۔
میراث اور وصال
حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے عظیم فرزند، خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کے بعد تک زندگی گزاری۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی وفات سے قبل یہ وصیت فرمائی تھی کہ ان کی جائیداد میں سے چھٹا حصہ حضرت ابو قحافہ کو دیا جائے۔ آپ کا وصال حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں 14 ہجری (بعض روایات کے مطابق 13 ہجری) میں مکہ مکرمہ میں ہوا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے تقریباً 97 سال کی عمر پائی اور انتقال کے وقت آپ کی بینائی جا چکی تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا آپ کی میراث کی وارث بنیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد کے بعد آپ کے آباؤ اجداد میں سے سب سے آخر میں وفات پانے والے حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالی عنہ ہی تھے۔ آپ کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کی رحمت اور ہدایت کسی بھی وقت کسی کو بھی مل سکتی ہے، اور اسلام قبول کرنا عمر یا حالات کا محتاج نہیں۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 3 و 4۔
- ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، جلد 4۔
- طبری، تاریخ الرسل والملوک۔
- صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب فتح مکہ۔
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 3۔
- مسند احمد بن حنبل۔
