عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عتبہ بن غزوان بن جابر بن وہب بن نسیب بن زید بن مالک بن الحارث بن عمرو بن عامر بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ تھا اور آپ کا تعلق قبیلہ بنو مازن بن منصور سے تھا۔ آپ قریش کے بنو نوفل کے حلیف تھے۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ آپ سابقون الاولون میں سے تھے اور اسلام قبول کرنے والے ابتدائی چند گنتی کے صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام صفیہ بنت حارث تھا۔ آپ کو عتبہ بن غزوان کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ ان عظیم ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ اسلام کے ابتدائی ایام میں ہی اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ پر ایمان قبول کر لیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ اسلام قبول کرنے والے ساتویں یا آٹھویں شخص تھے۔ آپ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب مسلمانوں کی تعداد انتہائی کم تھی اور انہیں قریش کے مظالم اور جبر کا سامنا تھا۔ آپ کو بھی دیگر نو مسلموں کی طرح شدید اذیتیں دی گئیں لیکن آپ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔

آپ نے حبشہ کی جانب پہلی ہجرت میں بھی شرکت کی تاکہ دین کی خاطر امن و سکون کی جگہ تلاش کی جا سکے۔ بعد ازاں، جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی جانب ہجرت فرمائی تو آپ بھی ہجرتِ مدینہ میں شامل تھے اور مدینہ منورہ پہنچنے پر نبی کریم ﷺ نے آپ کی مواخات (بھائی چارہ) حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کرائی۔ آپ نے غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر تمام غزوات میں نبی کریم ﷺ کے شانہ بشانہ شرکت فرمائی اور اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے۔ آپ کو تیر اندازی میں مہارت حاصل تھی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد اور خدمتِ اسلام سے عبارت تھی۔ آپ کے نمایاں کارناموں میں سب سے اہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں بصرہ کی بنیاد رکھنا اور اس کی ولایت (گورنری) سنبھالنا ہے۔

سنہ 14 ہجری (بعض روایات میں 16 ہجری) میں امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو چند سو مسلمانوں پر مشتمل ایک لشکر کے ساتھ عراق کی طرف روانہ فرمایا۔ آپ کو ہدایت کی گئی تھی کہ جہاں مسلمان جمع ہوں اور انہیں پانی کی فراوانی میسر ہو وہاں ایک چھاؤنی قائم کی جائے جو مستقبل میں مسلمانوں کا مرکز بن سکے۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک سرسبز و شاداب مقام کا انتخاب کیا جو دریائے دجلہ کے قریب واقع تھا اور جسے بعد میں بصرہ کے نام سے جانا گیا۔ آپ نے وہاں مسجد بنائی اور کچی اینٹوں سے گھر تعمیر کروائے۔ یہیں سے آپ نے فارس (ایران) کی فتوحات کے لیے لشکر روانہ کیے۔ آپ نے بصرہ میں رہتے ہوئے اُبلہ (Al-Ubulla) اور نہر المرأة (Nahr al-Mar’a) سمیت کئی اہم علاقوں کو فتح کیا اور ساسانی سلطنت کے خلاف اسلامی ریاست کی حدود کو وسیع کیا۔

بصرہ میں اپنی ولایت کے دوران، آپ نے ایک مشہور خطبہ ارشاد فرمایا جو آپ کی زہد و تقویٰ اور آخرت کی فکر کا عکاس ہے۔ اس خطبے میں آپ نے دنیا کی بے ثباتی، آخرت کی ابدیت اور تقویٰ کی اہمیت پر زور دیا۔ آپ نے فرمایا: "اے لوگو! یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اپنی آخرت کی فکر کرو، دنیا کی چمک دمک میں گم نہ ہو جاؤ۔”

میراث اور وصال

عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ نے بصرہ کی ولایت تقریباً تین سال تک سنبھالی۔ اپنی ذمہ داریوں کے دوران، آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے درخواست کی کہ انہیں اس عہدے سے سبکدوش کر دیا جائے تاکہ وہ اللہ کے راستے میں مزید جہاد کر سکیں یا کسی اور خدمت میں مصروف ہو سکیں، لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں دوبارہ بصرہ واپس جانے کا حکم دیا۔ تاہم، آپ نے کچھ وقت بعد دوبارہ اجازت طلب کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں مدینہ آنے کی اجازت دے دی اس شرط پر کہ وہ جلد بصرہ واپس لوٹ آئیں گے۔

سنہ 17 ہجری (بعض روایات کے مطابق 15 ہجری) میں، جب آپ مدینہ سے بصرہ واپس جا رہے تھے، راستے میں آپ کا وصال ہو گیا۔ آپ کی وفات حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔ آپ ایک جلیل القدر صحابی، ایک بہادر سپہ سالار، ایک دانشمند منتظم اور بصرہ جیسے اہم اسلامی شہر کے بانی کی حیثیت سے اپنی گراں قدر میراث چھوڑ گئے۔ آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ، جہاد اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا روشن نمونہ تھی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایة والنہایة
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
  • ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفة الأصحاب
  • ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ