عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبداللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب الہذلی تھا۔ آپ کا تعلق بنو ہذیل قبیلے سے تھا اور آپ بنو زہرہ کے حلیف (اتحادی) تھے۔ آپ کی والدہ کا نام اُم عبد بنت عبد وُد تھا، جس کی وجہ سے آپ کو کثرت سے ابن اُم عبد کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ آپ قریش کے سرداروں میں سے نہیں تھے بلکہ ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اسلام قبول کرنے سے قبل آپ عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔
آپ کے متعدد القاب تھے جو آپ کی شخصیت اور رسول اللہ ﷺ سے گہرے تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں سے نمایاں ترین صاحب النعلین (جوتے اٹھانے والے)، صاحب السواک (مسواک اٹھانے والے) اور صاحب الوساد (تکیہ اٹھانے والے) تھے، جو آپ کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مستقل قربت اور خدمت کی دلیل ہیں۔ آپ کو سید القراء (قاریوں کے سردار) اور عالم الامت (امت کے عالم) کے القاب سے بھی نوازا گیا، کیونکہ آپ قرآن اور دین کا گہرا علم رکھتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی غربت اور مشقت میں گزری۔ آپ مکہ کے ایک سردار عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ آپ کو اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں شمار کیا جاتا ہے، بعض روایات کے مطابق آپ چھٹے شخص تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کا اسلام قبول کرنا ایک معجزاتی واقعہ کے بعد ہوا جب رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو پیاس لگی اور انہوں نے آپ سے ایک ایسی بکری سے دودھ طلب کیا جو ابھی جوان نہیں ہوئی تھی اور اس نے بچے کو جنم نہیں دیا تھا۔ آپ نے انکار کیا کیونکہ وہ بکری آپ کی ملکیت نہیں تھی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اور بکری کے تھنوں میں دودھ اتر آیا۔ اس معجزے کو دیکھ کر آپ فوراً رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے انتہائی جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ آپ پہلے صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اعلانیہ کعبہ میں قریش کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، خاص طور پر سورۃ الرحمن کی تلاوت فرمائی۔ اس پر قریش نے آپ پر شدید تشدد کیا، لیکن آپ نے ہر قسم کی تکلیف برداشت کی اور دین حق سے پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ حبشہ کی دونوں ہجرتوں میں شامل تھے اور بعد میں مدینہ منورہ کی طرف بھی ہجرت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا: "جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ قرآن کو اس طرح پڑھے جس طرح وہ نازل ہوا ہے، اسے چاہئے کہ وہ ابن ام عبد (یعنی ابن مسعود) کی قرات کے مطابق پڑھے۔”
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی خدمات درج ذیل شعبوں میں نمایاں ہیں:
- قرآنی علوم میں مہارت: آپ قرآن کے سب سے بڑے قاری اور عالم تھے۔ آپ نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے قرآن سیکھا اور آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے چار صحابہ کرام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن ان سے سیکھو، اور ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ آپ کی قرات اس قدر مستند تھی کہ آپ کو "سید القراء” کہا جاتا تھا۔
- غزوات میں شرکت: آپ نے تمام بڑے غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ غزوہ بدر میں آپ نے ابو جہل کو، جو امت کا فرعون کہلاتا تھا، زخمی ہونے کے بعد سر تن سے جدا کیا اور اس کا سر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ یہ آپ کی شجاعت اور بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
- رسول اللہ ﷺ کی رفاقت: آپ کو رسول اللہ ﷺ سے غیر معمولی قربت حاصل تھی اور آپ اکثر سفر و حضر میں آپ کے ہمراہ رہتے تھے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے جوتے اور مسواک اٹھاتے اور آپ کی خدمت کرتے تھے۔ اس قربت نے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی سنت، احادیث اور ارشادات کا وسیع علم عطا کیا۔
- فقہ و اجتہاد: آپ فقہ کے بہت بڑے امام تھے۔ آپ کی فقہی بصیرت ایسی تھی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ وہاں لوگوں کو دین سکھائیں، قاضی کے فرائض انجام دیں اور بیت المال کے انچارج بھی رہیں۔ کوفہ میں آپ نے فقہ کا ایک عظیم مدرسہ قائم کیا، جس کے طلباء میں علقمہ بن قیس، اسود بن یزید اور مسروق بن اجدع جیسے کبار تابعین شامل تھے۔ آپ کی فقہی آراء اور اجتہاد نے بعد میں آنے والے فقہاء، خاص طور پر فقہ حنفی، پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
- حدیث کی روایت: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے بہت سی احادیث روایت کیں۔ آپ کی روایات کو محدثین نے انتہائی مستند قرار دیا ہے۔
میراث اور وصال
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم کے حصول اور اس کی ترویج میں صرف کیا۔ آپ کی سب سے بڑی میراث آپ کا علمِ قرآن، حدیث اور فقہ ہے۔ آپ نے کوفہ میں ایک ایسا علمی مرکز قائم کیا جس نے اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصے میں علمِ دین کی اشاعت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کے شاگردوں نے آپ کے علم کو نسل در نسل منتقل کیا، اور آج بھی ان کے اجتہادات اسلامی فقہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ آپ کو امت کے ان کبار صحابہ میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے دینِ اسلام کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا۔
آپ کا وصال 32 ہجری (بعض روایات کے مطابق 33 ہجری) میں مدینہ منورہ میں خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ آپ کی عمر تقریباً 60 سے 63 سال تھی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے ایک ایسی عملی اور علمی میراث چھوڑی جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- السيرة النبوية لابن هشام
- البدایہ والنہایہ لابن کثیر
- تاریخ الطبری
- اسد الغابة في معرفة الصحابة لابن الأثير
- سیر اعلام النبلاء للذهبی
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی
