عبدالله بن زبير رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے پہلے بچے تھے، جن کی ولادت پر مسلمانوں میں بے پناہ خوشی منائی گئی تھی۔ آپ کا پورا نام عبداللہ بن زبیر بن العوام تھا۔ آپ کے والد حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالی عنہ عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرام جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی) میں سے تھے اور حضرت رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ آپ کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہا ذات النطاقین کے لقب سے مشہور تھیں اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ اس طرح، آپ کا تعلق قریش کے بنو اسد قبیلے سے تھا اور آپ کا شجرہ نسب کئی حوالوں سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ملتا ہے۔ آپ کو "ابو بکر” کی کنیت سے پکارا جاتا تھا جو آپ کے سب سے بڑے بیٹے کے نام پر تھی۔ آپ کو آپ کی کثرتِ عبادت، تقویٰ، اور حرم مکی میں مسلسل قیام کی وجہ سے "حمامة المسجد” (مسجد کا کبوتر) کا لقب بھی دیا گیا، نیز "عابد الحرمين” (حرمین کا عبادت گزار) کے نام سے بھی معروف تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت ہجرت کے پہلے سال (1 ہجری) میں ہوئی۔ آپ کی پیدائش کے بعد، آپ کی والدہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا آپ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئیں، جہاں رسول اللہ ﷺ نے آپ کے منہ میں اپنی لعابِ مبارک ڈالی اور آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہ ‘تحنیک’ کا عمل تھا جو نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ آپ نے آنکھیں ایک ایسے گھرانے میں کھولیں جو ایمان، تقویٰ اور جہاد کا مرکز تھا، اور آپ کی پرورش براہ راست اسلامی ماحول میں ہوئی۔ کم عمری ہی سے آپ میں غیر معمولی ذہانت، جرات اور دین کی سمجھ کے آثار نمایاں تھے۔ آپ نے اپنی ابتدائی زندگی اصحابِ کبار کے درمیان گزاری اور ان سے براہ راست تعلیم و تربیت حاصل کی۔ گو آپ نے براہ راست نبی کریم ﷺ سے حدیث روایت کرنے کا شرف کم حاصل کیا، لیکن آپ نے خلفائے راشدین اور دیگر جلیل القدر صحابہ سے خوب استفادہ کیا۔ آپ بچپن سے ہی بہادری، سخاوت اور عبادت گزاری میں اپنی مثال آپ تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کے کئی ادوار میں اسلام کی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ ایک بہادر سپہ سالار، ایک مخلص حکمران اور ایک عظیم فقیہ و محدث کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
- فتوحات میں شرکت: آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں کئی اہم فتوحات میں حصہ لیا۔ ان میں افریقہ کی فتوحات نمایاں ہیں، جہاں آپ نے رومی جنرل گریگوری کے خلاف جنگ میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور اسے قتل کر کے اسلامی لشکر کے لیے فتح کا راستہ ہموار کیا۔
- جنگِ جمل اور صفین: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان ہونے والی جنگ جمل میں آپ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لشکر میں شامل تھے، جب کہ جنگ صفین میں آپ نے غیر جانبداری اختیار کی یا بعد میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حمایت کی۔
- خلافت کا دعویٰ اور حکومت: حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد، جب یزید بن معاویہ کے ظلم و جبر کے خلاف آوازیں اٹھیں، تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے مکہ مکرمہ میں یزید کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور خود کو خلیفہ منتخب کیا۔ آپ کی خلافت کا دائرہ حجاز، یمن، عراق، اور فارس کے کئی علاقوں تک پھیل گیا۔ آپ نے تقریباً نو سال تک حکمرانی کی اور اس دوران انصاف اور شریعت کی بالادستی قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
- تجدید کعبہ: یزید کے دور میں مکہ مکرمہ پر حملے کے دوران کعبہ کو نقصان پہنچا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے کعبہ کی از سر نو تعمیر کی اور اسے نبی کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق، حطیم کے حصے کو شامل کر کے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر استوار کیا۔
- عبادت اور تقویٰ: آپ اپنی کثرتِ عبادت، طویل قیام اللیل، روزوں کی پابندی اور تلاوتِ قرآن کے لیے معروف تھے۔ آپ کا حرم میں قیام اور عبادت کا شوق اس قدر تھا کہ آپ کو "حمامة المسجد” کہا جاتا تھا۔ آپ ہر میدان میں خواہ وہ جہاد ہو یا عبادت، صبر و استقامت کا پیکر تھے۔
میراث اور وصال
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا دور خلافت اموی حکمرانوں کی مخالفت اور مستقل کشمکش کا دور تھا۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے مشہور اور ظالم گورنر حجاج بن یوسف ثقفی کو مکہ کا محاصرہ کرنے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو شکست دینے کا حکم دیا۔ حجاج نے مکہ کا طویل محاصرہ کیا اور کعبہ پر منجنیقوں سے پتھر برسائے گئے۔ اس ہولناک محاصرے کے دوران حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے اکثر حامیوں نے انہیں چھوڑ دیا، لیکن آپ نے آخر وقت تک ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
شہادت سے قبل، آپ نے اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہا سے مشورہ کیا، جو اس وقت بہت ضعیف ہو چکی تھیں۔ آپ کی والدہ نے انہیں ثابت قدم رہنے اور دینِ حق پر مر مٹنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ ‘بیٹا! اگر تم حق پر ہو تو اللہ کی راہ میں لڑو اور کبھی بزدلی نہ دکھاؤ۔’ اس نصیحت نے آپ کو مزید حوصلہ دیا۔ آپ نے شجاعت اور بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
آپ کی شہادت 73 ہجری (692 عیسوی) میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ حجاج بن یوسف نے آپ کے جسدِ خاکی کو سولی پر لٹکا دیا تاکہ لوگوں میں خوف پیدا ہو، لیکن یہ عمل اس بات کی علامت بن گیا کہ آپ نے حق کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اور شہادت امتِ مسلمہ کے لیے ظلم کے خلاف مزاحمت، حق پر استقامت اور بے مثال بہادری کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ کی میراث میں تقویٰ، جہاد اور سنت کی پابندی کی وہ روشن شمع شامل ہے جو آج بھی سلف صالحین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مستند حوالہ جات
- تاریخ الطبری (محمد بن جریر الطبری)
- البداية والنهاية (ابن کثیر)
- سير أعلام النبلاء (الذهبي)
- الاستيعاب في معرفة الأصحاب (ابن عبد البر)
- أُسد الغابة في معرفة الصحابة (ابن الأثير)
- الكامل في التاريخ (ابن الأثير)
